الطاف حسن قریشی کی ملاقاتیں

دنیائے صحافت میں سب سے اہم کام شخصیات کا انٹرویو کرنا ہے۔ اس کے لئے صحافی کا وسیع مطالعہ ہونا اہم ترین ہے۔ جس شخص کا انٹرویو کیا جارہا ہو اس کے حالات و واقعات سے واقف ہونا لازمی ہے۔ ملک میں  الیکٹرانک میڈیا کے آغاز کے وقت متعدد اینکرز نے شخصیات کے ون آن ون انٹرویوز کئے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا میں شاید ہی کوئی اینکر وسیع المطالعہ ہو اور جس نے صحافت کے اس شعبے میں اپنا مقام پیدا کیا ہو۔

الیکٹرانک میڈیا میں ایسے اینکرز تو ہیں جنہوں نے چونکا دینے والے واقعات کو انٹرویو کی گئی شخصیت سے اگلوا لیا، لیکن ان کی کارکردگی اثرات مرتب کرنے یا انٹرویو کے فنِ صحافت سے میل نہیں رکھتی۔ زیادہ سے زیادہ ’’جواب طلبی‘‘ کو بہت بڑا معیار قرار دیا گیاہے۔ گویا انٹرویو کی گئی شخصیت کو ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ البتہ ہماری پرنٹ صحافت نے ایک صدی میں ایسے صحافیوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اس شعبے میں نمایاں مقام پیدا کیا۔ عالمی سطح پر اوریانا فلاسی کے انٹرویوز اپنی مثال آپ ہیں۔ پاکستان میں الطاف حسن قریشی نے انٹرویوز کا  ایک منفرد انداز متعارف کروایا۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کی پانچ دہائیوں میں دو سو سے زائد معروف شخصیات کے انٹرویو کئے جن میں ملکی، علاقائی اور عالمی لیڈر شامل ہیں۔ ان کا اندازِ انٹرویو دلچسپ اور اسلوبِ تحریر دلربا ہے۔ جب وہ کسی شخصیت کا انٹرویو کرتے ہیں تو وہ انٹرویو کئے گئے شخص اور اس کے بیان اور جواب کو اپنے وسیع مطالعے کی بنیاد پر پڑھ اور پرکھ رہے ہوتے ہیں۔ آج کل ان کے تیس شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل  کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ نے صحافی، سیاسی اور ادبی حلقوں میں دھوم مچا رکھی ہے۔ اس لئے کہ اس کتاب میں عالمی لیڈروں شاہ فیصل، ترکی کے رہنما سلیمان ڈیمرل کےعلاوہ  ان شخصیات کے انٹرویوزبھی  شامل ہیں جنہوں نے ہماری سیاسی تاریخ میں انمٹ اثرات مرتب کئے۔  ان میں شیخ مجیب الرحمن، مولانا مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیا، جسٹس ایس اے رحمن، مولوی تمیزالدین، قدرت اللہ شہاب، ایئر مارشل اصغر خان، چودھری محمد علی سمیت متعدد شخصیات شامل ہیں۔ الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں انٹرویوزکی گئی شخصیات کی وہ باتیں شامل کی گئی ہیں جو انہوں نے مصلحتِ وقت کے مطابق پہلے شامل اشاعت نہیں کی تھیں اور ساتھ ہی Foot Notes بھی لکھ دیئے ہیں۔ اس طرح ان انٹرویوز کو زندہ وجاوید کر دیا ہے۔

کتاب ایک دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی  الطاف حسن قریشی کی ہے اور خوبصورتی یہ ہے کہ کتاب کا دیباچہ ایک معروف ترقی پسند سکالر، استاد اور محقق ڈاکٹر سید جعفر احمد نے لکھا ہے۔ وہ  پاکستان میں دائیں و بائیں بازو کی نظریاتی اور فکری کشمکش پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے الطاف حسن قریشی کے بارے میں یہ لکھتے ہیں:
’’ظاہر ہے کہ الطاف صاحب کے افکار و خیالات ان کے اپنے افکار و خیالات ہیں، جن سے اتفاق و اختلاف دونوں ممکن ہیں۔ لیکن ایک پیشہ ور صحافی کی حیثیت سے کسی بھی صحافی سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اس کی تحریروں اور تجزیوں میں معروضیت سے اغماض نہ برتا جائے۔ الطاف صاحب سے نظریاتی اختلاف کے باوجود مجھے یہ اعتراف کرنے میں چنداں دشواری محسوس نہیں ہوتی کہ ان کے لئے گئے انٹرویوز میں انٹرویو دینے والے کے خیالات کو کبھی موڑ توڑ کر پیش نہیں کیا گیا۔‘‘
اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ’’الطاف صاحب کے صحافتی کیریئر میں ایک اور موضوع جس پر ان کی پوزیشن کا دفاع مشکل معلوم ہوتا ہے، بھٹو صاحب کے بارے میں ان کے تجزیوں سے مرتب ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ بھٹو کوئی ایسے رہنما نہیں تھے کہ جن سے غلطیاں سرزد نہ ہوئی ہوں، لیکن جہاں بھٹوصاحب کے ہر اقدام کا دفاع ناممکن ہے، اسی طرح ان کو مستقلاً اسی منفی رنگ میں دیکھنا بھی مناسب نہیں جس میں ان کوالطاف صاحب کی تحریریں دکھاتی رہی ہیں۔ بھٹو صاحب کے دور میں الطاف صاحب کو قیدوبند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑیں لیکن ایسی صعوبتیں ملک قاسم اور ان جیسے دوسرے سیاسی رہنماؤں کو بھی برداشت کرنا پڑی تھیں۔ سیاسی عمل میں رہنے والے لوگوں کو بعض اوقات ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ جب ان کو وسیع تر سیاسی مقاصد کی خاطر ذاتی تکلیفوں کو بھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔‘‘

ان کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ ان لوگوں کے لئے اہم ترین ہے جو ان بحثوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو ایک Security State میں مسلح تنظیموں کا سماج بنانے والوں کی تاریخ کو سمجھنا اور جاننا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے بانی جماعت اسلامی مولانا مودودی مرحوم کا انٹرویو چونکا دیتا ہے ۔ الطاف حسن قریشی اس انٹرویو کے حوالے سے لکھتے  ہیں:
’’ میں نے مولانا سے انٹرویو20 اور25 اکتوبر کے درمیانی عرصے میں لیا جو نومبر 1962ء میں شائع ہوا۔ اِس سے پہلے اور اِس کے بعد چند ایسے واقعات میری آنکھوں کے سامنے ظہور پذیر ہوئے جنہوں نے آنے والے حالات پر گہرے نقش ثبت کئے۔ مولانا مودودی نے 1948ء کے اوائل میں ٹیمپل روڈ پر مولانا عبدالحلیم قاسمی کی مسجد میں ہر اتوار کی صبحدرس قرآن  دینا شروع کیا۔ میں اِس میں باقاعدگی سے شریک ہوتا رہا۔ یہ غالباً مئی کا مہینہ تھا کہ درسِ قرآن کے اختتام پر ایک صاحب نے مولانا سے جہادِ کشمیر کے بارے میں سوال کیا۔ وہ پہلے خاموش رہے۔ بار بار اصرار کے بعد فرمانے لگے قرآن کی رُو سے صرف ریاست جہاد کا اعلان کرنے کی مجاز ہے۔ غیر مسلح ریاستی جتھے اپنے طور پر کسی ملک یا ریاست کے خلاف جہاد شروع نہیں کر سکتے۔ اْنہی صاحب نے مزید پوچھا کیا پاکستان کے عام شہری اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے نہیں جا سکتے۔ مولانا نے جواب میں کہا، جنگ کے سوا تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ تیسرا سوال یہ تھاکہ کیا آزاد قبائل کشمیریوں کی مدد کے لیے جا سکتے ہیں۔ مولانا کا جواب تھا قبائل آزاد ہیں ، اِس لیے وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ اگلے روز اخبارات میں یہ خبر اِس عنوان سے شائع ہوئی کہ مولانا جہادِ کشمیر کو حرام سمجھتے ہیں۔ مولانا نے اپنا موقف اخبارات کو بھیجا ، لیکن کسی نے شائع نہیں کیا۔ اْن کے خلاف نہایت زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا جس کے باعث عوام کے اندر شدید ردِعمل پیدا ہوا۔اکثر علما بھی اِس حقیقت کا ادراک نہ کر سکے کہ غیر ریاستی عناصر کو ہتھیار اْٹھانے کا اختیار دینے سے کس قدر فساد پیدا ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے عام لوگوں تک مولانا کا صحیح موقف پہنچانے کے لیے بڑے بڑے پوسٹر شائع کیے۔ مجھے یاد ہے جب ہم چند نوجوان پوسٹر لگانے رات کے وقت نکلتے ، تو لوگ ہم پر پتھر پھینکتے اور شدید غصے کا اظہار کرتے۔ آنے والے حالات نے ثابت کیا کہ مولانا کا موقف قرآنی تعلیمات کے عین مطابق اور اجتماعی سلامتی کا ضامن تھا۔ آج مذہبی انتہا پسندی اور غیرریاستی عناصر کی دہشت گردی قرآن کے بنیادی تصورات سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ مولانا کی دینی بصیرت نے سلامتی کا راستہ دکھایا۔ جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ اعلان کیا کہ ہماری فوجیں کشمیر میں لڑ رہی ہیں ، تو مولانا نے اپنی جماعت کو جہادِ کشمیر میں حصہ لینے کی تلقین فرمائی اور تمام مسلمانوں کو بھی اپنا فریضہ ادا کرنے کا احساس دلایا۔‘‘

’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں جنرل ضیاالحق کا انٹرویو، سوالات اور جوابات کے ذریعے ان حقائق کو بے نقاب کرتا ہے جن کو بیان کرتے ہوئے جنرل ضیاالحق نے حقائق کی بجائے اپنے موقف پر زور دیا ہے۔ خصوصاً آپریشن فیئر پلے (5جولائی 1977ء) کوملک میں مارشل لاء کا مسلط کیا جانا۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ امریکی کس طرح پاکستان قومی اتحاد کی انتخابی مہم میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایسی فضا تیار کروا رہے تھے، جس کے بعد ملک میں مارشل لاء کا جواز فراہم ہو جائے اور اس کو عوام کے ان حلقوں میں قبولِ عام کروا دیا جائے جو بھٹو مخالفت میں ’’کفر و اسلام‘‘ کی جنگ لڑنے پر تلے ہوئے تھے۔ جنرل ضیا نے اس کتاب میں شامل انٹرویوز میں جو بیان کیا ہے، اس کی حقیقت جاننے کے لئے پروفیسر غفور (مرحوم)، شیر باز مزاری، ایئر مارشل اصغر خان، عبدالحفیظ پیرزادہ اور موانا کوثر نیازی کے علاوہ لاتعداد مواد پڑھنا ضروری ہے۔
جناب الطاف حسن قریشی کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ تاریخ کے نادر اوراق ہیں، جس کے مطالعے سے آج کے پاکستان کو سمجھنے کی بہت آسانی پیدا ہو گی۔ یہ کتاب ’’جمہوری پبلیکیشنز‘‘  لاہور نے شائع کی ہے۔