مسلمان عورت کا حق طلاق

ایک خبر کے مطابق پاکستان کی خواتین میں طلاق اور علیحدگی حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کی بدسلوکی اور ازدواجی تلخیوں کی بھرمار کے سبب پاکستانی خواتین طلاق حاصل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ اکثر ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ طلاق کے مطالبے پر خواتین کو جان سے ہی مار دیا گیا۔ کشور حسین شاد باد کے دارالحکومت اسلام آباد میں 2014 میں لگ بھگ چھ سو خواتین نے اپنے مجازی خداﺅں سے طلاق حاصل کی۔ جبکہ 2012 میں خاندان کی ”عزت و وقار و غیرت“ کے نام پر 1661 خواتین و لڑکیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام کے قلعہ پاکستان میں 92 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ کسی مظلوم کو طلاق حاصل کرنا ہو تو طویل عدالتی کارروائی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ خواتین کے لئے یہ سیدھا سادا راستہ بھی پرخطر ، پرتشدد اور جان جوکھم کا راستہ بنا دیا جاتا ہے تا کہ وہ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔

مسلم معاشرہ میں طلاق حاصل کرنا ایک معیوب اور گھٹیا امر تصور ہوتا ہے لیکن جب سے دنیا میں خواتین کی بیداری کی تحریکیں چلنا شروع ہوئی ہیں، خواتین کو زیادہ اختیارات ملنے لگے ہیں جس کے لئے وہ ساری عمر ترستی رہی ہیں۔ خواتین اب باشعور ہوتی جا رہی ہیں ورنہ مسلم معاشرے کی عورت کو 14 سو سال سے باورچی خانے میں قید کر دیا گیا تھا لیکن اب ان میں مردوں کی بالا دستی کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ اور ان کے جبر و زبردستی سے آزاد ہونے کا رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب شوہر کی چاہت نہ ہو تو اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے جب عورت کمانے والی ہو تو اس کو ازدواجی زندگی میں صرف شوہر کی چاہت کی ضرورت ہوتی۔ مالی طور پر وہ خود اپنے پاﺅں پر کھڑی ہیں۔ اس کو چاہئے صرف چاہت و محبت۔ جب چاہت ہی نہیں تو ازدواجی زندگی کیسے خوش و خرم ہو سکتی ہے؟
ایک متوسط طبقے کی خاتون کا کہنا ہے کہ جب ہم بھی ملازمت کر رہی ہیں تو ایثار و قربانی صرف ہم ہی کیوں دیں؟ خدا نے طلاق یا خلع کی اجازت دی ہے لیکن بیوی کو زدوکوب کرنے کی اجازت نہیں دی (ہائے بے چاری بھولی اور معصوم عورت) طلاق حاصل کرنے کا رجحان نہ صرف پاکستان میں بلکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں میں بھی تیزی سے سر اٹھا رہا ہے۔ طلاق کی صورت میں برطانوی سرکاری خزانے سے لاکھوں پونڈ کی رقم صرف ہوتی ہے۔  کیونکہ طلاق کی صورت میں جوڑوں کو مالی طور پر فائدہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی جو انگلینڈ میں رہتے ہیں، نے دھڑا دھڑ ” طلاقوں“ پر زور دے دیا ہے۔ یہ طلاق صرف کاغذات میں ہوتی ہے لیکن مولوی کے نکاح کو بدستور قائم رکھا جاتا ہے چنانچہ برطانوی حکومت ان دنوں اس مسئلے سے نبٹ رہی ہے۔
 
”حقیقی جمہوریت“ کی طرح حقیقی طلاق کا گراف نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی بڑی تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ جہاں تک طلاق کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے کتاب و سنت کے بعد شریعت کا تیسرا ماخذ ” اجماع “ ہے۔ اس وقت اہل سنت والجماعت کے پانچ مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، سلفی جبکہ اہل تشیع کے یہاں فقہ جعفری پر عمل ہوتا ہے۔ ان تمام مکاتب فکر کی کتابیں موجود ہیں۔ میرے علم کے مطابق ان میں سے کسی کے یہاں بھی طلاق واقع ہونے کے لئے مصالحتی کوشش کا ہونا شرط نہیں ہے۔ کسی بھی کتاب میں طلاق دینے کے سلسلے میں ایسی کسی بھی شرط کا ذکر نہیں ملتا۔ اس لئے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس بارے میں ملت یا امہ یا جو بھی ہے کا اجماع و اتفاق ہے۔ یہاں تک کہ علیحدگی کی صورت میں ثالثی کو بھی ضروری قرار نہیں دیا گیا بلکہ اس کا کوئی ذکر ہی نہیں آیا۔ لہٰذا  یہی قیاس ہوتا ہے کہ طلاق  کے لئے بھی پہلے ثالث کے ذریعے معاملہ طے کرنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ قرآنی آیات میں مرد و عورت کا درجہ بتایا گیا ہے کہ مرد صدر خاندان ہے (صدر پاکستان کی طرح) اور عورت پر جائز امور میں اس کی اطاعت واجب ہے۔ چونکہ حقوق و فرائض کے بارے میں اکثر نزاع پیدا ہو جاتا ہے اور میاں بیوی کی ہمہ وقتی رفاقت کی وجہ سے ان کے درمیان نزاع کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے اس لئے خاص طور پر میاں بیوی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اگر بیوی شوہر کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرے اور اس کی وجہ سے تعلقات میں ناخوشگواری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو شوہر ذاتی طور پر اس کو حل کرنے کی کوشش کرے اور اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ پند و نصیحت ، عارضی طور پر ترک تعلقات اور سرزنش اور اگر اس سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو سماجی مداخلت۔
 
یعنی سماج کو چاہئے کہ باہمی جھگڑا طے کرانے کے لئے دونوں خاندانوں کے اختلافات کو ختم کرانے کی کوشش کرے۔ یاد رہے کہ یہ سب ایک عمومی نصیحت ہے۔ چونکہ ازدواجی رشتہ خاندان کے استحکام کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اس لئے خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں دراڑ نہیں پڑنی چاہئے۔ شوہر بھی ذاتی طور پر اس کی کوشش کرے اور معاشرہ یا سماج بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن اس کا تعلق خاص طلاق کے مسئلے سے ہرگز نہیں بلکہ کسی بھی قسم کا اختلاف شوہر و بیوی میں پیدا ہو تو اسے اس طرح حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اگر بیوی تحریری طور پر طلاق طلب کرے تو شوہر 90 دن کے اندر طلاق دے ورنہ نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا۔ اس لئے نکاح نامے کی طرز پر معیاری طلاق نامہ بھی ہونا چاہئے جبکہ طلاق کی بھی رجسٹریشن کی جائے۔
 
طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان سے مسلم ممالک اور مسلم معاشروں میں طلاق ازدواجی زندگی میں تلخیاں گھول رہی ہے۔ شوہروں کی بدسلوکی کی وجہ سے خواتین طلاق حاصل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ اس لئے اگر علیحدگی کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے تو جلد از جلد اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔ طلاق کو مشکل بنانا بظاہر عورت کے مفاد میں نظر آتا ہے لیکن یہ اس کے حق میں مضر رساں عمل ہے۔
 
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ پاکستان کی 90 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔
 
غموں کا کوئی بھی موسم نہیں ہے
یہ میلہ سال بھر لگنے لگا ہے!