پاکستان کب بدلا تھا

ہم نہ جانے کون سی مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ کسی حادثے کا کوئی اثر ہی نہیں لیتے۔ کیا ہم واقعی بے حس ہو چکے ہیں یا بالکل بے بس ہو چکے ہیں۔ یا صرف جنازے اٹھانا، احتجاج کرنا، شمعیں روشن کرنا اور فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرلینے تک ہی بات رہ گئی ہے۔ اس سے آگے جانا یا تو ہم بھول چکے ہیں یا ہم جانا ہی نہیں چاہتے۔

ہمارے احتجاج بھی گنتیوں والے ہوتے ہیں ۔ زیادہ دور نہ جائیں اپنے پڑوس میں دیکھ لیں عورتوں کے ساتھ زیادتیوں پر عوامی احتجاج نے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ فرانس میں دہشت گردی پر لاکھوں کے احتجاج ہوئے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسے ردعمل سامنے نہیں آتے۔  انسانی زندگی کی کیا قیمت ہے، یہ ہم ابھی تک نہیں جان پائے ہیں۔ باوجود اس کے کہ کم و بیش ایک لاکھ کے قریب پاکستانی دہشت گردی کی نظر ہو چکے ہیں۔ ان میں سویلین اور قومی ذمہ داری نبھاتے جان دینے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمارے اندراس دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا نہیں ہو رہا اور نہ جانے کیوں سب یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ دہشت گرد ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں۔ بیک وقت کئی نظام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں تاکہ دہشت گردی کے عذاب سے جان چھڑائی جائے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فوجی عدالتوں بنائی گئیں کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے لیکن وہ فیصلے بڑی عدالت سے بے اثر ہوتے جا رہے ہیں۔ چند دن قبل سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس نے ایک رولنگ میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ جس ادارے پر ہاتھ ڈالیں داستاں نکلتی ہے قوم سدھر جائے وغیرہ ۔

ارسٹھ برس بیت گئے آزادی کو لیکن ہم ابھی یہی طے کر نہیں پائے کہ پاکستان میں کونسا نظام لانا چاہئے کیونکہ جمہوری، فوجی اور اسلامی تینوں ہی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اسی کشمش میں ہم کہیں کے نہ رہے۔ پرانے بزرگ اپنے وقت کی جو باتیں سنایا کرتے تھے ان کو یاد کرکے تو یقین نہیں آتا کہ واقعی وہ دور پاکستان کا ہی تھا، جہاں کبھی کسی دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہ تھا، سب کی مساجد اور قبرستان سانجھے ہوا کرتے تھے، گھروں کی دیواریں نہ ہونے کے برابر لیکن پھر بھی کوئی خوف و خطرہ نہ تھا ۔ ایک ہی حقے سے ہندو، عیسائی اور مسلمان کش لیتے تھے، دیوالی، شب رات اور عید اور کرسمس کے تہواروں کو سب اپنی خوشی سمجھ کر مناتے تھے۔ نہ اسلام کو کوئی خطرہ تھا اور نہ ہی کسی کا ایمان لڑکھڑاتا اور نہ ہی نکاح ٹوٹتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں ایک ہی بنچ پر سب مذاہب کے طلبا اکھٹے بیٹھ کر علم کی پیاس بجھاتے ۔ نہ کوئی تعصب، نہ کوئی نفرت اور نہ کسی مذہب کا امتیاز۔ قابلیت اور اہلیت کا دور دورہ تھا۔ اس وقت سرکاری کاغذات میں کسی کا مذہب یا عقیدہ نہیں پوچھا جاتا تھا۔ بس اہلیت اور قابلیت ہی میرٹ ہوا کرتی تھی۔

یہ اسی دور کا تصور پاکستان تھا جب ریاست سب کی ہوا کرتی تھی لیکن مذہب سب کا اپنا اپنا ہوا کرتا تھا۔ کیا آج کا نوجوان کیا اس بات پر یقین کرے گا کہ متفقہ آئین سے پہلے پاکستان میں سب کی مساجد سانجھی ہوا کرتی تھیں۔ اور اس کو خانہ خدا کا درجہ حاصل تھا اور تو اور منٹو پارک میں عید کی نماز تمام مختلف عقیدے والے کچھ کچھ فاصلے پر پڑھا کرتے تھے اور اس کے بعد سب ایک دوسرے کو گلے ملتے اور عید مبارک دیتے۔ ان میں احمدی بھی شامل تھے جو وہاں ہی الگ عید کی نمازیں ادا کرتے تھے۔ ان دنوں محلوں میں لوگوں کے گھرکھلے رہتے تھے اور سب ایک دوسرے کے گھر کو اپنا ہی گھر سمجھتے تھے اور اس کی حفاظت کرتے تھے۔ قتل کا ہونا غیر معمولی بات ہوا کرتی تھی۔ جب کبھی لال آندھی آتی تو بڑے بزرگ کہتے کہ کہیں ناحق قتل ہو گیا اس لئے آسمان سرخ ہو گیا ہے۔ مولوی صرف مسجد تک ہی محدود تھا اور ہر جمعرات کوشام سے پہلے پہلے مسلمانوں کے گھروں سے بچے قریبی مساجد کے اماموں کو کھانا دینے جاتے تھے۔ مجھے خود یاد ہے کہ بچپن میں گلی کے دوست مجھے کہتے تھے کہ آو مولوی صاحب کو کھانا دینے چلیں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب مولوی کو سیاست میں نہیں لایا گیا تھا۔

یہ وہ دور تھا جس میں گھر سے ہی بچے کی تعلیم شروع ہو جاتی اور انسانی ہمدردی کی درس ملتا تھا اور تعلیمی اداروں میں جا کر ذہن اور پالش ہو جاتے ۔ عبد الستار ایدھی  نے ایک بار ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ بچپن میں مجھے میری والدہ دو پیسے دے کر سکول بھیجتیں اور کہتیں کہ ایک پیسہ تمہارا اور ایک کسی اور کا۔ یہ انسانیت کا درس اور دوسروں سے ہمدردی کرنے کی تعلیم ہی ہے جس نے آج عبدالستار کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسی ہی تعلیم و تدریس کے دور میں بڑے بڑے ادیب، دانشور، سائنس دان اساتذہ اور شاعر پیدا ہوئے۔ جن پر آج سب ناز کرتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیا کرتا تھا اور دوسرے ممالک کے لوگ پی آئی اے کی ائیرلائن سے ٹریننگ لیتے تھے۔ پاکستان میں آج کے بڑے بڑے منصوبے اسی دور میں مکمل ہوئے جس پر آج کا پاکستان چل رہا ہے۔ اگر آج کا نوجوان انٹر نیٹ اور فیس بک کو چھوڑ کر کچھ وقت اپنے والدین اور بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان کے پرانے وقتوں کی باتیں سنے تو وہ گم سم ہو جائے گا۔ یقین نہیں کرے گا اور سوچے گا کہ یہ کون ساپاکستان تھا۔

پاکستان کب بدلا ہے اور کیوں بدلا ہے۔ یہ سب کے سامنے کی باتیں ہیں۔  اوریہ زیادہ پرانی بھی نہیں ہیں۔ 1973 کے متفقہ آئین کے بعد ہی وہ سب کچھ ہونا شروع ہو گیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس میں قصور آئین یا جمہوریت کا نہیں ہے۔ نہ ہی ان کی مخالفت ان سطور میں کی جا رہی ہے۔ لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس نئے آئین کے بعد جمہوریت کے  رواداری، احترام انسانیت، مساوات ایسے ا صولوں کی نفی کی جانے لگی تھی۔ جس کی اس وقت اشد ضرورت تھی۔ ایک بہت مضبوط پاکستان بنانے کا موقع ایک ایسی غلطی کر کے ضائع کر دیا گیا جس سے بانی پاکستان نے بھی منع فرمایا تھا۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ نازک چیز جس سے انسان جذباتی ہوتا ہے وہ ہے مذہب کا معاملہ ہے۔ اسی لئے آج  تمام ترقی یافتہ ممالک میں سیاست اور مذہب کو الگ الگ رکھا گیا ہے کہ ریاستی ترقی اور خوشحالی متاثر نہ ہو۔ آج جرمنی کو ایک ملین مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دینے میں جس چیز نے سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا ملکی آئین سیکولر ہے ۔ اس سیکولر آئین میں ہی سب سے زیادہ تحفظ ایک مسلمان کو ملا ہے جو اس کے اپنے وطن میں نہیں مل سکا ۔ ایک مسلمان عورت خواہ وہ ترک ہو، یا شامی یا کسی اور اسلامی ملک کی ، جرمنی ایسے سیکولر ملک میں یہاں گھ اندر اور باہر مساوی محفوظ ہے اور یہی حقیقی ریاست کا تصور بھی ہے۔

پاکستان کے اندر وسائل اور انسانی ٹیلنٹ کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ضائع ہو رہا ہے کیونکہ ملک کا آئین چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ من پسند اور مفادات کی ترامیم نے اس کی شکل ہی بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ ایک طرف آٹھارویں ترمیم کے ساتھ صوبوں کو قانون سازی کے اختیارات دلائے گئے اور اسی کی روشنی میں سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں نے قانون سازی کی۔  جس کو اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر آئین اور غیر شرعی قرار دے دیا اور کہا کہ دونوں اسمبلیوں پر آئین کے آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہو سکتی ہے۔ لہذا عوامی مینڈیٹ کو بحال کرانا اور برقرار رکھنا اشد ضروری ہے۔ سیاست دان عوامی جذبات اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں گے تب ہی ان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا ۔ پس آج پاکستان کے سیاستدانوں کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کو پرامن اور مضبوط پاکستان دینے کے لئے وہ راہیں متعین کرنا ہوں گی جو اس منزل کی طرف جاتی ہوں جس کا گزشتہ اڑسٹھ برسوں سے انتظار ہے۔