ستیہ پال آنند کون ہے؟

دل کی وارفتگی فہم کے قریب تر تھی۔ چند گھنٹوں میں گروجی ڈاکٹر ستیہ پال آنند سے ملاقات ہونے والی تھی۔ ہم خاموش تھے۔ شاید ہم دونوں ہی سوچ رہے تھے۔ گرو جی نے کہا تھا ”خاموشی میں جو آوازیں دور سے آتی ہیں معلوم ہوتی ہیں وہ کیا ہیں، کبھی سوچا“۔ اچانک ایک آواز چنگھاڑ اٹھی، کوندا لپکا۔ اس نے کہا ستیہ پال آنند کے پردے میں مستور ہے یا آنند کا درویش ہے یا بھکشو۔

ستیہ پال سے آنند اک دن روٹھ گیا
کچھ ہی دور یہ جا بیٹھا تو ستیہ پال نے پوچھا
مجھ سے کیوں ناراض ہو بھائی
آنند جیسے چڑ کر بولا
کون سے شاستم میں لکھا ہے
میرا نام تمہارے نام سے جڑا رہے (ستیہ پال آنند)

نقادوں نے ن۔ م۔ راشد کو آزاد شاعری کا امام جانا ہے اور ان کے نام کے ساتھ ساتھ میرا جی کا نام بھی آتا ہے۔ کسی نے میراجی سے پوچھا کہ آپ کا بھی تو آزاد شاعری سے قریبی تعلق ہے۔ میر اجی نے مسکرا کر کہا ”جی ہاں میرا بھی آزاد شاعری سے ناجائز تعلق ہے“۔ ہم میرا جی کو آنند نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ میرا جی نے بدھ، ستیہ پت یا شنکر یا خالق تخلیق کی طرف کم ہی توجہ دی ہے وہ محو کلام رہا۔ ہم ن۔ م۔ راشد اور میرا جی کو ستیہ پال سے جدا کر سکتے ہیں۔ ستیہ پال ایک غمگین روح ہے۔ ستیہ پال تخلیق کائنات کے معجزات سے مسحور ہے۔ ستیہ پال کی کھوج متجسس ہے۔ وہ سیدھے الفاظ میں سیدھی بات کرتا ہے۔ اس کی نظموں میں کھوج ہے، گہرائی ہے، پیغام ہے، التجا ہے۔ وہ زندگی کا دلدادہ ہے اور موت سے بھی اٹھکیلیاں کر لیتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے۔ دیوانہ وار اس کی طرف لپکتا ہے اور مکالمہ کرتا ہے۔ وہ تخلیق کا مجاور ے۔ وہ پوچھتا ہے۔

شاعری کے دیوتاﺅ
روشنی بخشو!
کہ میرا ذہن ازلی کوکھ ہے
تاریک گہر کا
منتظر تخلیق کی پہلی کرن کو (ستیہ پال آنند)

تاریک غاروں میں ٹپکتی ہوئی پانی کی بوند بوند تخلیق کا سرچشمہ بنی۔ بوند بوند پانی کی بوند تخلیق کار بنی، وہ خود زندگی تھی۔ ستیہ پال آنند کون سی پہلی کرن کا منتظر ہے؟ ستیہ پال آنند کون ہے؟ عتیق جان نے کہا جائز نہ ہو گا کہ ستیہ پال آنند شاید خود کو بھی نہیں جانتا۔ وہ کون ہے؟

کوہ طور ہو
بڑ کا پیڑ ہو
غار حرا ہو
اس دنیا میں
اس دنیا کا
گیان اسی سے ملتا ہے (ستیہ پال آنند)

وہ ”گیان جگ یا سو“ ایک ہاتھ میں صلیب اور دوسرے ہاتھ میں قلم، ایشورکے درشن کا طالب، حضور کائنات کی شفاعت کا طلبگار چشم روشن اور دل فروزاں سے لفظ وحدت کی تفسیر کی کھوج میں وہ ساری عمر گامزن رہا۔ ستیہ پال آنند کون ہے؟

وہ حسن ہے یا حسن کوزہ گر ہے خود بھی زمینی گارے کا کوزہ ہے۔ وہ زمین کی کالی غاروں میں بھٹکتا ہے اور خلا کی بے انت وسعتوں میں سرسراتا ہے۔

تھوڑی عمر رہ گئی ہے حضور
کلمہ خواں اپنا سر جھکائے ہوئے
اور دست طلب بڑھائے ہوئے
منتظر آپ کی شفاعت کا
دھیان میں کھڑا ہوں حضور
ہندوام، کافرام، گنہگارام (ستیہ پال آنند)

ہم نے گھنٹی بجائی۔ گروجی ستیہ پال آنند نمودار ہوئے اور ایک بے ساختہ نعرہ یاراں بلند کیا۔ ”جپھا یارو۔ جھپا“۔ ہم ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ہم ان کے کتب خانے میں داخل ہوئے یوں لگتا تھا کہ کتب خانہ بننے والا ہے یا کتب خانہ کسی دوسری عمارت میں منتقل ہونے والا ہے۔ صوفوں پر کتابیں، کرسیوں پر کتابیں، میزوں پر کتابیں، قالین پر کتابیں، آتش دان کے دونوں طرف کتابوں کے بے ترتیب ڈھیر۔ گرو جی کہنے لگے کتابیں ہٹا کر بیٹھنے کی جگہ بنا لو، میں کافی بناتا ہوں۔ وہ اپنی راکنگ کرسی سے اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چل دیئے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے اپنی راکنگ کرسی سے لے کر باورچی خانے کے چولہے تک کتابیں ہٹاکر پگڈنڈی بنا رکھی تھی۔

ہم نے تاسف سے کہا کہ ڈاکٹر امجد حسین اپنے گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے نہ آ سکے ورنہ ان کی مرتب کی ہوئی کتاب ” ترکال کی بیلا “ پر آپ کی موجودگی میں گفتگو ہو جاتی۔ گرو جی کہنے لگے یہ بھی کوئی بات ہے اور فون پر بٹن دبانے لگے ” آنم جانی دو بدمعاش آئے ہوئے ہیں، اور آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ “

آنم جی نے اک نعرہ مستانہ لگایا کہنے لگے کہ وہ تو سوچ رہے تھے کہ ہم بمعہ گرو جی کے ان کے پاس آ رہے ہیں لیکن وقت ہے ، ابھی گاڑی میں بمعہ گروجی بیٹھو اور پہنچو، خوب مزہ رہے گا “۔ ہم نے آنم جی کو گروجی کی نظموں کے انتخاب پر مبارکباد پیش کی۔ کہنے لگے کہ کتاب پر سارا کام تو گروجی نے کیا ہے ہم تو صرف منشی تھے۔

عتیق جان نے بھی داد دی۔ ہم نے کہا کہ گروجی کو ”ماقبل اور بعد از مرگ“ نظمیں اکٹھی کرنے کی کیا سوجھی“ آم جی کہنے لگے ”پوچھ لو آپ کے سامنے بیٹھے ہیں،  ہم نے کہا ہم آپ سے پوچھتے ہیں“۔ آنم جی نے کہا سنو ” ہم نے لکھا ہے کہ اس مضمون پر اور اس کی تاریخ میں فلسفیوں دین و مذہب کا شارمین اور بھگتوں، سنتوں اور صوفیوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لاتعداد صفحے سیاہ کئے ہیں اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے، اس خیال کو سامنے رکھتے ہوئے“ ترکال کی بیلا وجود میں آئی“۔

آنم جی ہم تو سوچتے ہیں کہ آپ مسکراہٹوں کے، تتلیوں کے، جگنوﺅں کے دیس میں رہنے والے، آپ کو یہ کیا پڑی تھی کہ آپ گروجی کی صرف وہ نظمیں ڈھونڈیں جو زندگی کے تیسرے پہر (ترکال کی بیلا) کا احوال نامہ ہو۔ آنم جی کچھ نہ بولے پھر دھیرے سے کہا ” وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان سے پوچھو“

عتیق جان جیسے مراقبے سے جاگے ”سوال تتھاگت سے ہے جواب آپ دیں گرو جی، کیا موزوں آخری پڑاﺅ ہے“

نروان سے آئے کوئی منزل نہیں
صرف ایک اندھی اندھیری رات
بے انت ہے
خالی زماں
لامکاں ہے

ہم سارے سوچ میں پڑ گئے۔ خلا کیا ہے۔ اس کا انت کیا ہے یا اس کا انت نہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ کوئی نہ جان سکے گا سوائے خالق کے۔ جس نے زمینیں بنائیں اور آسمان بنائے، اور سورج بنائے، چاند بنائے، ان گنت جہان بنائے۔ جن کا علم اس کے فرشتوں کو بھی نہیں۔ اس کے پیغمبروں کو بھی نہیں۔ حرکت جس سے اس کی پیدا کردہ مخلوق سطحی طور پر آشنا ہے لیکن انت سے ناآشنا۔

ہیئت کا کوئی تصور
ہیئت کے حتمی تصور کے بنا کچھ نہیں
اس بڑے آفاق میں سب کچھ ہے لیکن
کچھ بھی نہیں

گرو جی” شعور نے ہمیں جھنجھوڑا، ” سماعت کے در وا کرو، اور اس حقیر سوامی کا سوال سنو! ”یہ ترکال کی بیلا ہی سہی لیکن نظر بھر کے دیکھو، کچھ ہی دور کھڑی ہے، کتنی سندر لگ رہی ہے گرو جی

باریک ململ کی دھلی بے داغ ساڑھی
صبح کے اشنان سے چپکی ہوئی گیلے بدن پر
دونوں ہاتھوں میں اٹھائے
پشپ مالا سے سجی سنوری ہوئی پیتل کی تھالی