پیا رنگ کالا۔۔۔ روحانی سفر

لاشے بکھر رہے ہیں۔ چیتھڑے اڑ رہے ہیں۔لوگ لٹ رہے ہیں۔ عزتیں بکھر رہی ہیں۔ خاندان ٹوٹ رہے ہیں۔سرمایہ گم ہو رہا ہے۔ بے پناہ دولت ہونے کے باجود سکون نہیں مل رہا۔ دشمن کی یلغار سے نہیں ۔ بلکہ آج تک دشمن کی پہچان ہی نہیں ہو پائی۔ کبھی کہا جاتا ہے اپنے ہیں۔ کبھی سننے کو ملتا ہے اغیار ہیں۔ کبھی لفظوں کی دھونی دی جاتی ہے کہ ہیں تو اپنے لیکن اغیار کے ساتھ ہیں۔ ہر سمت ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ گپ اندھیرا ہے جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ اور پھر اچانک محسوس ہوتا ہے کہ مصنوعی روشنی کا ایسا سمندر ہے جس کی چکا چوند سے آنکھوں کے پپوٹے درد تو کرتے ہیں لیکن اس روشنی سے سکون کی دوا نہیں ملتی ۔ ہیجان کا اثر نمایاں ہے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ گھر سے جانے والا واپسی کی امید نہیں رکھتا۔ گھر واپس آ جانے والا دوبارہ باہر جاتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا ؟ کیا وجوہات ہیں جن سے پورا معاشرہ ہیجان میں مبتلا ہے۔

ایک دور تھا کسی اللہ والے کے دعا کے لیے اٹھے ہاتھ سکون کی منزل پہ پہنچا دیتے تھے۔ آج لاکھوں خرچ کر کے بھی ناکام و نامراد گھروں کو لوٹتے ہیں۔ماضی قریب میں خلوص دل سے سادے کاغذ پہ صرف " اللہ" لکھ کربے چین بچے کے گلے میں ڈال دیا جاتا تھا تو اسے چین مل جاتا تھا ۔لیکن آج ہزاروں جوتشیوں، جوگیوں، نجومیوں، پیروں فقیروں کو نذرانے دینے کے باوجود بچوں سے لے کر بڑوں تک بے چینی و بے سکونی میں مبتلا ہیں اور کوئی حل نظر نہیں آتا۔پرانے وقتوں میں کسی فقیر کو سوکھی روٹی دے کر ڈھیروں دعائیں حاصل کر کے ہی ذہنی سکون مل جاتا تھا لیکن آج موبائل فقراء کو لاکھوں نذرانے بھی مل جائیں تو وہ دعاؤں کے معاملے میں کنجوسی ہی برتتے ہیں۔ کیوں کہ در حقیقت ان کا فقر سے کسی قسم کا لینا دینا نہیں ہوتا۔ یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ آج کل دیہاڑی فقیروں کی بہتات ہو گئی ہے جس سے حقیقی اللہ والوں کو ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔ کافی عرصہ پہلے ایک بزرگ کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔ اورنظر کے بجائے دل کو سکون سا محسوس ہوا۔ جب اٹھنے لگے تو حیران کن طور پر انہوں نے کچھ لینے کے بجائے اپنے پاس سے کچھ کھانے کی چیزیں اٹھا کر ہمیں دے دیں۔ اور ساتھ ہی مسکرا کر کہا کہ لینے سے زیادہ خوشی دینے میں ہوتی ہے ۔ اور آج تک اس ایک جملے کے طلسم سے باہر نہیں نکل سکا۔ اور سوچا جائے تو اس ایک جملے کا طلسم تمام عمر کی محنت و کوشش کے باوجود بھی سمجھ میں نہیں آ ئے گا۔

آج پھر ایک فقیر کے چند جملوں نے سوچ کے دریچے کھول دئے۔ جب لفظوں میں سکون مل رہا ہو تو یہی لفظ اعمال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ذرا لفظوں پہ غور کیجیے۔ "درویشوں کے دَروں کے کالے کُتے بادشاہوں کے دَرباروں کے سفید ہاتھیوں سے لاکھ درجہ قیمتی اور عزت والے ہوتے ہیں"۔ پھر آگے چل کر تحریر کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
عاشق چور فقیر خدا تُوں منگدے گُھپ ہنیرا
اِک لٹاوے، اِک لُٹے، اِ ک کہدے سب کج تیرا
(عاشق، چور ، فقیر سب خدا سے اندھیرا مانگتے ہیں۔لیکن سب کا مقصد الگ ہوتا ہے۔ ایک کے اندھیرا معشوق سے ملنے کے لیے مانگتا ہے۔ ایک اندھیرا مال کے لیے مانگتا ہے لیکن فقیر کے اندھیرا مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا سب کچھ خدا کو دے دیتا ہے)۔

چند لمحے آنکھیں بند کیجیے اور لفظوں کی تاثیر دل کے اندر محسوس کیجیے۔ ایک ٹھنڈ سی محسوس ہو گی ۔ ایک ایسی خنکی جو تپتی دوپہر میں سایے کی طرح ہوتی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے تواتر سے ملکی میڈیا میں سورۃ رحمٰن کے ذریعے علاج دیکھا تھا۔ جو شاید روشن خیالی کے چکر میں کہیں کھو گیا ہے۔ اب اس فقیر منش ملنگ کے الفاظ پڑھ کے محسوس ہوا کہ واقعی ہم نے روحانیت سے پیچھا چھڑا کے ایسا ناقابل تلافی نقصان کر لیا ہے جس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں تک بھگتیں گی۔ مصنف کتاب میں ایک ایسے جوڑے کا تذکرہ کرتا ہے جو بڑھاپے کی دہلیز پہ قدم رکھ چکتا ہے لیکن اولاد کی نعمت سے محروم ہے پھر اللہ اس جوڑے کو نوازتا ہے ایک بالشت بھر کے بچے سے ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ مصنف کے بقول پیدا ہونے والاپیدائش کے وقت بس ڈیڑھ پاؤ نرم بوٹی ہی تھی۔ یہ بچہ پیدائش کے وقت سے ہی اکھڑ مزاج ثابت ہوا تھا۔بقول مصنف یہ گوتھنا سا بچہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے لئے کڑی آزمائش بن گیا تھا۔ مصنف کے بقول اس بچے کا خاصہ" چوبیس گھنٹوں کی ریں ریں" تھی۔ اور محمد دین حجام کے مشورے بچے کا بوڑھا باپ بچے کو بہاول شہیدؒ کے مزار پہ لے گیا اور حیران کن طور پربچے کی ریں ریں ختم ہو گئی۔یعنی روحانیت کا مسافر روحانیت کے منبع تک پہنچ گیا۔ بس پھر کیا تھا بچہ روتا تو باپ بہاول شہیدؒ کے مزار پر لے جاتا۔

یہ ڈیڑھ پاؤ نرم بوٹی کا بچہ " محمد یحییٰ خان " کا نام پاتا ہے۔ جو اس بچے کے باپ نے اپنے ایک دوست (جو کچھ ذرائع کے بقول مفکر پاکستان تھے) کے کہنے پرحضرت زکریا علیہ السلام کی سنت کو پورا کرنے کے لئے رکھا۔ آج دنیا اس بچے کو " بابا محمد یحییٰ خان" کے نام سے جانتی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے الیکٹرانک میڈیا پر جب بابا یحییٰ کو دیکھا اور ان کے علم کے موتی سننے کو ملے۔ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ان سے ملاقات ہو پائے۔ ملاقات تو نہ ہو پائی لیکن ایک عزیز دوست کے توسط سے بابا یحییٰ خان کی کتا ب " پیا رنگ کالا" پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ شرف اس لیے کیوں کہ اس کتاب میں ہر صفحے پر ایک مکمل داستان ہے۔ مکمل زندگی کا حُسن۔ اس کتاب کا ہر لفظ آپ کو روحانیت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے ۔ ایک ایسی روحانیت جو مفقود ہو چکی ہے۔ یہ روحانیت ملازمت کا وعدہ تو نہیں کرتی لیکن ایسا سکون مہیا کرتی ہے جس کو پا کر انسان اپنے انسان ہونے پر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔

" پیا رنگ کالا" پڑھ کر انسان کو گمشدہ سکون مل جاتا ہے۔ ہم نے روحانیت کی روح کی پہچان کھو دی ہے۔ بابا یحییٰ خان جیسی شخصیات اور ان کی تحاریر ہمیں اس کھوئی ہوئی روحانیت کو پانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے تو بس سڑک چھاپ نجومیوں کو ہی مکمل روحانیت سمجھ لیا ہے۔