دولت اور خوشی
- تحریر محی الدین عباسی
- بدھ 02 / مارچ / 2016
- 8552
گزشتہ دنوں انگلینڈ کی ایک یونیورسٹی کے حوالے سے ریڈیو ٹیلیوژن اور اخبارات میں ایک نئی تحقیق کا بہت چرچا رہا ۔ نئی تحقیق نے یہ مثل غلط ثابت کر دی ہے کہ پیسوں سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی۔ واروک یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو آسوالڈ نے کہا ہے کہ چھوٹی لاٹری نکلنے یا ورثہ میں رقم ملنے سے حقیقی تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔
تاہم نو ہزار خاندانوں سے تحقیق کے دوران عام آدمی پر توجہ مبذول رکھی گئی۔ محققین کے مطابق مستثنیات موجود ہیں۔ پروفیسر آسوالڈ مسرت اور معاشی کارکردگی کے شعبہ کے معروف محقق ہیں اور تازہ تحقیق میں جوناتھن گارڈنر بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو کو ایک انٹرویو میں بتایاکہ دولت کے ساتھ تسکین حاصل ہونے کا مضبوط تعلق ظاہر ہؤا ہے ۔ ہمیں معلوم ہؤا ہے کہ ایک ہزار ڈالر کی چھوٹی سی لاٹری نکلنے سے بھی لوگ بہت خوش ہو جاتے ہیں ۔ ایک لاکھ پونڈ مل جائیں تو انتہائی تکلیف میں مبتلا شخص خوشی کی تصویر بن سکتا ہے۔ اس تحقیق کے باوجود یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک عام آدمی کا ذکر ہو رہا ہے اور اس کو ہر شخص کے لئے درست نہیں سمجھا جا سکتا ۔ مثال کے طور ر انگلش اخبار سن نے خبر دی کہ ایک شخص کو دو سال پہلے نیشنل لاٹری میں بیس لاکھ پونڈ ملے لیکن اس کے باوجود وہ شراب پیتے پیتے مر گیا ۔
اس حقیقت سے تو ہر زمانے کے لوگ اچھی طرح واقف اور آگاہ رہے ہیں کہ دولت کا انسان کی زندگی میں بہت اہم اور بنیادی کردار ہے۔ بعض لوگ جو یہ دعوٰی کرتے رہے کہ دولت اور روپے پیسے کی کوئی اہمیت نہیں ہے ان کا یہ دعویٰ حقائق کی دنیا میں کبھی ثابت نہیں ہو سکا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اس حقیقت کو انتہائی حکیمانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ کادالفقر ان یکون کفرا کہ غربت انسان کو کفر تک پہنچا سکتی ہے۔اسی امر کے پیش نظر محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس امر کی تاکید فرمائی کہ کسی شخص کو بے کا رنہیں رہنا چاہئے۔ ضروری ہے کہ قوم کا ہر فرد اپنی پوری صلاحیتوں اور توانائیوں کو کام میں لاتے ہوئے ایک مفید اور فعال شہری کی زندگی بسر کرے۔ رسول کریم ﷺ کی سیرت مقدسہ اور آپ ﷺ کا اسوہ ء حسنہ اس سلسلے میں بہترین رہنما اور مشعل راہ ہیں ۔
روپے پیسے کی اہمیت کے باوجود یہ کہنا بھی کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ اس کے ذریعے خوشی خریدی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ اس مثال سے بھی جس کا اوپر ذکر ہؤا پتہ چلتا ہے کہ بیس لاکھ پاؤنڈ کی ایک بڑی رقم بھی اس کے مالک کو خوشی نہ پہنچا سکی بلکہ وہ اس کی نا خوشی اور ہلاکت و تباہی کا باعث بن گئی۔ تاریخ ایسی اور بھی بہت سی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ دولت و ثروت کے باوجود انسان نا خوش رہا بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ دولت کی کثرت دکھوں اور تکلیفوں کا ذریعہ بن گئی ۔ دولت کے نتیجے میں تو لالچ اور حرص میں اضافہ ہونے سے بسا اوقات انسان دیوانوں کی طرح اپنی دولت کو بڑھانے اور اس میں اضافہ کرنے کی کوششوں میں اس طرح منہمک ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی وہ دولت استعمال کرنے یا اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ رسول کریم ﷺ نے ایسے لالچ کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بڑے سے بڑے پہاڑ کے برابر بھی اگر کسی کے پاس سونا ہو تو وہ پھر بھی یہی چاہے گا کہ اسے اتنا ہی سونا اور مل جائے اور لالچی انسان کا منہ قبر کی مٹی سے ہی بھر سکتا ہے۔
مال و دولت کی اہمیت ایک اور رنگ میں بیان کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ شخص قابل ر شک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دولت سے نوازا اور وہ اسے کسی بخیل اور لالچی کی طرح نہیں رکھ چھوڑتا بلکہ وہ اسے کھلے دل سے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے نیک کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں سچی خوشی کے حصول کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا ہے۔ یعنی مال و دولت کو خداتعالیٰ کا انعام اور احسان سمجھتے ہوئے اپنے پاس روکے رکھنے کے بجائے ، اچھے اور صحیح مواقع پر خرچ کرنا حقیقی اور لازوال خوشی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ قرآن کریم نے اسے ابدی اور لازوال صداقت کو الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اطمینان اور سکون یا سچی خوشی سے خدا تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے۔یاد رکھنے۔ اور یاد الٰہی کے تقاضوں کو پورا کرنے سے ہی مل سکتی ہے۔