ڈاکٹر پفاؤ کی ناقابل فراموش خدمات
- تحریر سید شاہد عباس
- بدھ 17 / فروری / 2016
- 4604
Leipzig جرمنی کا ایک شہر ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا چوہدواں بڑا شہر ہے۔ 9 ستمبر 1929 کو اس شہر میں ایک ایسی بچی نے آنکھ کھولی جس نے ہوش سنبھالنے کے بعد آسائشوں سے بھرپور زندگی ٹھکرا دی اور ایک ایسے معاشرے کا مستقل حصہ بن گئی جہاں کا رخ کرتے ہوئے لوگ گھبراتے ہیں۔ یہ معاشرہ اور ملک وطن عزیز پاکستان ہی ہے۔
صحافتی تعلیم میں اکثر سنا کہ کتا بندے کو کاٹے تو یہ خبر نہیں لیکن اگر کوئی انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ ایک ایسی خبر بنے گی جس میں ہر ایک کی دلچسپی ہو گی۔ اسی طرح اس خبر میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ آج کل پاکستانی یورپی ممالک کا ویزا حاصل کرنے کے لئے گھنٹوں لائن میں کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن قارئین کے لئے یہ واقعی حیرنی کی بات تھی کہ جرمنی جیسے ملک سے اس خاتون نے پاکستان جیسے ملک کا رخ کیا۔ وہ بھی 60 کی دہائی میں جب پاکستان اپنے قیام کی دو دہائیوں بعد بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ یہ یقیناً ایک ایسی بات ہے جو اہمیت کی حامل ہے۔
لائیپ زگ Leipzig سے کراچی کا سفر اس خاتوں نے کیوں طے کیا کیسے طے کیا یہ ایسے سربستہ راز ہیں جو اس 87 سالہ عورت کے چہرے کی جھریوں میں پنہاں ہیں۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس سے قدرت نے ایسا کام لینا تھا جو بہت کم لوگوں سے لیا جاتا ہے۔ وہ جذام کے مریضوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی ۔ کیوں کہ جنگ عظیم دوم کے دوران یہ تاثر نسبتاً مضبوط ہو گیا تھا کہ جذام ایک ایسا مرض ہے جس کا نہ تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی اس مرض کا شکار مریض کسی کام کے قابل رہتا ہے۔ یہ متعدی مرض ہے اور دوسرے بھی کسی ایسے مریض کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس مرض کے شکار مریض معاشرے میں تنہائی کا شکار ہوجاتے تھے۔ پاکستان میں بھی یہی رجحان تھا کہ اس مرض کا شکار مریضوں کے لئے الگ جگہ مخصوص کر دی جاتی تھی۔ اس طرح جذام کا شکار مریض معاشرے کی نفرت کا شکار ہو رہے تھے۔
راقم خود راولپنڈی میں ایک ایسی جگہ کا مشاہدہ کر چکا ہے جو ایسے مریضوں کی علاج گاہ ہے لیکن اس کو زبانِ عام میں " کوڑھوں کا احاطہ" کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پہ قیام پاکستان سے قبل کا ایک ایسا ہسپتال ہے جو جذام کے مریضوں کا علاج کرتا تھا۔ ہسپتال کو جہاں جذام کے مریضوں کا علاج ہوتا تھا کوڑھوں کا احاطہ بھی اسی لئے کہا جانے لگا کہ وہاں داخل کروانے کے بعد اقرباء بہت کم ملاقات کے لئے آتے تھے۔ راولپنڈی کی طرح بہت سے شہروں میں ایسے احاطے آج بھی موجود ہیں۔
پاکستان میں جذام کے علاج کے حوالے سے " میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر" کا آغاز 56ء میں ہو چکا تھا۔ 60ء کی دہائی میں اس جرمن عورت کے پاکستان آنے سے جذام کے خلاف گویا ایک جنگ کا آغاز ہؤا۔ مریضوں کا علاج ہو نے لگا۔ آج پاکستان میں یہ سینٹر جذام کے خلاف ایک علامت بن چکا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل منگھو پیرسینیٹوریم جذام کے مریضوں کی واحد امید تھی جو 1896 میں قائم ہؤا تھا۔ لیکن آج پورے پاکستان میں " میری ایڈیلیڈ لپروسی سینٹر" کے 150 سے زائد مراکز قائم ہیں۔ میکلورڈ روڈ کراچی سے ایک ڈسپنسری سے آغاز کرنے والا ادارہ آج ایک قومی سطح کی تنظیم کا روپ دھار چکا ہے۔
عالمی ادارہء صحت 1996 میں پاکستان کو ہرگز جذام سے پاک ملک قرار نہ دیتا اگر 1929 میں جرمنی میں پیدا ہونے والی ڈاکٹررتھ کیتھرینا مارتھا پفاؤ 60 کی دہائی میں پاکستان کا رخ نہ کرتیں۔60ء میں جب انہوں نے جذام کے مریضوں کی کالونی کا دورہ کیا تو پھر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ اور آج ڈاکٹر پفاؤ ایک علامت بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر پفاؤ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا جب کچھ لوگوں کو چنتا ہے تو پھر ان کا نام تاریخ میں رقم ہو جاتا ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے ڈاکٹر پفاؤ جیسے کردار پر آسائش زندگی چھوڑ کر لوگوں کی تکلیفیں مٹانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ آج اگر پاکستان میں جذام کا مرض نہ ہونے کے برابر ہے تو ایسا صرف اس بدیسی پاکستانی کی بدولت ممکن ہؤا ہے۔ 1988میں ڈاکٹر پفاؤ کو پاکستانی شہریت دی گئی۔ پاکستان اور جرمنی کے اعلیٰ ترین سول اعزازت کے علاوہ ڈاکٹر پفاؤ کو کم وبیش دس اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر نے پہلی مرتبہ جذام کے مریضوں کا نہ صرف باقاعدہ ریکارڈ اکٹھا کیا بلکہ بعد از علاج بھی ان کو معاشرے کے لئے سود مند بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شکوہ شکایت کرنا ہمارا شعار بن چکا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنا گوارا کیا ہے کہ ہم نے وطن عزیز میں مسائل سے نمٹنے کے لیے خود کتنی کوشش کی۔ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بیماریوں کی وجوہات خود اپنے ہاتھوں سے پیدا کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہی جو مسائل کے خاتمے کے بجائے ان کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ کیا ہم میں سے ایسا کوئی ہے جو پفاؤ کے نقش قدم پر چل سکے۔ کیا ہم میں سے ایسا کوئی نہیں جو ایدھی کی روش کو اپنا سکے۔ کیا ہم رمضان چھیپا کی طرح مخلوق کی خدمت کا عہد نہیں کر سکتے ؟ آخر کیوں ہم ہمیشہ یہ توقع رکھتے ہیں حکومتی سطح پہ کوئی ہماری مدد کو آئے۔ اپنے مسائل ہم خود کیوں حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔
ڈاکٹر پفاؤ نے اپنی مہم ساٹھ کی دہائی میں شروع کی لیکن اس کو قومی سطح پر 1971 میں پذیرائی ملی۔ اس دوران ڈاکٹر پفاؤ نے انتھک محنت کی۔ پھر ہم کیوں ابتدائی مشکلوں سے گھبرا جاتے ہیں۔ ڈاکٹر پفاؤ ایک رول ماڈل ہیں ان کے طریقے پر چل کر محروم لوگوں کے لئے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔