اختیارات کا تصادم

وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے نیب کے خلاف بیان نے سیاسی فضا کو یکدم بدل دیا ہے۔ اختیارات کا تصادم ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا ہے۔ وزیراعظم لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر پاکستان کی اقتدارِ اعلیٰ کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ اختیارات کے سلسلے میں سب سے بڑا عہدہ ان کے پاس ہے۔ لیکن ہمیں ان اختیارات کی گرفت کے حوالے سے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے اختیارات اگر جمہوری عمل کا نتیجہ ہیں تو دوسری طرف وہ جمہور کو جواب دہ بھی ہیں۔ اسی لیے جمہوریت اور مطلق العنانیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ جہاں پر یہ فرق مٹ جائے وہاں جمہوری اقتدار کے اختیارات مطلق العنانیت میں بدل جاتے ہیں۔ میاں نوازشریف کے وزارتِ اعلیٰ سے وزارتِ عظمیٰ تک سفر میں ہم دیکھتے ہیں کہ کئی مواقع پر ان کا اختیارات کے مسئلے پر تصادم ہوا اور یوں ان کے ہمدرد سیاسی حلقوں نے اس کو ان کی اقتدار کے مراکز کے ساتھ لڑائی قرار دیتے ہوئے انہیں ہیروقرار دیا۔ ایسے ایک تصادم میں ان کو پابندِ سلاسل اور پھر اہل خانہ سمیت جلاوطن بھی ہونا پڑا۔

پاکستان کے سیاسی نظام میں اختیارات کی تقسیم اس لیے بھی طے نہیں ہوسکی کہ یہاں پر اقتدار کے مراکز کے مابین اختیارات کی تقسیم یا حقوق عملی طورپر کبھی طے نہیں ہوسکے۔ ملک میں طویل آمریتوں کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سول حکمران بھی اسی طاقت کے خواہاں ہوتے ہیں جو طاقت غیر سول حکمرانوں کو حاصل رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اختیارات یا اقتدار کا تصادم ان سول حکومتوں کے سربراہوں کے ادوار میں کسی عوامی مفاد میں نہیں بلکہ ذاتی اقتدارکو مزید قوت دینے کے لئے ہؤا۔ یعنی متعدد سول حکمران اسی کوشش میں رہے کہ اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرکے، اپنے سیاسی، حکمرانی اور اپنے اردگرد جڑے ٹولے کی ناجائز دولت کو اکٹھا کرنے کو استحکام دے سکیں۔

وزیراعظم نوازشریف کے نیب کے خلاف حالیہ بیان کے پیچھے بھی ایسی ہی کہانی ہے۔ اسی لئے تو وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی پارٹیاں نیب سے متعلق نئی قانون سازی کرکے نیب کے اختیارات کے پر کاٹنے کے لیے متحرک ہوگئی ہیں۔ دونوں پارٹیاں اس مسئلے پر تیزی سے ایک دوسرے کی مدد کرتی نظر آرہی ہیں کہ دونوں جماعتوں کے اعلیٰ لوگوں کے گرد نیب کاگھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ اگر سیاسی حکمرانوں کی اقتدار، اختیار یا طاقت کے مسئلے میں تصادم میں کہیں عوامی مفاد بھی موجود ہوتا تو یقیناً اس دوران عوام سیاسی حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ اگر سول حکومتیں اپنی طاقت کو اس حوالے سے استعمال کریں کہ ہم پاکستان کے بے زمین کسانوں کو ملکیت دینا چاہتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ اس راہ میں رکاوٹ ہے تو یقیناً ایسے میں پاکستان کے کروڑوں عوام سیاسی حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست سے دوچار کر دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اختیارات یا اقتدار کے تصادم کے پیچھے خاندانی، موروثی حکمرانی کو طاقتور بنانے اورلوٹ مار میں کھلی چھٹی حاصل کرنے کی نیت کار فرما رہی ہے۔ میاں نوازشریف کی حکومت، پنجاب میں کراچی کی طرز پر آپریشن کو محسوس کر رہی ہے کہ جہاں آپریشن کے دوران سابق حکمران جماعت کے سربراہ  آصف علی زرداری کے احباب قانون کی گرفت میں آچکے ہیں۔ اگر ایسا آپریشن پنجاب میں شروع ہوتا ہے تو پھر پنجاب کی صورتِ حال کراچی سے کہیں زیادہ حیران کن ہوگی۔ لوٹ مار، کرپشن اور دہشت گردی کے مابین قائم ہونے والا الحاق بے نقاب ہو سکتا ہے۔

پنجاب میں اس آپریشن کے لئے دن قریب آتے جارہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق درجنوں اعلیٰ ترین سرکاری افسران اور ان کے سرپرست سیاسی حکمران اور ان کے احباب کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ قانون کے شکنجے نیب کے ادارے کی طرف سے بھی تیار ہوچکے ہیں اور یہ شکنجے ایسے درجنوں افراد کو اپنی گرفت میں لینے والے ہیں جو ملکی دولت کولوٹنے اور جمہوریت کے نام پرسول حکمرانوں کے خزانوں کو ناجائز دولت سے مالا مال کرنے اورسول حکمرانوں کی اقتداری طاقت کو مضبوط تر کرنے میں مصروف ہیں۔ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اب ایک بار پھر ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر ایک دوسرے کے قریب ہو کر ان قانونی شکنجوں کو تحلیل کرنے کے لئے نیب کے اختیارات کو کمزور کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ دوسری طرف نیب نے دس روز کے اندر کرپشن اورلوٹ مار کے مقدمات نمٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اختیارات کا یہ تصادم حکمران طبقات کے اس اتحاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو جمہوریت کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ کاش وزیراعظم، کسانوں اور مجبور لوگوں کے حقوق کے لئے یہ تصادم برپا کرتے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو فاش شکست ہوتی اور عوام اپنے سیاسی حکمرانوں کے پیچھے نہیں بلکہ آگے کھڑے ہو کر لڑتے۔

اختیارات اور طاقت کے حصول کے اس تصادم کا سبب حکمران طبقات کے لوگوں کا تحفظ ہے نہ کہ عوام کا تحفظ۔۔ اگر ہماری کوئی بھی سول حکومت، اپنے عوام کی بہتری کے لئے طاقت کے مراکز کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو پاکستان وینزویلا بن سکتا ہے، جیسے وینزویلا کے ہوگوشاویز کو وہاں کے کسانوں نے جیل سے رِہا کروا کے فوجی بغاوتوں کوشکست دے دی۔ افسوس، ہمارے ان سول حکمرانوں کی داستانِ جدوجہد، ذاتی اقتدار کو تقویت، خاندانی سیاست کو فروغ اور خاندانی دولت کو وسعت دینے سے زیادہ نہیں۔ اسی لئے تو میاں نوازشریف وینزویلا کے شاویز نہیں بن سکے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اختیارات ، اقتدار اور حکمرانی کی طاقت کے حصول کے لئے میدان سج گیا ہے۔ یہ اکھاڑا اب پنجاب میں لگا ہے اور اب ہم دیکھیں گے کہ سیاسی تبدیلیاں حیران کن ہوں گی، غیر متوقع اور غیر یقینی سیاسی تبدیلیاں۔ اور اگر اس لڑائی میں عوام شامل ہوئے تو فیصلہ کن تبدیلیاں جو آئندہ انتخابات سے قبل ہی کئی معاملات کو طے کر دیں گی۔ میاں نوازشریف نے جو اعلانِ جنگ کیا ہے، اب فیصلے کا اختیار اُن کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اور اگر پنجاب میں آپریشن اورلوٹ مار کرنے والوں کو قانون اپنی گرفت میں لیتا ہے تو عوام کہاں کھڑے ہوں گے؟ یقیناًقانون کے ساتھ!