آصف زرداری کیا چاہتے ہیں!

23 فروری کو اپنے گزشتہ کالم ’’ پَر کس کے کٹیں گے!‘‘ میں پنجاب میں نیب کی طرف سے میگا سکینڈل، کرپشن مقدمات اور متوقع رینجرز آپریشن کے حوالے سے یہ عرض کی تھی کہ وزیراعظم نوازشریف کاردِعمل، پاور پالیٹکس میں غیر متوقع تبدیلیاں برپا کر سکتا ہے۔ اس میں یہ بھی عرض کیا تھا کہ اپوزیشن جماعت (پی پی پی) جو ’’آڑے وقت‘‘ میں 2013ء سے حکومت کا ساتھ دے کر ’’جمہوری نظام‘‘ کو فیصلہ کن مدد فراہم کرتی آئی ہے، وقت آنے پر نواز حکومت کو حیران کر دے گی۔

یہ کالم آصف علی زرداری کے اس بیان سے قبل شائع ہؤا، جس میں انہوں نے پاکستان کے سارے سیاسی حلقوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے، حتیٰ کہ اپنی پارٹی کے چوٹی کے رہنماؤں کو بھی۔ اس بیان میں آصف علی زرداری نے فوج اور اس کے سربراہ کو شاندار عقیدت سے بھرے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ بیان پاکستان کے تمام اخبارات کی شہ سرخی بنا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی بحث کا سب سے بڑا موضوع ہے، بلکہ ابھی تک اس بیان کی حقیقت اور سچا ہونے کی تصدیق و تردید کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ کالم ک آخری الفاظ یہ تھے: 
’’حکومت میں شامل چند وزرا، حکمران جماعت کے قائدین کے ’’رفقاء کار‘‘ جو بڑے بڑے ’’کاروباری حضرات‘‘ ہیں، کے خلاف اقدامات شاید اب ٹالے نہ جا سکیں۔ اس کے لئے حیران کن صورتِ حال اس وقت سامنے آسکتی ہے کہ جب اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی جو اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے، فیصلہ کن وقت میں طاقتور اداروں کا ساتھ دینے کا اعلان کر دے۔ ایسے میں وہ ’’اپنے لئے رعایتیں ‘‘حاصل کرنے اورموجودہ حکمران جماعت کو ہراساں کرنے کے عمل کاساتھ دے سکتی ہے۔ یہی پاور پالیٹکس کہلاتی ہے، جس کا کوئی نظریہ یا اصول نہیں ہوتا۔ ‘‘

آصف علی زرداری پاکستان کی پاور پالیٹکس میں اپنا ’’لوہا‘‘ منوا چکے ہیں۔ وہ پاور پالیٹکس میں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جس کی توقع ان کے مخالفین، اتحادی حتیٰ کہ ان کے سیاسی رفقاء اور اہل خانہ بھی نہیں کر سکتے۔ آصف علی زرداری کا طرزِ سیاست تیسری دنیا کی تضاداتی حکمرانی میں ذاتی اقتدار اور مفاد کے لئے بڑا کارآمد ہوتا ہے۔ وہ اپنا وار کرنے کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کی سیاست اقتدار، مفادات اور مناسب وقت کا انتظار کرنے سے عبارت ہے۔ جوں جوں 2018ء قریب ہو گا اوران کے احباب اور رفقاء کار کے خلاف قانون کا گھیرا تنگ ہوگا، توں توں وہ اپنی سیاسی صف بندی کریں گے۔ اس کے لئے وہ سب کچھ قربان کر سکتے ہیں جس کی  کی توقع ان کی جماعت کے نظریاتی اور بااصول رہنما بھی نہیں کر سکتے۔ حالیہ بیان اسی حکمت عملی کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہے۔ انہوں نے اقتدار کے حقیقی ایوانوں کو اپنے بیان کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہمارے گھوڑے آپ کا ہر اول دستہ ہوں گے۔ اس کے لئے وہ ہتھکڑیاں جو ان کے کارواں کے لئے تیار ہوئیں وہ ان ہی ہتھکڑیوں کو اپنے سیاسی اتحادیوں کے ہاتھوں میں ڈالنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے ایک مدبر سیاست دان نے چند سال قبل ان کی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مختلف کام لیتے ہیں۔ وہ اپنے مدمقابل کے گلے پر اپنا ایک ہاتھ رکھتے ہیں، اگر محسوس کیا کہ مدِمقابل ناقابل شکست ہے تو دوسرے بائیں ہاتھ سے مدمقابل کے پاؤں چھو کر جان کی امان مانگ لیتے ہیں۔ یہ تجزیہ جس سیاست دان نے کیا، چند روز بعد وہ صدر آصف علی زرداری کی حکومت کے اہم اتحادی بن گئے تھے۔

جو لوگ زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کا سیاسی جانشین یقین کئے بیٹھے ہیں، ان کو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کا زیادہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آصف زرداری نے ملک چھوڑنے سے پہلے ہوا کا رخ دیکھنے کی کوشش میں پہلا بیان دیا تھا کہ ’’بلاآئے گا، دودھ پی جائے گا‘‘، اس کے بعد انہوں نے ہوا کا رخ دیکھا اورملک چھوڑ دیا اور اپنے سیاسی شکنجوں اور ہتھکنڈوں سے کامیابی کے ساتھ اپنی پارٹی پر گرفت قائم رکھی۔ اب ان کا حالیہ بیان پھر ہوا کا رخ دیکھنے کی ایک اہم کوشش ہے اور پیغام بھی کہ آئیں ہماری قیمت لگائیں اور 2018ء کے انتخابات سے قبل ہی معاملات طے کر لیں۔ وہ لوگ جو ریاستی اداروں کو مقدس گائے اور انصاف کا علمبردار تصور کئے بیٹھے ہیں، ان کی سوچ طفلانہ ہے۔ پاور پالیٹکس میں ضمیر، اصول اور نظریہ کی بھلا کیا اہمیت!

آصف علی زرداری مستقبل قریب میں اپنا اتحادی بدلنے کے لئے تیار ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت وہ ایک طرف ان شکنجوں سے اپنے آپ کواور ’’رفقاء کار‘‘ کو محفوظ رکھنے کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف 2018 کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ وہ معاملات قبل از انتخابات طے کرنا چاہتے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ ’’فیصلہ ساز سیاسی قوتیں‘‘ ان کے دوستی کے ہاتھ کو پکڑ لیں اور انتخابات سے قبل پنجاب میں کرپشن اور دہشت گردی کا بڑا آپریشن شروع ہو جائے اور اس طرح طوق ان کے موجودہ غیراعلانیہ سیاسی اتحادیوں کے گلے میں پڑ جائے، جن کو انہوں نے 2013 کے انتخابات کے بعد ’’کڑے وقت‘‘ میں بچایا۔  یہ بھی امکان ہے کہ 2018 کے انتخابات سے قبل وہ اقتدار میں اپنا حصہ بھی طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

پاکستان کی سیاست عوام کی طاقت پر چمکائی ضرور جاتی ہے، حقیقت میں یہ اقتدار کی سیاست ہے جو حکمران طبقات اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے کرتے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت، مفاہمت اور احتساب جیسے نعرے خوبصورت بھی ہیں اور طاقتور بھی۔ لیکن کیا ان سیاسی عمل سے عوام کبھی مضبوط ہوئے۔ ذرا نظر دوڑائیں 1977 سے آج تک پاکستان میں عوام مضبوط ہوئے ہیں کہ حکمران۔ جواب آپ کو خود ہی مل جائے گا۔ بس اب نواز حکومت انتظار کرے کہ آصف علی زرداری کے بیان کے بعد حقیقی حکمرانی کے مراکز میں زرداری کے بیان وپیغام کی روشنی میں کیا فیصلے ہوتے ہیں۔