لائن آف کنٹرول پر انسانی و جنگلی حیات کی تباہی

  • تحریر
  • جمعہ 26 / فروری / 2016
  • 5873

پاکستان اور بھارت کے درمیان 48-1947 کی لڑائی کے بعد یکم جنوری1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپیل پر ریاست کشمیر میں جنگ بندی عمل میں آئی اور دونوں ملکوں کی فوجوں کی اگلے مورچوں کے درمیان جنگ بندی لائین(سیز فائر لائین) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف معاہدوں اور سمجھوتوں کے ذریعے کشمیر کی جنگ بندی لائن کو مضبوط بنایا گیا اور3جولائی1972ء میں پاکستان بھارت جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان شملہ سمجھوتے کے تحت کشمیر کی سیز فائر لائین کو ’لائن آف کنٹرول‘ کا نام دیا گیا۔

کنٹرول لائن کی لمبائی740کلومیٹر(460میل) ہے جس میں سے550کلومیٹر(340میل) پر ہندوستان نے تقریباً ایک عشرہ پہلے خار دار تاروں کی اونچی ، ناقابل عبور باڑ نصب کر کے سیز فائر لائن(کنٹرول لائن) کی بنیاد پر ریاست کشمیر کی تقسیم کو مزید مستحکم بنایا۔ ہندوستان کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتے کے بغیر اس باڑ کو مکمل کر سکتا۔ کشمیر اور وہاں کی انسانی و جنگلی حیات کو تقسیم اور تباہ کرنے والی سیز فائر لائین(لائن آف کنٹرول)کو خونی لکیر کہا جاتا ہے اور اسے ’ دیوار برلن‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

سیز فائر لائن ( لائن آف کنٹرول) پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے نتیجے میں غیر فطری طور پر قائم ہوئی ، جس سے ریاست کشمیر کے کئی گاؤں، آبادیاں اور گھر اس غیر فطری تقسیم کی وجہ ایک ساتھ ہونے کے باوجود الگ الگ ہو گئے۔ کشمیر کی سیز فائر لائن( لائن آف کنٹرول) پر دونوں ملکوں کی فوجوں کی بھاری تعداد کی تعیناتی اورباڑ کی تنصیب سے ہزاروں کشمیری خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ریاست کشمیر کے باشندوں کا اپنی ریاست میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق تسلیم کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر ریاستی باشندوں کو سیز فائر لائن عبور کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔ یوں ہزاروں، لاکھوں کشمیری تقریبا سات دہائیوں سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے بچھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

جنگ بندی کے نتیجے میں قائم ہونے والی اس غیر فطری پابندی کی اس لکیر کے قیام سے کشمیری اپنی ہی ریاست میں اپنے عزیز و اقارب سے مستقل طور پر بچھڑے رہنے پر مجبور ہیں اور یہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ سیز فائر لائن کا قیام مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے پہلے قدم کے طور عمل میں لایا گیا تھا لیکن عملاً لائن آف کنٹرول ریاست کشمیراوراس کے لوگوں کی جبری تقسیم کا باعث ہے۔

ریاست جموں و کشمیر میں درجنوں اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی اقسام خاتمے کے قریب ہیں۔ کشمیر کو جبری اور غیر فطری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن(لائن آف کنٹرول) پر بڑی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کی تعیناتی، بارودی سرنگوں اور خار دار تاروں کی باڑ کی وجہ سے نایاب جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے اور اس سے ان جانوروں کی نسلیں خاتمے کے خطرات سے دوچار ہیں۔ نقل و حرکت پر ان پابندیوں کی وجہ سے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جس سے جانورں کی مختلف نایاب نسلیں انسانوں کے ہاتھوں بھی ہلاک ہو رہی ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے اہم نایاب جنگلی جانوروں میں بھورا ریچھ، کالا ریچھ، سنو لیوپڈ، عام لیوپڈ، آئی بیکس، مار خور، چیرو(اینٹی لوپ) اور ہرن کی کئی اقسام شامل ہیں۔ ریاست کشمیر میں جنگلی جانوروں کی یہ نسلیں خاتمے کے خطرات کا شکار ہیں۔

مختلف شعبوں کے ماہرین کے مطابق کشمیر کی لائین آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں فوجوں کی مستقل موجودگی دنیا کے امن کے لئے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس سے ماحولیات اور موسم کے مطابق دوسرے علاقوں کی طرف جانے والی ’’وائلڈ لائف‘‘ بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ فرانس کی ایک نیو ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق کنٹرول لائین پر 2007ء میں ہندوستان کی طرف سے تعمیر کی جانے والی خار دار تاروں کی باڑ کی تنصیب سے ہر سال ہجرت کرنے والے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت رک گئی ہے اور اس وجہ سے ’’ جنگلی حیات ‘‘ کی کئی نایاب نسلیں خاتمے کے قریب ہیں۔ باڑ کی وجہ سے د وسرے علاقوں کی طرف نہ جا سکنے والے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں جس وجہ سے بھی یہ جانور ہلاک ہو رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے محکمہ وائلڈ لائف اینڈ فشریز کے مطابق2007ء سے تقریبا35عام لیوپڈ، پانچ ریچھ، بہت سے بھورے ریچھ انسانی آبادیوں میں آنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں۔ اس عرصہ کے دوران انسانوں اور دوسری وجوہات سے ہلاک ہونے والے جانوروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

آزاد کشمیر میں جنگل کا علاقہ1947میں کل رقبے کا24فیصد تھا جو اب محض11فیصد رہ گیا ہے۔ ہندوستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بارہ فٹ اونچی باڑ نصب کی ہے جس کے ساتھ موشن سینسرز، تھرمل امیجز ڈیوائیسز، لائٹنگ سسٹم اور الارم کے علاوہ بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بھی نصب ہیں۔ یوں کشمیر کی سیز فائر لائین پر باڑ اور بھاری تعداد میں فوجوں کی مستقل تعیناتی جہاں ریاست کشمیر کے لوگوں کو بچھڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے وہاں کشمیر کی ’’ جنگلی حیات‘‘(وائلڈ لائف) بھی تباہی کا شکار ہوتے ہوئے شدید ترین اور ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشمیر کا دیرینہ اور سنگین مسئلہ پرامن طور پر حل کریں تاکہ ریاست کشمیر کے خطے میں انسانی آبادیوں کے علاوہ خطے کی جنگلی حیات بھی زندہ اور قائم رہ سکیں۔