اقتدار کی شطرنج ۔۔۔ فیصلہ کب ہوگا
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 05 / مارچ / 2016
- 4213
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور سابق ناظم اعلیٰ بلدیہ کراچی مصطفی کمال نے دو روز قبل کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی جماعت کے بانی رہنما الطاف حسین پر شدید تنقید کی اور نئی سیاسی جماعت بنانے اور نئے انداز میں جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں، جسے ملک بھر کے الیکٹرانک میڈیا نے براہ راست دکھایا، الطاف حسین پر غداری، ملک دشمنی اور دہشت گردی کے الزامات لگائے۔
مصطفی کمال نے کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں اردو بولنے والوں کا مقدمہ لڑتے ہوئے الطاف حسین کو جس شدت کے ساتھ نشانہ بنایا، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ اب نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ایم کیو ایم کے سپورٹر جس طرح اپنے بانی قائد الطاف حسین کے سحر میں گرفتار ہیں، اس سحر کو مصطفی کمال نے بے اثر کرنے کا تیزرفتار آغاز کر دیا ہے۔ مصطفی کمال بحیثیت ناظم کراچی اپنی لیڈرشپ کا لوہا پہلے ہی منوا چکے ہیں۔ اُن کا بیان ایک تنگ نظر لسانی لیڈر کی بجائے وسعت قلب کے حامل روشن خیال لیڈر کا تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنی اس پریس کانفرنس میں کیا۔
پاکستان کی اقتدار کی سیاست شطرنج کے کھیل کی طرح جس طرف جا رہی ہے، اس میں ایم کیو ایم کے اس رہنما کی بغاوت اگلے انتخابات سے قبل کئی زاویے طے کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ سیاسی بھونچال کی خبریں دینے والے تجزیہ نگار جس طرح مارچ کے مہینے کو ’’ فیصلہ کن‘‘ قرار دے رہے ہیں، وہ کسی طفلانہ تجزیے کے سوا کچھ نہیں۔ راقم کی اطلاع کے مطابق، ریاست کے ایک اعلیٰ ترین عہدے دار نے احتساب کے ایک بڑے اور ’’ خطرناک ادارے‘‘ کے سربراہ سے زیادہ سے زیادہ ایک منٹ کی ملاقات کی۔ اس اعلیٰ ترین عہدے دار نے احتساب کے اس خطرناک ادارے کے سربراہ کو ایک منٹ میں کرپشن کے بڑے سکینڈلز کے فیصلوں کی تاکید کی ہے جو اطلاعات کے مطابق اس ماہ کے آخر میں ہوجائیں گے۔ اسی خطرناک احتسابی ادارے کے اعلیٰ ترین عہدے داروں کی ایک میٹنگ طاقت کے حقیقی مراکز کے اعلیٰ ترین دفتر میں بلائی گئی اور خطرناک احتسابی ادارے کے عہدے داروں کو جلد، فوری اور بے رحم انصاف کی تاکید کی گئی اور اس کے لئے کسی قسم کا لحاظ نہ کرنے کی بھی تلقین کی گئی۔
یقیناًاحتساب کا دائرہ اب کراچی سے پنجاب کی طرف پھیلایا جارہا ہے اور اس دائرے میں نواز حکومت کے بڑے تاجر رفقاء کار پر ہاتھ ڈالنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور یہ طے ہے کہ ’’ان طوطوں کو پکڑ لو جن میں شہزادے یا شہزادوں کی جانیں ہیں۔‘‘ ایسے میں ریاست کے وہ تمام ادارے جن کا کام ملزمان کو گرفت میں لینا ہے، ہر روز متحرک ہوتے جا رہے ہیں، بشمول ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ۔ اس احتسابی عمل اور ’’ شہزادوں کی جان رکھنے والے طوطوں‘‘ کو پکڑنے کے عمل میں آصف علی زرداری مستقبل قریب کی منصوبہ بندی میں آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ پیش کررہے ہیں کہ ’’سرکار ہم آپ کے ساتھ ہیں، تخت لاہور کے رفقاء کار پر گرفت ڈالنے میں۔‘‘ آصف علی زرداری نے اپنی پارٹی کے اعلیٰ ترین قائدین کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب اور مرکز میں طوطوں کو پنجروں میں ڈالنے میں ریاست کے ’’ طاقتوروں‘‘ کا ساتھ دو۔
پاکستان کی جمہوریت میں جمہور کا کام صرف ووٹ ڈالنا ہے، اقتدار کا فیصلہ انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اقتدار میں آنے والوں کو باہر نکالنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اقتدار کے اس سراب کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ انتخابات کی حقیقی تیاریاں کسی بھی انتخابات کے طویل عرصہ قبل ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ جیسے 2013ء کے انتخابات سے قبل تحریک انصاف کی امیج بلڈنگ کی گئی اور 1977ء کے انتخابات سے قبل ’’ پاکستان قومی اتحاد‘‘ کی طاقت کو منظم کیا گیا۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل طاقت کا توازن رکھنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا مینارِ پاکستان کے سائے میں جلسہ اور دیگر جلسے دراصل قبل از انتخابات منصوبہ بندی تھے کہ مسلم لیگ (ن) کو نکیل ڈال دو۔ اب یہ طے کیا جارہا ہے کہ اقتدار کی شطرنج کے کھیل میں 2018ء سے پہلے معاملات اپنی ڈگر پر ڈال دئیے جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کو اپنی جگہ پر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی پیچھے رکھا جائے کہ وہ مختلف منصوبوں کے تحت کہیں مقبولیت میں نکیل سے باہر نہ نکل جائے۔ کوئی معاملہ مارچ میں مکمل نہیں ہوگا، بلکہ سارا معاملہ 2018ء کے انتخابات میں طے ہوگا۔ ابھی صرف اقتدار و اختیار کی "Limits" کی لکیریں کھینچی جا رہی ہیں۔ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس ، آصف علی زرداری کی عالمی اور مقامی اقتدارکے مراکز میں نئی صف بندی اس منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ موجودہ پنجاب کی حکومت اور وفاق کی حکومت کا تسلسل اگلے انتخابات میں جاری نہ رہے۔ میرے وہ سادہ دل دوست چونک جاتے ہیں جن کو میں دو سال سے اس منظرنامہ کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں کہ تصور کریں کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان اور آصف علی زرداری جمہوریت کے عظیم ترین مستقبل کے لئے اتحادی ہوں گے۔
جاری منظر نامے پر زیادہ تر تبصرے رپوتاژ ہیں۔ لطف تو تب ہے جب آپ اپنے تجزیے کو مستقبل کی بھٹی میں آزمائیں۔ لہٰذا وہ انتخابی مہم جس کی 2018ء کے انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن اجازت دے گا، یقیناًانتخابی قواعد کے تحت 2018ء کے انتخابات سے چند ہفتے قبل ہی چلے گی۔ لیکن اقتدار کے انتخابی مراکز میں الیکشن مہم کا آغاز ابھی سے ہوچکا ہے۔ ہم جلد ہی دیکھیں گے کہ اس سارے منظرنامے میں کتنے لوگ کٹہروں میں کھڑے ہوں گے اور کتنے لوگ اپنے اتحادیوں کے سامنے کھڑے احتساب مزید احتساب اور پنجاب میں احتساب کا مطالبہ کرتے تالیاں بجا رہے ہوں گے، جن میں عمران خان اور آصف علی زرداری پیش پیش ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں۔