کویت میں ادبی پیش رفت

دیار غیر میں اردو کی شمع فروزاں کرنے والے چند ناموں میں ایک نمایاں نام افروز عالم کا ہے، جو بحیثیت شاعر نہ صرف کویت میں مشہور ہیں بلکہ ہندو پاک کے مؤقر رسائل کے ذریعہ ہم عصر اردو شاعری میں بھی اپنا مقام محفوظ کرا چکے ہیں۔

جس طرح دنیا کے بیشتر ممالک میں اردو سے محبت کرنے والے اصحاب نے بغیر کسی سرکاری سرپرستی یا امداد کے اردو کی انجمنیں قائم کر رکھی ہیں اور ان انجمنوں کے ذریعہ اردو زبان و ادب کو فروغ دینے میں کوشاں رہتے ہیں، ویسے ہی اردو کی ایک نئی مگر بڑی بستی کویت بھی ہے۔ عربی زبان والا یہ معروف خطہ ’’کویت‘‘ اردو ادبا اور شائقین کے حوالے سے کتنا زرخیز رہا ہے اس کا اندازہ افروز عالم کی زیر نظم کتاب ’’کویت میں ادبی پیش رفت‘‘ سے ہوتا ہے۔ تقریباً 400 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کویت کی ریڈیو اردو سروس، کویت کے اخبارات و رسائل ، کویت کی ادبی انجمنوں سے حیرت انگیز طور پر واقفیت ہو تی ہے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں کویت کے ادیبوں کی نثری نگارشات مثلاً مضامین، افسانے، خاکے، کالم اور طنز و مزاح وغیرہ سے بھی محظوظ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اردو کی نئی بستیوں میں شاعری سے دلچسپی کے شواہد وقتاً فوقتاً ملتے رہتے ہیں مگر نثر نگاروں کی اتنی بڑی تعداد بمشکل ہی ملتی ہے۔ افروز عالم صاحب قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے نہ صرف کویت کی ادبی تاریخ جمع کر دی بلکہ بڑی تعداد میں نثری تحریروں کو یکجا کر کے کویت کی نثری تاریخ بھی مکمل کر دی۔ یہ کام انتہائی محنت کا ہے۔ افروز عالم کی محنت ، عرق ریزی اور لگن کو دیکھ کر ان کی اردو سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس ضخیم کتاب کو افروز عالم نے سات حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ مضامین، افسانے، خاکہ، کالم، مزاح اور رفتگان کویت کے عنوانات کے تحت کویت کے معروف ادیبوں کی چیدہ تحریروں کو جمع کرنے سے قبل انہوں نے خود اپنے قلم سے کویت کی ادبی نثری تاریخ کے مختلف گوشوں پر پانچ دقیع مضامین تحریر کئے ہیں۔ عرض مرتب اورد یباچہ کے بعد مذکورہ پانچ مضامین میں افروز عالم نے کویت کی نثری تاریخ، ریڈیو کویت کی اردو سروس، ریاست کویت کے اخبارات و رسائل اور ادبی انجمن کے تعلق سے ایسی گفتگو کی ہے کہ کویت میں اردو کی لسانی اور ادبی صورت حال سے کما حقہ واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ مضامین بالخصوص ان حضرات کے لئے بہت مفید ہیں جو دیار غیر میں اردو کی صورت حال پر تحقیقی نگاہ رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں کویت کی اردو ریڈیو سروس اور انجمنوں سے زیادہ وہاں سے شائع ہونے والے اخبارات و رسائل کی فہرست متحیر کرتی ہے کہ جہاں ہندو پاک میں اردو رسائل و اخبارات کی اشاعت میں تنزل اور عدم دلچسپی کا رونا رویا جاتا ہے، وہیں کویت جیسے چھوٹے سے ملک میں اتنے سارے ادبی رسائل و جرائد کی باقاعدگی سے اشاعت قابل داد ہے۔

افسانوں کے حصے میں سات افسانہ نگاروں کے نو افسانے شامل ہیں۔ یہاں تمام افسانہ نگاروں کی شخصیت اور ادبی خدمات پر مختلف اہم قلم نے تعارفی کلمات بھی تحریر کئے ہیں، جو افسانہ نگاروں سے واقفیت بہم پہچانے میں معاون ہیں۔ زیبا صدیقی، شاہجہاں جعفری ، شاہین رضوی، مرزا عمر بیگ، نظر بریلوی، وسیم صدیقی اور شاہد حنائی کویت کے وہ افسانہ نگار ہیں جن کی تحریریں تقاضا کرتی ہیں کہ انہیں عالمی سطح پر پیش کر کے اردو افسانے کے مین اسٹریم میں شامل کیا جائے۔

خاکہ، مزاح اور کالم کے حصے میں محمد عمر، منیر فراز اور شاہد حنائی کے پانچ کالم، شاہد حنائی کا ایک خاکہ اور خالد اکبر کے دو مزاحیہ مضامین زیب کتاب ہیں۔ آخری حصہ ’’رفتگان کویت‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں افروز عالم، سعید روشن، شاہد حنائی، مسرت جبیں زیبااور نور پرکار نے اُن نثر نگاروں کی ادبی خدمات سے متعارف کرایا ہے جو کویت چھوڑ کر چلے گئے۔ افروز عالم کی تحریریں اس ضمن میں زیادہ کارآمد ہیں کہ انہوں نے تفصیل سے کویت کی نثری تصانیف ، کویت کے شعرا و ادبا کی تصانیف اور کویت کی شاعرات پر قلم اٹھایا ہے۔ یہ تحریریں بلاشبہ اس کتاب کو کویت کی ادبی تاریخ کا مرقع بناتی ہیں۔

کتاب کے آخر میں کویت کے اخبارات سے منتخب کرکے چند ادبی خبروں کو پیش کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کویت میں اردو سے تعلق رکھنے والے ادارے، انجمنیں اور اہلِ قلم وقتاً فوقتاً ایسی تقریبات منعقد کرتے رہے ہیں جو زبان اردو کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔ ان تقریبات میں زیادہ تعداد شعری نشستوں اور اعزازیہ جلسوں کی ہوتی ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کویت کے اہلِ قلم نہ صرف مہمان نواز واقع ہوئے ہیں بلکہ مہمانوں کی نگارشات پر بے باک رائے اور تنقیدی گفتگو فرمانے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ ان تقریبات کی عمدہ جھلک آپ اس کتاب کے آخر میں شامل متعدد رنگین تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ افروز عالم کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے ، جنہوں نے کویت میں اردو ادب کی سمت و رفتار پر یہ گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے۔ اجنبی دیار میں اردو کے فروغ کے لئے جو لوگ کوششیں کر رہے ہیں وہ حوصلہ افزائی، داد اور تعریف و تحسین کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ نامساعد حالات اور ناشناسا چمن میں اردو کی کونپلیں پروان چڑھا رہے ہیں۔ ایسی کتابیں پڑھ کر اس حقیقت اور یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کہ ہمارا اردو ادب صرف برصغیر تک محدود نہیں ہے بلکہ دیار غیر میں افروز عالم جیسی شخصیات کی بدولت جو اردو زبان و ادب کے فروغ میں ہمہ وقت کوشاں ہیں اردو کی شمع اپنی روشنی چہار سوپھیلا رہی ہے۔

افروز عالم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ گراں قدر تاریخ کے ذریعہ خود بھی معتبر قلم کار ہو گئے ہیں۔ خدا کرے کہ ان کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے اور وہ اپنے نئے نئے کارناموں سے ہمیں حیران کرتے رہیں۔
 

(ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت کی ریاست بہار میں شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں)