میڈیا کے منفی اثرات اور قومی ذمہ داری
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 22 / فروری / 2016
- 4920
" آپ سب کو پتہ ہے کہ ہمارا ٹی وی بیمار ہو گیا ہے۔ پوری دنیا میں ٹی وی میں ٹی بی ہو گیا ہے۔ ہم سب بیمار ہیں۔ میں کسی دوسرے کو بیمار بتا کر خود کوڈاکٹر نہیں کہ رہا ہوں۔ بیمار میں بھی ہوں۔ پہلے ہم بیمار ہوئے اب آپ بیمار ہو رہے ہیں۔ آپ میں سے کوئی نہ کوئی روز ہمیں مارنے پیٹنے اور زندہ جلادینے کا خط لکھتا رہتا ہے۔ اس کے اندر کا زہر کہیں ہمارے اندر سے تو نہیں پہنچ رہا ہے۔ میں ڈاکٹر نہیں ہوں۔ میں تو خود ہی بیمار ہوں۔ میرا ٹی وی بھی بیمار ہے۔ ڈبیٹ کے نام پر ہر دن کا یہ شور شرابہ آپ کی آنکھوں میں روشنی لاتا ہے یا اندھیرا کر دیتا ہے۔آپ شاید سوچتے تو ہوں گے۔ مباحث سے جوابدہی طے ہوتی ہے۔ لیکن جوابدہی کے نام پر اب نشاندہی ہو رہی ہے۔ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اس بحث کا آغاز تو صورت حال کو واضح کرنے کے لیے ہؤا تھا۔ لیکن جلد ہی یہ مباحث عوامی رائے کی موت کا کھیل بن گیا۔
عوامی رائے ایک طرفہ رائے کا نام نہیں ہے۔عوامی رائے میں کئی رائے ہوتی ہیں۔ مگر یہ ٹی وی ڈبیٹ عوامی رائے کے تنوع کو ختم کر رہا ہے۔ ایک فکر کی حکومت کو قائم کرنے میں جٹ گیا ہے۔ یہ سوال خود سے اور آپ سے کرنا چاہیے کہ یہ کیا دکھا رہے ہیں اور آپ کیوں دیکھتے ہیں۔ آپ کہیں گے آپ جو دکھاتے ہیں ہم دیکھتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ آپ جو دیکھتے ہیں ہم دکھاتے ہیں۔ اسی میں کوئی نمبر ون ہے تو کوئی میرے جیسا نمبر ٹین۔ کوئی ٹاپ ہے تو کوئی میرے جیسا فیل۔ اگر ٹی آر پی ہماری منزل ہے تو اس کے ہمسفر آپ کیوں ہیں۔ کیا ٹی آر پی آپ کی بھی منزل ہے۔ اسی لئے ہم آپ کو ٹی وی کی اس اندھیری دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں، جہاں تنہا آپ اس شور کو سن سکیں، سمجھ سکیں، اُس کی امیدوں اور خوف میں جی سکیں، جو ہم اینکروں کی جماعت روز پیدا کرتی ہے۔ آپ اس چیخ کو پہچانئے،اس شور کو سمجھئے ، اسی لئے میں آپ کو اندھیرے میں لے آیا ہوں"۔
یہ گفتگو اُس پروگرام کا کچھ حصہ ہے جو این ڈی ٹی پر دکھائے جانے والے پروگرام 'پرائم ٹائم ' سے لیا گیا ہے، جسے ایک سینئر جرنلسٹ رویش کمار پیش کرتے ہیں۔
معاشیات کا یہ اصول بارہا سنا جا چکا ہے کہ بازار میں جس چیز کی مانگ ہوتی ہے وہی فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن کیا آپ اور ہم بازار کے اس اصول کو نہیں جانتے جسے اجارہ داری کہتے ہیں۔ جہاں ڈیمانڈ کچھ بھی ہو، اس سے قطع نظر ، بازار میں موجود چیزیں ہی لو گ خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ رویش کمار کی یہ بات کہ کئی بار یہ سوال خود سے کرنا چاہیے کہ ہم جودکھا رہے ہیں وہ آپ کیوں دیکھتے ہیں؟ دراصل اسی اجارہ داری کا حصہ ہے جہاں لوگ دیکھنے پر مجبور ہیں اور ان کی مرضی نہیں چلتی۔ کئی مرتبہ دکھانے والے بھی مجبور ہوتے ہیں۔ وہ جو دکھانا چاہتے ہیں، ارادہ اور مواد کی فراہمی کے باوجود ، مختلف پالیسیوں کے پابند ہوتے ہیں۔ انہیں وہی کچھ کہنا اوردکھانا پڑتا ہے جو راست یا بلاوسطہ ان کے مالک چاہتے ہیں۔ یہ مالک بھی دو طرح کے ہیں۔ ایک ، فنڈ فراہم کرنے والے افراد و گروہ تودوسرے سیاسی لیڈران، ذمہ داران اورایجنٹ جو اِن دکھانے والوں کی وقتاً فوقتاً مختلف شکلوں میں مدد کرتے ہیں۔ لہذا عوام مجبورہیں کہ جو آپ دکھائیں گے وہی دیکھیں گے۔ البتہ لاتعداد نیوز چینلز کی موجودگی یہ موقع ضرور فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی پسند کا چینل چن سکیں۔ لیکن چونکہ فی الوقت ملک ایک خاص رخ پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے ، لہذا سستی اور کاہلی میں پڑے اہل ملک بھی اُسی بہاؤ میں بہنے کو تیار ہیں۔ یہ وہ تیسری اور سب سے تشویشناک صورتحال ہے جس کا تذکرہ بھی رویش کمار نے کیا ہے۔ یعنی یہ کہ آپ کہیں گے آپ جو دکھاتے ہیں ہم دیکھتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ آپ جو دیکھتے ہیں ہم وہی دکھاتے ہیں۔
نیوز چینلز اور اس میں شائع ہونے والی خبریں اور ان خبروں میں وہ تمام ناپسند چیزیں دیکھنے اور سننے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم زندگی کے ہر مرحلہ میں حد درجہ سہل پسندی کے عادی ہو چکے ہیں۔ خبروں کے نام پر شائع ہونے والی چیزیں اگرچہ ہمارا وقت خراب اورہمارے ذہنوں کو بوجھل کرتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم انہیں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ بے مقصد ٹی وی ڈبیٹس سننا ہمارا مشغلہ بن گیا ہے۔ اشتعال انگیزی جو کہیں نہ کہیں ہمارے رویوں میں خاموشی کے ساتھ چھپی بیٹھی ہے، ٹی وی ڈبیٹس ہمارے اس رویہ کو تسکین پہنچاتی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے کہ اشتعال انگیزی ہمارے رویوں میں چھپی نہیں بیٹھی توکیوں ہم اسی وقت کو یا اس سے بھی کچھ کم وقت میں اچھے مضامین نہیں پڑھتے؟ کیوں ہم ٹی وی نیوز کی جگہ اخبارات کا مطالعہ نہیں کرتے؟
اس کی دوبڑی وجوہات ممکن ہیں۔ ایک سہل پسندی جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔، وہ اس میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ویسے بھی ایک اخبار ہماری تسکین کے لیے شاید کافی نہیں ہے۔ ٹی وی اسکرین پر موجود بے شمار چینلز دلچسپی کے لحاظ سے ہماری تسکین کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پس یہی وجہ ہے کہ اہل اقتدار یا حزب مخالف ان ٹی وی چینلز پر براہ راست یا بلاواسطہ بے تحاشہ دولت صرف کرنے میں مصروف ہیں۔
موجودہ صورتحال کے پس منظر میں جس درجہ میں جو لوگ بھی اِن ٹی وی چینلز سے متاثر ہیں، انہیں اسی قدر زیادہ قوت اور تند دہی کے ساتھ میڈیا میں اپنے موقف کو پیش کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ جرنلزم کی بنیاد تو ہر زمانہ میں پرنٹ میڈیا ہی رہے گا۔ لہذا پرنٹ میڈیا میں مراسلات ، مضامین، سروے رپورٹس، جائزے، انٹرویو وغیرہ لکھنے اور انہیں تیار کرنے کی بھر پور و منظم کوششیں ہونی چاہیں۔ کوشش کے نتیجہ میں ملک کو ایک ایسی بڑی تعداد جرنلسٹ میسر آسکیں گے جو میڈیا میں اپنی حصہ داری و شراکت داری میں اہم کردار ادا کرسکیں گے۔ اس عمل سے ملک و اہل ملک سب ہی کو فائدہ ہوگا۔ ٹی وی چینلز کے لئے بھی ایسے افراد تیار ہونے چاہیں جو مختلف ایشوز کے ماہرین کی حیثیت سے ٹی وی ڈبیٹس کا حصہ بنیں۔ اور اپنی صلاحیتوں اور علم کی روشنی میں ٹی وی مباحث کی موجودہ ابتر صورتحال کوصحیح رخ پر لانے کی کوشش کریں۔ کیونکہ عام طور سے ہوتا یہی ہے کہ جب متبادل نہ ہو تو پھر اجارہ داری ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے بازار میں جب ضرورت سے زیادہ چیزیں موجود ہوں تو وہ وہاں معیارقائم نہیں رہ پاتا۔ نتیجہ میں وقت، صلاحیت اور دولت سب کچھ برباد ہوتا ہے۔
ایسی صور ت میں سوائے ساہوکار کے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ تقریباً یہی صورتحال آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ مال و دولت کی چمک ، افکار و نظریات اور معاملات و رویوں کو متزلزل کرنے کاذریعہ بنتی ہے ۔ یہ مال و دولت کی چمک ہی ہے جو کہیں ٹی آرپی بڑھا تی ہے تو کہیں اینکر حضرات کا اسٹیٹس اور بینک بیلنس۔ نتیجہ میں نہ افکار نہ نظریات اور نہ ہی مثبت رویوں کی کوئی حیثیت رہتی ہے۔ ان حالات میں سہل انگیزی ہر دوصورتوں میں خصوصاً ان افراد و گروہوں کو حد درجہ نقصان پہنچائے گی جو متاثر ہیں۔
اگر آج آپ میڈیا کی بگڑتی صورتحال کے سدھار میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو کم از کم قوم و ملت اور ملک کے مستقبل کے مقطہ نظر سے رائے بنانے کی کوشش ضرور کریں۔ اجتماعی سعی وجہد بہتری کی علامت ہے۔ جب سب مل جل کر بہتری کی جانب میدان عمل میں قدم بڑھائیں گے تو لازماً اس کے فوائد بھی بہت جلد سامنے آئیں گے!