ہالینڈ کی ملکہ کا دورہ پاکستان
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 23 / فروری / 2016
- 4720
ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ، خدا کا بنایا ہے وہ بادشاہ۔ یہ بادشاہ ہے ہالینڈ کا جہاں میں سکونت پذیر ہوں۔ اس کی ایک ملکہ بھی ہے (بادشاہ کی) جس کا نام ”ملکہ مکسیما“ ہے۔ یہ اصلی ملکہ ہے ملکہ کوہسار نہیں۔ یہ ملکہ پچھلے دنوں پاکستان تشریف لے گئیں تھیں۔ ہیں تو یہ ملکہ لیکن ان میں شاہوں جیسی کوئی بات نہیں اس لئے ہالینڈ کے شاہی خاندان کو اس بات کی قطعی فکر دامن گیر نہیں کہ کب تخت گرائے جائیں گے، کب تاج اچھالے جائیں گے۔ اب دنیا میں اس طرح کی ”عظیم تر سلطنت“ تو قائم نہیں کی جا سکتی جیسی ” گریٹ بریٹن “ نے قائم کر رکھی تھی جس نے تین چوتھائی دنیا کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔ ملکہ مکسیما اپنی سادگی کی وجہ سے عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کا دورہ پاکستان دو دنوں پر مشتمل تھا جس میں یہ صدر پاکستان ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف اور مالی معاملات کی دیکھ بھال کرنے والے وزیر اسحاق ڈار سے ملیں اور باہمی دلچسپی کی گفتگو اور کچھ معاہدے کر پائیں۔
پاکستان کی تاریخ آگے بڑھنے کے بجائے دائروں میں گھومتی رہتی ہے۔ ساری دنیا کے ترقی یافتہ اور جمہوری ملکوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہو گا کہ وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں، انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس سے کئی دوسرے مسائل پیدا ہوتے ہیں پھر انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں کبھی کچھ ” طے“ نہیں ہوتا۔ ان حالات میں ملکہ ہالینڈ کا دورہ پاکستان کچھ آسان نہ تھا مگر یہ مشکل کام حسب دستور، حسب معمول اور حسب روایت سفیر پاکستان معظم احمد خان اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن (جسے آپ نائب سفیر بھی کہہ سکتے ہیں) شعیب سرور نے انجام دیا۔ ان دونوں حضرات نے پہلے بھی ایک ایسا معرکہ سرانجام دیا تھا جس کی خوشبو ڈچ اخبارات میں بھی محسوس کی گئی تھی۔ وہ پاکستان کی ایک اہم اقلیت کو حاشیے سے اٹھا کر مین اسٹریم میں لے آئے تھے۔ یہ اقلیت جسے ہم مسیحی کہتے ہیں اور جسے اقلیت کے بجائے صرف پاکستانی کہنا چاہئے کے پاکستان پر بہت سے احسانات ہیں ۔ تعلیم، ریلوے اور میڈیکل کے شعبہ جات ان کے بغیر ادھورے ادھورے سے لگتے ہیں۔
بہرحال یہ دونوں حضرات وزارت خارجہ کی دین ہیں۔ میں بلاوجہ تعریف و توصیف کا قائل نہیں ہوں لیکن سفیر معظم احمدخان اور ڈپٹی شعیب سرور کی دلچسپی کشور حسین شادباد کے مکینوں کی زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر گئی ہے۔ بات پھیلتی جا رہی ہے دراصل مجھے ملکہ مکسیما کے دورہ پاکستان پر ہونے والی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کا ذکر کرنا تھا لیکن بات کا سرا آگے سرک گیا۔
پاکستان سے ہالینڈ کی درآمد و برآمدات لگ بھگ ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس میں 650 ملین برآمدات ہے اور 440 ملین درآمدات شامل ہیں۔ لین دین کی زبان میں بات کی جائے تو پلڑا پاکستان کا بھاری ہے۔ صحافیوں کا کہناہے کہ پاکستان تجارت میں کہیں آگے جا سکتا ہے لیکن پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اور پس منظر بنیادی طور پر تبدیل ہو رہا ہے اور امر یہ کہ ملک عزیز پر کالی چھایا منڈلا رہی ہے اس لئے پاکستان وہ سب کچھ نہیں کر پا رہا جو وہ کرنا چاہتا ہے اور یہ اس کے لئے مقام حیرت سے زیادہ جائے حسرت بن گئی ہے۔
ان یورپین تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس وقت پاکستان ایک اخلاقی جذام میں مبتلا ہے جس سے اس کا جسم متواتر کٹتا، گلتا چلا جا رہا ہے اور اب اس کی عفونت پورے ماحول میں پھیلی ہوئی ہے اس مرض جذام کا سبب (جو تقریباً لاعلاج ہے) اس کی بے راہ روی، اخلاقی انارکی، انتشار، تنگ نظری، انتہاپسندی اور دہشت گردی حیوانیت کی حدود تک پہنچ گئی ہے، جس سے پاکستان اور پاکستانی معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ قانون قدرت ہے جس سے کہیں مفر نہیں۔ سامنے کی سچائی کو جھٹلانے والے لوگ اور دلیل اور منطق کو ٹھکرانے والے لوگ اب قیمت چکا رہے ہیں۔ پاکستان اپنے انجام کو پہنچنے کیلئے پر تول رہا ہے اس کے بعد کیا پہاڑ ٹوٹے گا اس کو سمجھنے کیلئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں۔
ایک معتبر اخبار کے صحافی کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کی صلاحیتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیوں ہو رہا ہے اور دیگر ممالک کی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کیوں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس نے مجھے ڈچ انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک رپورٹ دکھائی جس میں ان جہادی تنظیموں کا ایجنڈا بین الاقوامی سطح پر ہونے کا انکشاف اور تفصیل درج ہے۔ جس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان انتہاپسندوں کی بھرتیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ ” میرا سوال یہ ہے کہ طالبان، القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں اور جماعتوں کا کام فقط تخریبی کارروائیاں اور دہشت گردی انجام دینا ہی کیوں ہے؟ ان تنظیموں سے منسلک اور غیر منسلک بے شمار دہشت گرد تنظیموں اور پارٹیوں کا آخر مقصد کیا ہے؟ یہ لوگ تخریب کاریاں کیوں انجام دیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے ہر تنظیم کا کچھ نہ کچھ مقصد ہوتا ہے چاہے وہ مقصد جائز ہو یا نہ۔ مثال کے طور پر سری لنکا کی تنظیم ایل ٹی ٹی ای کا مقصد تامل باشندوں کیلئے ایک الگ مملکت کا قیام تھا، بوکوحرام (لفظی معنی کتاب حرام) مغربی کتابوں کو حرام و ممنوع قرار دیتی ہے، پھر آخر پاکستان کی دہشت پسند تنطیموں کی سرگرمیوں کا منشا و مقصد کیا ہے؟
میں نے اپنے ڈچ صحافی دوست کو بتایا کہ اسلامی ممالک میں تعلیمی معیار انتہائی پست ہے۔ صدیوں پرانا نظام تعلیم چل رہا ہے۔ یہ تعلیم بھی ملک کی 15 سے 20 فیصد آبادی حاصل کر پاتی ہے جو خوش قسمتی سے شہروں میں مقیم ہے۔ تعلیم کی اہم دین وقت کی پہچان ہے اور وقت بڑا ظالم ہوتا ہے، سفاک ہوتا ہے۔ وہ کسی کو نہیں بخشتا، وہ چاہے مسلمان ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو، کمیونسٹ ہو، جب وہ کوچ کرتا ہے تو لوٹ کر نہیں آتا۔
میں نے کہیں پڑھا ہے انسان مثال سے سمجھتا ہے اور تجربے سے سیکھتا ہے۔
کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔