سزائے موت پر پابندی کی بحث
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 17 / فروری / 2016
- 4562
دنیا بھر میں سزائے موت کے قوانین کو ختم کرنے کیلئے 70 سے زائد ممالک نے ایک قرارداد کے مسودے پر دستخط کئے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور کئی ممالک سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجرم کو سزائے موت دینے سے دنیا میں جرائم ختم نہیں کئے جا سکتے۔
امریکی میگزین ”فارن پالیسی“ نے سزائے موت اور پھانسی دینے کے حوالے سے ایک مضمون سپردقلم کیا ہے جس میں دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک کی ایک فہرست ترتیب دی ہے جس میں کشور حسین شاد باد اپنے شہریوں کو پھانسی دینے والوں میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پہلے نمبر پر پاکستان ہی کا دوست ملک چین ہے جس میں گزشتہ برس ایک ہزار دس افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، دوسری نمبرپر ایران کو قرار دیا گیا ہے جہاں 177 افراد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔ چوتھے نمبر پر عراق کا نام آتا ہے جس میں 65 افراد کو پھانسی دی گئی۔
عراق نے 2004 میں سزائے موت پر پابندی لگا دی تھی لیکن اس کے بعد لگ بھگ 270 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ پانچویں نمبر پر خود امریکہ کا نام ہے جہاں 53 افراد کو موت کی وادی میں دھکا دیاگیا۔ امریکہ میں پھانسی کی سزا مختلف ریاستوں میں صرف قاتلوں کو دی جاتی ہے لیکن کچھ ریاستوں میں دیگر جرائم پر بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ پاکستان میں پھانسی کی سزا کی موجودگی میں ممکن نہیں۔ برطانیہ میں سزائے موت نہیں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ برطانیہ سے پاکستان کے حوالے کئے جانے والے لوگوں کو سزائے موت دی جائے۔
پاکستان میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے، متعدد بین الاقوامی ادارے سزائے موت کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا کے 90ملکوں میں موت کی سزا کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ لگ بھگ اتنے ہی ملکوں میں ابھی تک مجرموں کو پھانسی دی جا رہی ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جنہیں گزشتہ بارہ برس کے دوران موت کی سزا دی گئی ہے جبکہ صرف پنجاب میں ایسے قیدیوں کی تعداد آٹھ ہزار کے قریب ہے۔ سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ پنجاب میں دی گئیں۔ اس وقت مملکت خداداد کی جیلوں میں قید پھانسی کے منتظر قیدیوں میں 42 عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور ایران کے بعد پاکستان سب سے زیادہ موت کی سزائیں دینے والا ملک بن گیا ہے۔ پاکستان میں 2004 میں 41 افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 15 کو پھانسی دی گئی جبکہ 2005 میں 481 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 52 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ 2006 میں 448 افراد موت کی سزا کے ”حقدار“ ٹھہرے جبکہ 82 کو پھانسی دے دی گئی۔ 2007 میں پہلے نو ماہ کے دوران کم از کم 109 افراد کو پھانسی کے پھندے میں جکڑا گیا جبکہ پورے ایک سال میں 113 افراد پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ 2006 میں صدر پاکستان نے 257 رحم کی اپیلوں کو نمٹایا اور صرف ایک شخص کی رحم کی اپیل منظور ہوئی اور وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر محمود تھا۔
پاکستان بھر میں 184 خواتین کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے جن میں 2007 تک 9خواتین کی سزا پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ایک قیدی بنام ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عملدرآمد 8 اکتوبر کے دن عین وقت پر صدر زرداری کے حکم پر روک دیا گیا۔ اس بات سے عندیہ ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سزائے موت کے قانون کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپنی کوششوں میں سنجیدہ تھی۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایسے جرائم میں اضافہ ہوا تھا جن کی سزا موت ہے اور مشرف کے عہد میں ہی زیادہ تر پھانسی کے قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد ہوا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 21 جون 2009 کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں سزائے موت کے قانون کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان قابل تعریف اور حوصلہ افزا تھا لیکن شاید مذہبی شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور ہنوز قانون کی تسلیم شدہ اور تحریری شکل میں موجود بنیادی خامیوں کے ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں۔ اس امر کا قوی امکان ہے کہ مقدمات میں منصفانہ نتائج حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے گی۔ وسیع پیمانے پر سزائے موت کے اطلاق نے قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی بجائے اسے کافی حد تک کمزور کیا ہے لیکن ایک خبر جسے ہم امید کی کرن قرار دے سکتے ہیں، وہ اخبار میں دیئے جانے والا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
میں وزیر داخلہ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اس ” زیرغور“ معاملہ کو ”جانے سے پہلے“ قانونی شکل دے دیجئے کہ بعض کال کوٹھریوں میں سزائے موت کے دس سے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی کوٹھری میں بند کیا گیا ہے جو صرف ایک قیدی کیلئے بنائی گئی تھی۔ سزائے موت پر عملدرآمد کے انتظار میں بہت سے قیدی پچیس سے تیس سال سے اپنی موت کے منتظر ہیں جن میں سے بعض تو سو برس کی عمر کو چھونے والے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جس ملک میں پانچ ہزار روپے کے عوض قرآن اٹھا کر جھوٹی گواہی دینے والے آسانی سے مل جاتے ہیں اور روایتی قبائلی دشمنی کی بنیاد پر مخالفین کو قتل کے جرم میں بے گناہ پھنسا دیا جاتا ہو وہاں سزائے موت انسانیت کا قتل نہیں توکیا ہے۔
میں بھی سوچتا ہوں، آپ بھی سوچئے.....
سب سے دلچسپ یہی غم ہے میری بستی کا
موت پس ماندہ علاقوں میں دوا لگتی ہے