پَر کس کے کٹیں گے
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 23 / فروری / 2016
- 4294
نواز حکومت کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نہ وہ نیب سے خوف زدہ ہیں اور نہ ہی وہ اس کے پرکاٹیں گے۔ یہ بیان وزیراعظم نوازشریف کے نیب کے اختیارات پر تنقیدی بیان کے بعد سامنے آیا ہے اور وزیراعظم کے اس بیان کے بعد نیب کے چیئرمین نے ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرپشن کے بڑے مقدمات کو دس روز میں نمٹانے کا حکم دیا تھا۔
چودھری نثار نے اپنے حالیہ بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ بڑی کاروباری شخصیات نے نیب کی شکایت کی تھی جس پر وزیراعظم نے بیان دیا۔ حکومت اور نیب کے مابین اختیارات کی حدود کے تصادم کے مسئلے پر حکومت اور اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اکٹھی کھڑی نظر آرہی ہیں۔ اسی تناظر میں لیڈر آف دی اپوزیشن خورشید شاہ نے نیب کے اختیارات کو کم کرنے کے لئے قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دینے کا بیان دیا ہے۔ ہمیں یہ بات زیر غور رکھنی چاہیے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن، نیب کے اختیارات محدود کرنے(دوسرے الفاظ میں پَر کاٹنے) میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو معاملہ عدالت عظمیٰ میں جائے گا۔ یعنی ہر صورت میں ریاستی اداروں کے اختیارات کا تصادم تیز ہوتا نظر آرہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن ایک طرف نیب کے اختیارات کو محدود کرنے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کی تیاری کر رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے طعن آمیز انداز میں کہا ہے کہ سندھ میں احتساب پر بغلیں بجانے والوں کی اب پنجاب میں چیخیں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پنجاب کے مقدمات کی باری آئی تو حکومت نیب پر قدغن لگانا چاہتی ہے، اب یہ قدم اٹھایا تو سیاسی قوتیں بدنام ہوں گی۔
اقتدار کی اس کشمکش میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو طعنے تو دیتی نظر آرہی ہے لیکن دونوں کے درمیان ایک معاہدہ عمرانی طے ہے کہ اگر حتمی شکنجہ کسی ایک کے گلے میں پڑے گا تو ہم دونوں ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسی میں دونوں طاقتوں کو اپنا بقا نظر آرہی ہے۔ اسی لئے اپوزیشن لیڈر نے پنجاب میں رینجرز کی آمد اور آپریشن کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ پنجاب حکومت کی صوابدید پر ہے۔ یعنی وہ اس اقدام کو کراچی میں جاری آپریشن سے جوڑنا چاہتی ہے، جہاں قانون یا آپریشن کے شکنجوں میں سندھ حکومت کے کرتا دھرتا روز بروز کَستے جارہے ہیں اور انہی شکنجوں سے محفوظ رہنے کے لیے سندھ حکومت کے ’’اَن داتا‘‘ آصف علی زرداری خود ساختہ جلاوطن ہو چکے ہیں۔ لہٰذا وفاقی حکومت کی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی، حکومت کے ساتھ ایک اور سودے بازی کرنا چاہتی ہے کہ اگر آپ کراچی میں رینجرز آپریشن کی مکمل مخالفت کریں گے تو ہم اس کے بدلے پنجاب میں آپ کے مسئلے پر آپ کا ساتھ دیں گے۔
وزیرداخلہ چودھری نثار علی کی سیاست اور حکمرانی کی تاریخ ہم پر یہ واضح کرتی ہے کہ وہ بنیادی معاملوں میں پارٹی سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتے ہیں۔ یہ فیصلے وہ دورانِ حکمرانی کریں یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اور وہ اپنی شفافیت کو ہمیشہ برقرار رکھتے ہوئے، طاقت کا حصول اپنی جماعت سے زیادہ طاقت کے حقیقی مراکز سے لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی شفافیت بھی برقرار رہتی ہے اور حکمرانی کی طاقت بھی۔ وہ حکومت میں شامل دیگر وزراء سے کہیں زیادہ اثرپذیر، بلکہ کہیں کہیں تو وہ اپنے چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم سے زیادہ طاقتورنظر آتے ہیں۔ چودھری نثار نے دو روز قبل اپنی پریس کانفرنس میں ایک طاقتور وزیرداخلہ کے طور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم اور نیب کے مابین تصادم پر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ کس طرح ان کی موجودگی میں چند بڑے کاروباری حضرات نے وزیراعظم کو نیب کی طرف سے اپنے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا اور اسی کے نتیجے میں وزیراعظم نے نیب کے خلاف بیان داغا۔
یہ پریس کانفرنس اس تصادم کو بے نقاب کرتی ہے جو حکومت اور ریاست کے اداروں کے مابین ہے۔ چودھری نثار علی قانون کے پابند وزیرداخلہ کی حیثیت سے گفتگو کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن اطلاعات کے حوالے سے یہ خبریں سیاسی حلقوں میں گردش میں ہیں کہ نیب جن بڑے کاروباری حضرات کوقانون کے شکنجوں میں کسنا چاہتی ہے، وہ تمام شریف خاندان کے ’’رفقائے کار‘‘ گردانے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح پنجاب میں رینجرز آپریشن اس تجربے کا حاصل ہو گا جو ریاست کے طاقتور اداروں کو کراچی آپریشن میں حاصل ہوا جہاں کراچی کے کورکمانڈر نے کراچی میں دہشت گردی، لوٹ مار کو مختلف سیاسی گروہوں کا اتحاد قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بے رحم اقدامات کرکے اسے کراچی کے امن اورترقی سے جوڑا۔ سندھ رینجرز کے سربراہ نے یہ بھی کہا تھا کہ دہشت گردی اور کرپشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس چولی دامن کے ساتھ میں سندھ حکومت کے ’’اَن داتا‘‘ آصف علی زرداری کے دست راست ڈاکٹر عاصم اور دیگر دوست مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست کے طاقتور اداروں کو دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس میں قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے مراکز کے بعد جنوبی پنجاب میں واقع مراکز ہیں اور حکومت پر کئی حلقوں کی طرف یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کے لئے اِن انتہا پسندوں کے سہولت کاروں سے سیاسی مدد لیتی رہی ہے۔
اس سارے تناظر میں روز بروز معاملہ اس طرح ہی بڑھتا نظر آرہا ہے جیسے کراچی میں۔ ایسے میں پنجاب کی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف جو عملی طور پر وفاقی حکومت کی سب سے بڑی مخالف ہے، ایسے آپریشن کے لئے ریاستی اداروں کو اجازت دینے پر متفق ہے جس کے تحت پنجاب میں کرپشن اور دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ حکومت میں شامل چند وزرا، حکمران جماعت کے قائدین کے ’’رفقاء کار‘‘ جو بڑے بڑے ’’کاروباری حضرات‘‘ ہیں، کے خلاف اقدامات شاید اب ٹالے نہ جا سکیں۔ اس کے لئے حیران کن صورتِ حال اس وقت سامنے آسکتی ہے کہ جب اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی جو اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے، فیصلہ کن وقت میں طاقتور اداروں کا ساتھ دینے کا اعلان کر دے گی۔ ایسے میں وہ ’’اپنے لئے رعایتیں‘‘ حاصل کرنے اورموجودہ حکمران جماعت کی Screw Tighting کے عمل کاساتھ دے سکتی ہے۔ یہی پاور پالیٹکس کہلاتی ہے، جس کا کوئی نظریہ یا اصول نہیں ہوتا۔