دو کالموں کی کہانی

خورشید ندیم، پاکستان کے ان دانشوروں میں نمایاں ہیں جو پاکستان کو مہم جُو نظریات کی بجائے، منطق، استدلال اور پُرامن جمہوری طریقے سے ایک جدید ریاست اور سماج بنانے کے خواہاں ہی نہیں بلکہ اس کے لیے سرگرم بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم اوربیان سے اس جدوجہد کو زندہ رکھا ہے جس میں ایک خوشحال اور روادار سماج اُبھر کر سامنے آئے۔

انہوں نے قلم اور بیان کی اس جدوجہد کو اب تنظیم میں بھی ڈھال دیا ہے اور ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی ہے، جہاں مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو اکٹھا کرکے سماج اور ریاست کے معاملات پر گفتگو، بحث اور لائحہ عمل کے لئے عملی تجاویز تلاش کی جاتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے راقم کو فون کیا کہ لاہور میں میڈیا سے متعلق چند اہل فکر لوگوں کو ایک محفل میں شرکت کی دعوت ہے جس میں ’’دیرپا امن اور انصاف کے قیام کے لیے میڈیا کا کردار ‘‘ موضوع بحث ہے، لہٰذا آپ کو اس میں شرکت کی دعوت ہے۔ یہ ایک سیرحاصل محفل تھی۔ راقم کے علاوہ زیادہ تر لوگ ایک ہی نقطۂ نظر کے تھے۔ ہمارے ہاں آج کل لبرل اور ترقی پسندوں کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ اگر اس کٹہرے میں وہاں موجود دو لبرل دوستوں کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تین افراد میں بدل جائے گی۔ وہاں پر موضوع کے حوالے اور موضوع کے اردگرد گفتگو ضرور ہوئی۔ لیکن راقم کی نظرمیں وہاں ترقی پسند نقطۂ نظر نہایت کمزور تھا عددی حوالے سے۔ کیا ہی شاندار بات ہوتی اگر اس محفل میں مجیب الرحمن شامی، سجاد میر، عامر خاکوانی اور دیگر احباب کے علاوہ ڈاکٹر مہدی حسن، حسین نقی، خالد چودھری، ڈاکٹر لال خان، فاروق طارق اور علی جعفر زیدی بھی موجود ہوتے۔ یوں محفل میں بحث کا توازن شاندار ہوجاتا۔

اس محفل میں جب یاسر پیرزادہ نے یہ کہا کہ ہمارے ہاں ریاست ایک طویل عرصے تک مسلح لوگوں کی سرپرستی کرتی رہی ہے تو محفل میں موجود متعدد لوگ ان کو جواب یا دلیل دینے کی بجائے، ان پر برس پڑے۔ ایک دوست جو نئے نئے کالم نگار بنے ہیں، اپنی اونچی آواز میں ان کو دبوچنے پر تلے نظر آئے۔ یاسر پیرزادہ کے اس موقف پر مجیب الرحمن شامی نے اپنے طے شدہ وقت کے علاوہ بھی ردِعمل ظاہر کیا جو کچھ اس طرح ہے کہ ملاعمر ایک قانونی حکمران تھے، پاکستان نے طالبان کی کوئی مدد نہیں کی، وہ ایک مزاحمتی تحریک تھی۔ وہ افغانستان کے لوگوں کی مرضی اور رائے سے بننے والی قانونی حکومت تھی اور یہ کہ ریاست پاکستان نے کبھی بھی مسلح گروہوں کی سرپرستی نہیں کی اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے خطیبانہ تجربے کو بروئے کارلاتے ہوئے آواز کے مدوجزر کو بھی استعمال کیا اور پوچھا کہ یاسر پیرزادہ بتائیں ریاست نے کہاں مسلح گروہوں کی سرپرستی کی ہے۔

راقم کے پاس گو لاتعداد حقائق پر مبنی معلومات تھیں، لیکن ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایسے سوالات کے جوابات ان لوگوں کو دینا مناسب نہیں جو ریاست کے اس کردار میں شامل رہے ہوں جنہوں نے ریاست کو مسلح گروہوں اور کڑے آمرانہ قوانین اپنانے کا حق دیا اور یہ حق ان لوگوں نے ایک ایسی حکومت کو دیا جو بالکل غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر عوامی تھی، یعنی جنرل ضیاالحق کی سرپرستی میں مسلط کردہ ریاستی پالیسی جس میں ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی گئی۔ بلکہ مجیب الرحمن شامی نے جنرل ضیاالحق کو خصوصی طور پر فون کرکے ان چار گواہوں کو پھانسی پر چڑھانے کا مشورہ دیا تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ریاست نے تیار کئے تھے۔  مجیب الرحمن شامی ان دنوں جنرل ضیاالحق کے اُن احباب میں سرفہرست تھے جن کو جنرل ضیاالحق قیمتی مشاورت کے لئے رات گئے یا صبح صبح فون کرکے بستر سے اٹھا لیتے تھے۔ مجیب الرحمن شامی نے جنرل ضیاالحق کو یہ دلیل دی کہ جن کی گواہی پر جناب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی، اگر انہیں بھی پھانسی نہ دی گئی تو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی Legitimate نہیں رہے گی۔ جبکہ ان گواہوں کو جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل نے راضی کیا تھا کہ آپ ایک مرتبہ بھٹو کے خلاف گواہی دے دیں، آپ کی سپریم کورٹ میں پھانسی کی سزا برقرار رہے گی لیکن صدر جنرل ضیاالحق کے پاس اپیل پر آپ کو معافی دلا دی جائے گی۔ اس ساری کارروائی یا واردات کے ایک گواہ عابد حسن منٹو ابھی حیات ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی پر چڑھانے کا عمل، جنرل ضیاالحق کی آمریت کے اسباب تلاش کرنے کے سیاسی جواز جس میں مذہب سرفہرست آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس نے کس طرح ریاست کو متشدد کرنے کی جانب راغب کیا اور مسلح گروپوں کی سرپرستی کی، اس کی طویل داستان ہیں۔ اس میں اُن دانشوروں اور صحافیوں نے جنرل ضیاالحق کو اسلام کے پیرائے میں امیرالمومنین جیسے القابات سے نوازا جو آج یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی ریاست نے اسّی کی دہائی میں مسلح گروہوں کی سرپرستی نہیں کی جس کا خمیازہ آج خود ریاست پاکستان بھگت رہی ہے اور اس کا ازالہ پاکستان کی مسلح افواج ضربِ عضب کی صورت کررہی ہیں اور جامِ شہادت نوش کر رہی ہیں۔

تاریخ کو مسخ کرنا اور حقائق کو تسلیم نہ کرنا ہمارا قومی وتیرہ ہے۔ کیا نام نہادافغان جہاد سی آئی اے کے مسلح آپریشن کی سرپرستی میں نہیں کیا گیا؟ کیا جنرل ضیا کی حکومت اس سامراجی منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھی جس کے تحت دنیا بھر سے اکٹھے کئے گئے لوگوں کو سرزمین پاکستان میں اسلحے کی ٹریننگ ہی نہیں دی گئی بلکہ دہشت گردی کے نئے نئے طریقے سکھلائے گئے؟ افغان مجاہدین کے بطن سے جنم لینے والے طالبان اور دیگر مذہبی مسلح گروہوں سے لے کر ایم کیو ایم تک لسانی بنیاد پر سیاست میں اسلحے کا تعارف اسی ریاستی پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کی طرف اشارہ  یاسرپیرزادہ نے اس محفل میں کیا۔ پاکستان کو اسلحے کا گڑھ، عالمی طاقتوں کے جنگی منصوبوں کا اکھاڑا اور عام لوگوں میں ڈالر اور بم تقسیم کرنا ، اسی پالیسی کے تحت ہوا جس کی آمرانہ سرپرستی جنرل ضیا اور اس کے فکری اتحادی کررہے تھے۔ آج پاکستان اس مسلح دہشت گردی کا شکار ہے جس کا آغاز ان دانشوروں کی ہلہ شیری سے ہوا جو بھٹو کو سرعام پھانسی پر لٹکانا اور دوسرے کو برداشت کرنے کی بجائے مٹانے کے لیے سرگرمِ عمل تھے۔

1977 سے لے کر 1988 تک کے اخبارات اور جرائد کھول کر پڑھ لیں تو معلوم ہو گا کہ جنرل ضیا اور اس کے ’’رفقاء کار‘‘ کے ساتھ ان صحافیوں اور دانشوروں نے اس سماج کو دہشت، بندوق، مکالمے کے خاتمے، عدم برداشت اورفکری بحثوں کی بجائے سرقلم کردینے کی راہ پر کیسے ڈالا۔ یہ محفل واقعی ایک متوازن محفل بن جاتی، اگر چند ایسے احباب کو بھی دعوت دی جاتی جن میں کچھ کے نام اوپر درج کئے گئے ہیں۔ البتہ خورشید ندیم یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایسی بحث کا آغاز کیا ہے اور ان لوگوں کا نقطۂ نظر دوبارہ سننے کو ملا ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے کئے کو درست قرار دینے کی قبائلی روایت پر تلے ہوئے ہیں۔

قارئین، ضروری ہے کہ اس کالم کے ساتھ آپ مورخہ 28فروری کو جناب مجیب الرحمن شامی کا کالم ’’ یہ ہمارے اہلِ دانش‘‘ اور اسی تاریخ کو شائع ہونے والا جناب یاسر پیرزادہ کا کالم ’’پاکستانیوں کی بحث کے فارمولے‘‘ پڑھ لیں۔ شکریہ