خواتین کے تحفظ کا قانون

گزشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی کے اراکین نے خواتین کے تحفظ کے ایک ایسے بل کو منظور کیا ہے جس کے لئے پنجاب کی خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی دہائیوں سے کوششیں کر رہی تھیں۔ اخبارات میں اس بل کے متعلق جو تفصیلات شائع ہوئی ہیں اس کے مطابق تشدد کا شکار خواتین کو اب گھروں سے بیدخل نہیں کیا جا سکے گا اور ہر طرح کے اخراجات مرد کو اٹھانا ہونگے۔

تشدد کرنے والے مرد کو گھر سے باہر نکالا جا سکے گا۔ عدالتی حکم پر تشدد کرنے والے مردوں کو ٹریکنگ کڑے لگائے جائیں گے اور ان کو اتارنے پر سزا دی جائے گی۔ خواتین کے تحفظ کے اس بل میں تشدد کے حوالے سے معاشی استحصال،جذباتی، نفسیاتی بد اخلاقی اور سائبر کرائمز بھی شامل ہیں ۔ مزید یہ کہ گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لئے شیلٹر ہومز بھی بنائے جائیں گے ۔ ٹال فری نمبر قائم کیا جائے گا اور خواتین کی شکایات کی تحقیق کے لئے پروٹیکشن کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی ۔ علاوہ ازیں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ فیملی کورٹ کو کسی خاتون کی طرف سے شکایت ملنے کے سات دن کے اندر اندر اس کو نہ صرف سننا ہو گا بلکہ تین ماہ میں اس کا فیصلہ کرنا بھی لازمی ہو گا۔ دیر آید درست آیدکے مصداق یہ ایک قابل تحسین قدم ہے ۔ اس سے قبل سندھ کی اسمبلی بھی ہندو میرج ایکٹ کو منظور کرکے ایک قابل تحسین قدم اٹھا چکی ہے ۔ یہ دونوں بل ایسے ہیں جس کے نفاذ سے معاشرہ ، سیاست اور گھریلو زندگیوں پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں کی سیاست اور قانون سازی پورے ملک پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لئے اس بل کی منظوری اور مکمل نفاذ کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ خواتین کو پہلی بار مکمل تحفظ کا احساس ہوگا اور گھریلو اور ورکنگ دونوں طرح کی خواتین مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گی۔ سیاسی نظریات میں اختلاف رکھنے کے باوجود خواتین کے ایشوز پر ممبرز پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی خواتین ممبرز نے ہمیشہ مل کر آواز بلند کی اور خواتین انسانی حقوق تنظیموں کا ساتھ دیا اور آج یہ بل ان سب کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے ۔ لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لئے پاکستان کی خواتین کو بہت زیادہ قربانی دینی پڑی ۔

خواتین پر تشدد اب کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ بھی دہشت گردی کی طرح اب ملک ملک میں جڑ پکڑچکا ہے جس کے سد باب کے لئے عالمی سطح پر بھی کوششیں ہو رہی ہیں اسی لئے جنرل اسمبلی نے20دسمبر1993کو اپنی ایک قرارداد نمبر48/104 کے ذریعے دنیا بھر میں عورتوں پر گھریلو تشدد کے خاتمہ کی تجویز منظور کی تھی۔ جس کے تحت اب ہر سال25نومبر کو دنیا بھر میں تشدد کے خاتمہ کا دن منایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال خواتین اس دن کے موقع پر تشدد کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا کرتی تھیں۔ تشدد ناقابل معافی جرم ہے۔لیکن چونکہ قانون خاموش تھا اسی لئے خواتین پر گھریلو اور دیگر تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ پاکستان میں عورتوں اور لڑکیوں پر تشدد بہت سی شکلوں میں موجود ہے جس میں عزت کے نام پر قتل، ریپ،گینگ ریپ،اغواء،تیزاب کا پھینکنا وغیرہ شامل ہیں۔ ایک وقت تھا کہ سسرال کے گھروں میں چولہے پھٹنے کے سبب دلہنوں کی ہلاکت کے واقعات کثرت سے ہوتے تھے۔ زبردستی کی شادی،چھوٹی عمر میں شادی، کاروکاری کی رسم وغیرہ یہ وہ سب قبیج فعل ہیں جو چاروں صوبوں میں رسمیں بن کر عورتوں اور لڑکیوں کی زندگیوں کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی شرح کی وجہ سے بھی گھریلو عورتیں ہی ظلم کا شکار ہو رہی ہیں۔عورت فاؤنڈیشن نے2013پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے حوالے سے ایک سروے کرایا تھا جس کے مطابق اس سال صرف پنجاب میں7010تشدد کے واقعات رجسٹرد ہوئے تھے جو کہ کل پاکستان میں ہونے والے واقعات کا74فیصد تھے جبکہ اب صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ اس کا اندازہ 27 مئی 2014 کولاہور ہائی کورٹ کے سامنے ہونے والے اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں تین ماہ کی حاملہ پچیس سالہ خاتون فرزانہ اقبال کو اس کے گھر والوں نے زندہ سنگسار کردیا تھا اور پولیس سمیت سبھی لوگ تماشائی بنے دیکھتے رہے تھے۔ اس خاتون کا قصور یہ تھا کہ اس نے فیملی کی مرضی کے بغیر شادی کی تھی اور اپنے خاوند کے دفاع میں ہائی کورٹ آئی ہوئی تھی۔

پاکستان میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی صورتحال بدقسمتی سے کبھی بھی اچھی نہیں رہی اور ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہبی جماعتیں ہیں جو پاکستان کو آئین کی بجائے ان کی اپنی ذاتی مرضی کے مطابق چلانا چاہتی ہیں۔ اسی لئے وہ اب اس آئین کی بھی مخالفت کرتی ہیں جس کی متفقہ منظوری میں اس وقت کے مذہبی سیاسی علماء بھی شامل تھے۔ پاکستانی آئین کے آرٹیکلز25,34,35 تینوں پاکستانی خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں لیکن عملی طور پر کبھی بھی ان سے خواتین کو کوئی رلیف نہیں دیا گیا۔ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کی قومی اسمبلی میں عورتوں کے حوالے سے ایک بل پیش ہوا تھا جس کو قائمہ کمیٹی نے مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے مسترد کردیاتھا ۔ یہ صورتحال پاکستان کے اندر کی مجموعی صورتحال کو سمجھنے کے لئے کافی ہے اور اب پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے اس بل کی مخالفت بھی شروع کر دی گئی ہے ۔ پاکستان ایک جمہوری ملک بھی ہے اور اسلامی بھی اور بدقسمتی سے دونوں پہلوؤں سے پاکستان کونیک نامی نہیں مل سکی ۔اب جب کہ پنجاب اسمبلی نے پنجاب پر لگے بدنامی کے سیاہ دھبوں کو مٹانے کے لئے یہ بل پاس کر ہی لیا ہے تو اسمبلی اس کے نفاذ کے لئے بھی اپنی سیاسی بلوغت اور طاقت کا مظاہرہ کرے۔اس بل کی کامیابی اور ثمرات اس امر میں پوشیدہ ہیں کہ محکمہ پولیس اور عدلیہ یعنی فیملی کورٹس کس حد تک سیاسی و مذہبی دباؤ سے آزاد رہتی ہیں۔ پولیس کے افسران کو اس بل کے متعلق مکمل آگاہی اشد ضروری ہے۔

عالمی سطح پرپاکستان اس وقت عورتوں پر تشدد کے حوالے سے دنیا کا تیسرا خطرناک ترین ملک تسلیم کیاجاتا ہے جس کی بنیادی وجہ صوبوں میں خود ساختہ جرگوں اور علاقائی و قبائلی رسموں کا آزادانہ استعمال ہے جس نے عورتوں کی زندگیوں کو جہنم بنا رکھا ہے۔ 2014 میں صرف سندھ میں1261کیسز صرف زبردستی کی کمسنی کی شادیوں کے رجسٹر ہوئے تھے جبکہ114واقعات میں عوتوں اور لڑکیوں پر تیزاب پھینک کر ان کو جھلسا دیا گیا تھا۔سندھ کی صورتحال بھی بہت خراب ہے۔مقام افسوس اور حیرت ہے کہ پاکستان پر اب تک حکمرانی کرنی والی دونوں بڑی جماعتوں کے اپنے اپنے صوبوں میں ہی عورتوں و لڑکیوں کی حالت زار زمانہ جاہلیت جیسی ہے۔ دونوں صوبوں میں عورتوں کا بدترین استحصال جاری ہے۔

18ویں ترمیم نے عورتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے بہت سے اختیارات اور ذمہ داریاں صوبوں کو سونپی ہیں ۔ لہذا اب صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے اس حقیقی تصور کوعملی طور پر اجاگر کریں جس کا تصور بانی پاکستان محمد علی جناح نے دیا تھا۔