مادری زبان کا عالمی دن

انسانی تہذیب میں زبان رابطے کا سب سے اہم اور موثر ذریعہ ہے۔ زبان انسانی رابطے کا ایسا نظام ہے جس میں مخصوص الفاظ، آوازوں یا علامتوں کے ذریعے، چاہے وہ تحریری ہوں یا زبانی، انسانی جذبات، احساسات، خیالات، مشاہدات، افکار اور باہمی معاملات کے لئے ضروری معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ زبان انسان کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہے۔ اپنی منطق سے سوچنے سمجھنے، پرکھنے اور بولنے کی صلاحیت کی بناء پر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔

معاشرتی تنوع میں بلاشبہ زبان کا بہت اہم کردار ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی زبانیں وجود پاتی ہیں تو اسی طرح بہت سی زبانیں ختم بھی ہوتی جارہی ہیں۔ تاریخ انسانی کے آغاز سے لے کر آج تک ان گنت زبانیں معرضِ وجود میں آئیں اور صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ مادری زبان کسی بھی شخص کی وہ زبان ہوتی ہے جو اسے ورثے میں ملتی ہے یعنی جس گھرانے اور خاندان میں وہ پیدا ہوتا ہے وہ بچے کی مادری یا ماں بولی زبان کہلاتی ہے ۔

دنیا بھر میں 21 فروری 2000ء سے ہر سال مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد مادری زبان اور اس سے وابستہ ثقافتی و تہذیبی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے ۔پاکستانی ماہرین لسانیات کے مطابق ملک میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا میں کتنی ہی قومیںآباد ہیں اور ہر ایک قوم زبان کے اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہے ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریبا 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے ۔ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع ثقافت و روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے ۔یونیسکو کے مطابق 1950ء سے لیکر اب تک 230 مادری زبانیں ناپید ہوچکی ہیں۔

148اٹلس آف ورلڈ لینگویج ان ڈینجر 2009ء 147 کے مطابق دنیا میں 28 پاکستانی زبانوں سمیت دنیا کی 36 فیصد (2498) زبانوں کو اپنی بقاء کے لیے مختلف النوع کے خطرات لاحق ہیں۔ 24 فیصد (607) زبانیں غیر محفوظ جبکہ25 فیصد (632) ناپیدی کے یقینی خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے علاوہ 20 فیصد (562) زبانوں کو خاتمہ کا شدید خطرہ لاحق ہے ۔ 21.5 فیصد (538) زبانیں تشویش ناک حد تک خطرات کا شکار ہیں جبکہ 230( تقریباً10 فیصد زبانیں) متروک ہوچکی ہیں۔ یوں دنیا میں بولی جانے والی 57 فیصد زبانوں کو محفوظ گرداناجاتا ہے ۔ ہر زبان اپنے مطالب اور گرائمر رکھتی ہے اور ہر زبان کی ادائیگی اور لہجہ بھی مختلف ہے ۔ یہ زبانیں زیادہ تر قوموں اور خطوں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں ۔

دنیا میں سب سے زیادہ860 زبانیں پاپوا نیوگنی میں بولی جاتی ہیں جو کل زبانوں کا 12 فیصد ہے جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیا دوسرے ، 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے ، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکہ پانچویں نمبر پر ہے ۔ آسٹریلیا میں 275 اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جبکہ 37 کروڑ ہندی، 35 کروڑ ہسپانوی، 34 کروڑ انگریزی اور 20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی 11ویں اور اردو 19 ویں نمبر پر ہے ۔عالمی سطح پر زبانوں کی تعداد اور ان کو بولنے والوں کا تناسب انتہائی غیر متوازن ہے ۔ صرف 57 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور صرف 8 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے افراد کی تعداد 10 کروڑ سے زائد ہے جو کل عالمی آبادی کا 40 فیصد بنتا ہے ۔ عالمی سطح پر صرف 100 زبانوں کا استعمال تحریری شکل میں کیا جاتا ہے ۔

سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسے 48 فیصد افراد بولتے ہیں جبکہ 12 فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی، انگریزی، اردو، پشتو 8 فیصد، بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور ایک فیصد براہوی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 28 چھوٹی مادری زبانوں کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔ ان میں سے 7 زبانیں غیر محفوظ گردانی جاتی ہیں جن کو بولنے والے 87 ہزار سے 5 لاکھ تک ہیں۔ اس کے علاوہ 14 زبانوں کو خاتمے کا یقینی خطرہ لاحق ہے جن کو بولنے والوں کی تعداد کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 67 ہزار ہے۔ جبکہ 6 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے 200 سے 5500 کے درمیان ہیں ۔ یہ زبانیں ختم ہونے کے شدید خطرے کا شکار ہیں۔ مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28 ویں نمبر پر ہے جبکہ سب سے زیادہ 196 زبانوں کو بھارت میں خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ کی 191 برازیل کی 190 انڈونیشیا کی 147 اور چین کی 144 زبانوں کی بقا کو خطرہ ہے ۔

انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے ۔ یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے ۔دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جبکہ باقی لوگ ثانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولتے ہیں۔زبانوں پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے Enthologue کے مطابق ملکوں کے حوا لے سے انگریزی سب سے زیادہ 112 ممالک میں بولی جاتی ہے۔ اس کے بعد 60 ممالک میں فرنچ، 57 میں عربی، 44 میں ہسپانوی اور جرمن بھی 44 ممالک میں بولی جاتی ہے جبکہ اردو 23 ہندی 20 اور پنجابی 8 ممالک میں بولی جاتی ہے ۔

مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مددملتی ہے ،زبان کی آبیاری ہوتی ہے ،نیاخون داخل ہوتا ہے اورپرانا خون ضائع ہوتارہتاہے جس سے صحت بخش اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پذیر رہا ہے چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پزیر رہتی ہے ۔نئے نئے محاورے اور روزمرہ متعارف ہوتے ہیں ،نیا ادب تخلیق ہوتا ہے ،استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔

نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام، عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب انگریزی زبان میں ہے ۔ ہم کب تک انگریزوں کی بنائی ہوئی انگریزی کا پیچھا کریں گے ؟ ہمیں اردو زبان کے فروغ کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اردو کا مواد انٹرنیٹ پر برائے نام موجود ہے۔ اس کو فروغ دینے کے لئے بلوگنگ کے رجحان میں اضافہ کی ضرورت ہے ۔قوم پوری شدت سے چاہتی ہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقد کیے جائیں۔ابتدائی تعلیم مادری و علاقائی زبان میں اور ثانوی و اعلی تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔مادری وعلاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعرا و محققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے۔ ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیاجائے اور ان کے لئے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں ۔ دیگرعالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیاجائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیامیں اپنا آپ منوا سکے ۔