" کوئی کوئی بات کی خاص بات "

  • تحریر
  • اتوار 28 / فروری / 2016
  • 13919

زندگی اور وقت اتنی تیزی میں ہیں گویا ڈھلوان پہ ریت پھسل رہی ہو ۔ ایسے میں تخلیق کار کچھ نہ کچھ پیش کرکے اور سخن کار " کوئی کوئی بات " کرکے رُکنے ، سوچنے اور سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ جواد شیخ کی کتاب موصول ہوئی ۔ اُسے کھولا تو گویا در ِ حیرت کھُلا ۔ پہلی ہی غزل میں ردیف کا ذومعنی استعمال ایک خوشگوار استقبال کی طرح ہے ۔ گویا شاعر نے قاری پر گُل ہائے فن کی پتیاں نچھاور کرنے کا بندوبست دہلیز پر ہی کر رکھا ہے:

اِک مقام ایسا بھی آتا ہے سفر میں جوّاد
سامنے ہو بھی تو دلدل نہیں دیکھی جاتی

قاری جب دیکھتا ہے کہ یہاں "دیکھنا" فقط دیکھنے کی حد تک نہیں بلکہ لغوی معنی کی چار دیواری سے نکل کر ، توجّہ دینے ، پروا کرنے اور اہمیت دینے کے مفہوم میں سج سنور کر آیا ہے ، تو قاری کے دیکھنے کا انداز بھی بدلتا ہے اور وہ اِس کتاب کی سیر ِ سُخن میں پُرجوش ہو جاتا ہے۔ دراصل معانی کی یہ جھِلمل ہی شاعری کی اصل کشش ہے ۔ شاعری کا ہر قاری الگ سروکار سے شاعری کا مطالعہ کرتا ہے ۔ میرے لئے شاعری کا اصل لطف الفاظ کی ایسی جست میں ہے ۔ ایک سے دوسرے معنی پر لفظ کی زقند وہ منظر ہے جو دشت ِ شاعری کی سیّاحی کو پُرلطف بنا دیتا ہے ۔ اس جست کی تیزی قاری کو بھی چاق و چوبند بنا دیتی ہے۔ اس منظر کی طاقت حواس کو جگا دیتی ہے۔ " کوئی کوئی بات " میں اِس ہنر کی جھلکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جواد شیخ سنجیدگی کے ساتھ شعری محاسن کی کھوج میں ہیں ۔ دو مذید اشعار دیکھئے؛

میری ہر آرزو ادھوری ہے
جب تلک آپ کی نہ بن جائے

ہر فریبی یہی کہتا ہے کہ دوست !
میں وہی ہوں جو نظر آتا ہوں

معانی کی چھُپن چھُپائی شعر کو دل رُبائی عطا کرتی ہے ۔ براہِ راست ابلاغ میں وہ محبوبیت عنقا ہو جاتی ہے جو دل کشی کا منبع ہے ۔ جواد کے ہاں کہیں کہیں براہ ِ راست ابلاغ سے جو دانستہ یا نا دانستہ گریز ملتا ہے وہ ان کے شعری اُفق کو وسعت عطا کرتا ہے:

تُو میرا مسئلہ کیا حل کرے گا
ترا خود سے کبھی جھگڑا ہوا ہے ؟

ایک لمحے کا در میسّر تھا
کیسے کٹتی وگرنہ فرقت میں

ایک اور شعر دیکھئے:

میں چاہتا ہوں محبت مرا وہ حال کرے
کہ خواب میں بھی دوبارہ کبھی مجال نہ ہو

اس شعر میں جو بالواسطہ تمنّا ہے ، جو پوشیدہ طلب ہے ۔ وہی شعر کی اصل روح ہے کہ مجال سے محرومی کی دعا میں دراصل مجال کی انتہا مانگی گئی ہے ۔ جہاں قال کی نہیں " حال" کی عطا اور عنایت ہو۔ حال کی وہ کیفیت جو اذیّت کو راحت بنا دیتی ہے ۔ دُشوار کو آسان کر دیتی ہے ۔ جیسا کہ اقبال نے کہا تھا:

عشق را ناممکن ِ ما ممکن است

شاعری سچائی سے کی جائے تو انسان کے باطن کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ اس میں شاعر کا علم و مطالعہ بھی شامل ہوتا ہے اور زندگی کی تفہیم بھی۔ اس کے مشاہدے اور تجربے بھی جھلک دکھاتے ہیں اور فکری مدارج بھی ۔  ایک تخلیق کار زندگی کو اپنی آنکھ سے بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کی بصارت و بصیرت بھی شامل کرتا ہے ۔ یوں تخلیق کے کسی مرحلے پر شاعر کا اصل وجود بھی دکھائی دے جاتا ہے ۔۔ جواد شیخ کو دیکھئے:

یہ اوج  عجز کے در کا خراج ہے لیکن
سبھی کے دل پہ یہ در وا نہیں ہوا کرتا

جو نہ ہو ، وہ بھی دیکھ لیتے ہو
تمہیں کتنا دکھائی دیتا ہے
وہی کُل کائنات ہے اُس کی
جس کو جتنا دکھائی دیتا ہے

یہ دکھائی دینا ہی علم کی بنیاد ہے ۔ جس کی باطنی آنکھ کھُل جائے اُسے خیر ِ کثیر عطا ہو گئی ۔ موجودات ِ عالم میں حق کا ظہور بہ قدر ِ استعداد ہے ۔۔ فرمان الہی ہے:

فإذا سويته ونفخت فيه من روحي

یعنی جب اُسے سنوارا گیا تو اُس میں اپنی روح پھونکی ۔ اربابِ معرفت نے تعلیم دی کہ وجود کے مراتب میں انسان ہی سب سے احسن ہے ۔ اس لئے وہ ذات و صفات ِ خالق سے نسبت کی فطری تڑپ رکھتا ہے ۔ تخلیق کار میں یہ تڑپ نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تڑپ اور طلب کبھی انکار میں ظہور کرتی ہے کبھی اقرار میں ۔ جواد کے ہاں انکار کی صورت زیادہ دکھائی دی ہے :

زندگی خوف ہی میں کیوں گزرے
وہ خدا ہے مگر خدا ہی تو ہے

خدا کے بارے میں اِک دن ضرور سوچیں گے
ابھی تو خود سے تعلق بھی اُستوار نہیں

خود سے تعلق استوار کرنے کے عمل نے جواد کے ہاں ایک وارفتگی پیدا کی ہے ۔ بے ساختہ پن اور وارفتگی کا عُنصر جواد شیخ کی شاعری میں فطری انداز کا بہاؤ پیدا کرتا ہے۔
گھڑے ہوئے شعر میں تصنع اور بناوٹ کی فراوانی شعر کو بے لطف بنا دیتی ہے ۔ یہ وہی فرق ہے جو ڈرائنگ روم کی پُر تکلف گفتگو اور گھاس پر بیٹھے دوستوں کی گپ شپ میں ہے۔ جواد کے اشعار میں اپنائیت کی فضا ہے۔ مانوس کیفیات ہیں اور بے ساختہ پن کی کشش ہے۔ دوسری غزل کے دوسرے شعر نے کتنی ہی دیر مجھے آگے نہیں بڑھنے دیا:

تُو اِسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی ؟
چرخ کو دیکھنے والی ! ترا چرخہ ٹُوٹے

اس شعر میں بے شک ایک انتباہ بھی ہے اور دعوت ِ عمل بھی ، لیکن اس " چرخہ ٹوٹے " میں جو لاڈ بھری کیفیت ہے وہ سب پر بھاری ہے۔ اِسے ہم اُس ماں کے جملے میں دیکھ سکتے ہیں جو بچّے کو اِس انداز میں ڈانٹتی ہے کہ " ستیاناس اُس ٹی وی کا جس کے سامنے تم ہر وقت بیٹھے رہتے ہو"۔
وارفتگی اور روانی کا امتزاج کیفیت کو دو آتشہ کر دیتا ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ شاعر نے قلبی شیفتگی اور ذوق و شوق سے اقلیم ِ سخن میں قدم رکھا ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشّہ ٹُوٹے

تو کیا یقین دِلانے سے مان جاؤ گے ؟
یقیں دلاؤں کہ یہ ہجر دل پہ بار نہیں ؟

کوئی کوئی بات میں اکثر استعارے روایت سے جُڑے ہوئے ہیں:

سوچتا ہوں کچھ گلے شکوے مٹاتا ہی چلوں
آفتاب  ِ  زندگی  اب   آن    پہنچا   بام    پر

لیکن کہیں کہیں تشبیہات و استعارہ میں نیا پن بھی جھلک دکھاتا ہے:

بات چھڑی تو پھر معلوم پڑا جوّاد
اُسکی یاد کا لاوا اندر بیٹھا ہے               (استعارہ)

اس طرح زندگی نے منہ موڑا
جس طرح بات موڑ دی جائے                  ( تشبیہہ)

آج کی غزل جس مرحلے پر ہے وہاں انگریزی زبان کا بے دھڑک استعمال جدّت کہلاتا ہے ۔ بے شک اردو نے دوسری زبانوں کے الفاظ کو فراخ دلی سے اپنے دامن میں جگہ دی ہے لیکن اس جوش ِ وسعت میں بعض شعرا تنگی ء لطف ِ سخن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نئی لفظیات کا ذوق و شوق اس کتاب کی پہلی غزل میں نمایاں ہے:

دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اِک جنبش ِ دل
صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی

اب مرا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے
اب کوئی فلم مکمّل نہیں دیکھی جاتی

لیکن کتاب کے مذید مطالعہ سےمحسوس ہوا کہ جواد نے اس شوق کو بے مہار نہیں ہونے دیا کیونکہ وہ تلازماتی نظام کا خیال رکھنے والے شاعر ہیں ۔ تلازمہ کاری شعر میں عیاں ہو کر آئے یا نہاں ہو کر، لطف ، تاثیر اور معانی میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے ۔ جواد کا ہنر دیکھئے :

کہاں کہاں لئے پھرتا یہ درد کا انبار
مرے خیال اگر سربسر نہیں چلتے

بہت سے شعرا کی تلازمہ کاری مطلع میں ناکام ہو جاتی ہے یا نامکمل رہ جاتی ہے ۔ بعض اوقات مطلع فقط بیان بازی رہ جاتا ہے، دوسرا مصرع نفسِ مضمون میں کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ جواد نے اس امر کو ملحوظ رکھا ہے۔
چند مطلعے ملاحظہ ہوں :

کسی بھی حال میں ہو معتبر ہی لگتا ہے
وہ عام شخص نہیں ، دیکھ کر ہی لگتا ہے

اب کوئی بات ہی نہ کی جائے
کیا خبر کس طرف چلی جائے

میری دعا ہے کہ جواد کا مجموعہ ء شاعری " کوئی کوئی بات " اقلیم ِ شعر و سخن میں " خاصی بات " کا درجہ حاصل کر سکے ۔