آزاد کشمیر کا عشق ممنوع

  • تحریر
  • سوموار 07 / مارچ / 2016
  • 4293

آزاد کشمیر میں نئے ووٹر لسٹوں کی تیاری کے اعلان کے بعد مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے 12حلقوں کے لئے بھی نئی ووٹر لسٹوں کی تیاری کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یوں آزاد کشمیر میں آنے والے الیکشن کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اخبارات میں شائع ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد کے لئے کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور ان دونوں کے درمیان ’’ سیٹ ایڈجسٹمنٹ‘‘ کے لئے رابطے ہو رہے ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے ایک اجلاس میں مسلم کانفرنس سے اتحاد کی بات ہوئی لیکن آزاد کشمیر کی قیادت کی طرف سے اس تجویز کی سختی سے مخالفت کی گئی۔اس سے پہلے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق سے ملاقات کی خبربھی گردش کرتی رہی ہے۔ اس طرح کی سیاسی سرگرمیوں اور خبروں سے آزاد کشمیر کے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے بارے میں 5مارچ کو مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کا مسلم کانفرنس سمیت کسی دیگر سیاسی جماعت کے ساتھ ا تحادیا ’سیٹ ایڈ جسٹمنٹ‘ کا قطعاً کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر مسلم کانفرنس کی گرتی ساکھ اور کارکنوں کی طرف سے مسلم کانفرنس کو چھوڑ کر جوق در جوق مسلم  (ن) میں ہونے کے عمل کو روکنے کے لئے اس طرح کا منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے عہدیداران اور کارکنان کی واضح اکثریت مسلم کانفرنس سے اتحاد کو جماعت کے لئے مفید نہیں سمجھتی اور اس سلسلے میں سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان بھی متعدد بار اپنا دو ٹوک موقف دے چکے ہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے زور دیا کہ سیاسی کارکنان ایسی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے آمدہ انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد جمو ں و کشمیر میں بلا تاخیر شامل ہو جائیں۔

صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے آزاد کشمیر کے سیاسی امور کے لئے قائم کمیٹی اور اب قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل پاکستانی سیاسی شخصیات میں سے چند حضرات کے حوالے سے یہ دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کا مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد ہو جائے۔ ایک اہم بات یہ کہ مسلم کانفرنس سے اتحاد کی خواہشمند شخصیات وزیر اعظم نواز شریف کو اس طرح کا تاثر دینے کی کوشش میں ہیں کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) اور مسلم کانفرنس کے درمیان اتحاد نہ ہونے سے الیکشن میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو فائدہ ہو گا۔ اس حوالے سے میر پور کے ضمنی الیکشن کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے کہ جس میں ’پی ٹی آئی‘ کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار کرا گیا تھا۔ بلا شبہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کو ایک ’’ دھمکی‘‘ کے طور پر لیا جاتاہے اور مسلم کانفرنس سے اتحاد کی حامی شخصیات وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے اسی طرح کی تصویر پیش کرتی ہیں کیونکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ہی ہو سکتا ہے۔ کسی اور طرف سے یہ فیصلہ قابل قبول بنانا بہت ہی مشکل ہے۔

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی و پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل پاکستانی شخصیات کو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) بنانے والوں کی خواہشات، تمناؤں اور ان کے ریاستی سیاست کے مقاصد اورامنگوں سے کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی ۔ میر ا خیال ہے کہ اب تک پاکستان کی ان سیاسی شخصیات کو اس طرح کے خیالات و احساسات سے آگاہ کرنے کا کوئی موقع میسر نہیں آیا ہے اور نہ سیاسی و پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ان پاکستان شخصیات کے سامنے آزاد کشمیر کی آرزؤں اور توقعات کو پیش کیاگیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں مضبوط ہو رہی ہے۔ جوں جوں الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں ، آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کا رجحان مسلم لیگ(ن) کی طرف ہو رہا ہے۔ آج اس بات کا انداز ہ لگانا ذرا مشکل ہے کہ کس تکلیف اورکرب سے نجات کے لئے مسلم کانفرنس کو ہمیشہ کے لئے خیر آباد کہتے ہوئے آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ کن حالات اور کس صورتحال میں مسلم کانفرنس کو چھوڑ کر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ یہ ایک ایسے عزم کا اظہار بھی تھا کہ آزاد کشمیر کے خطے کو برادری ازم، کرپشن، بدعنوانی اور دوسری  خرابیوں سے نجات دلاتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے مفاد میں ایک با اختیار اور باوقار حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ یعنی مسلم کانفرنس چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) بنانے والے افراد کے سامنے ایسے کئی مقاصد تھے  ،جو ان کے مسلم کانفرنس چھوڑنے کی سنگین وجوہات ، اس صورتحال کے تدارک کی کوشش اور مثبت طرزسیاست کے اہم امور سے متعلق ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ وہ مقاصد اب بھی موجود ہیں۔ باوجودیکہ پاکستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہونے کے بعدآزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا رجحان واضح طور پر دیکھنے میں آیا ہے اور بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی جماعت میں شامل ہو گئے جنہیں مسلم کانفرنس کو چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) بنانے کی صورتحال اور مقاصد سے متعلق زیادہ کچھ علم نہیں۔ تاہم ابھی تک اس طرح کی کوئی تخصیص دیکھنے میں نہیں آ سکی، جس میں ان دو طرح کے افراد میں فرق کیا گیا ہو۔

اس منظر نامے کو دیکھتے ہوئے نظر یہی آتا ہے کہ ابھی  سیاسی سرگرمیاں تیز ہوں گی، سیاسی رابطوں میں اضافہ ہوگا، مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد ہونے یا نہ ہونے کے حتمی فیصلے ہونا بھی ابھی باقی ہے۔ حلقوں میں سیاسی درجہ حرات گرم سے گرم تر ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو حلقوں کی مقامی سیاست میں آ کر مخالفین کو للکارنا ہوگا، جذباتی ماحول پیدا کیا جائے گا، الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لینے والوں اور ان کے کئی حامیوں کے لئے یہ مرحلہ’’ زندگی اور موت‘‘ کا معاملہ بنے گا۔ وعدے ہوں گے، نزرانے دیئے جائیں گے، ہمدردیاں حاصل کی جائیں گی، ترغیبات دی جائیں گی، سیاسی و نجی کارکنوں کی قربانی ، برداشت اور صبر کا امتحان لیا جائے گا۔  پھر جا کر کہیں الیکشن ہوں گے۔ کامیاب امیدواروں کا اعلان ہو گا اور الیکشن میں فاتح  سیاسی جماعت کا فیصلہ ہو گا۔ تاہم ابھی یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ مصائب زدہ آزاد کشمیر کے عوام، کشمیری مہاجرین اور کشمیر کاز کا کچھ بھلا ہو گا یا یہ امور بدستور ’عشق ممنوع‘ بنے رہیں گے۔