بے بس ریاست

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر جو پانچ سال قبل اغوا ہوئے تھے، چار روز قبل ڈرامائی انداز میں اغوا کنندگان سے آزاد ہو گئے۔ ان کی بازیابی ایک سوال ہے۔ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کو سکیورٹیز نے رہائی دلوائی جبکہ اخبارات کے مطابق وہ خود ایک ہوٹل پہنچے۔ جہاں انہوں نے اہل خانہ کو اپنی آزادی سے آگاہ کیا۔

وفاقی حکومت کے دفتر داخلہ نے بلوچستان حکومت سے اس کی تفصیلی رپورٹ مانگ لی ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز تاثیر کو اغوا کنندگان سے مقابلہ کرکے رِہا کروایا گیا۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ ایسے اغوا کنندگان کی رہائیوں کی کبھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ یقیناً ایسے اغوا برائے تاوان مسلح مجرمانہ گروہ اپنے مطالبات کے لئے کرتے ہیں جس میں اغوا کنندگان کی رہائی کی قیمت مال و دیگر مطالبات سمیت طے ہوتی ہے۔ اس معاملے میں بھی کئی راز ہیں جو راز ہی رہیں گے۔ سابق گورنر پنجاب کے بیٹے کی دستیابی کے بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے اغوا شدہ بیٹے کی دستیابی کی خواہش کی ہے۔ ملک کے سابق وزیراعظم کی اس خواہش سے ہم اپنی ریاست کی بے بسی کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ ریاست کس راہ پر اور کن مجرمانہ لوگوں کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔ اغوا کاروں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز، مسلح دستوں، گلیوں میں دن دیہاڑے جرائم کرنے والوں، آئین کو نہ ماننے والوں، قتل کرکے اپنے آپ کو غازی کہلوانے والوں، لوٹ مار کرنے والوں، ریاست کے اداروں میں موجود عوام کی خدمت پر مامور ان افسروں کے ہاتھوں جو ریاست کے قوانین کی دھجیاں اُڑنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، دہشت کا راج کرنے والوں، سڑک پر ٹریفک کے قوانین کی دھجیاں اڑ ا کر اس پر فاتحانہ انداز میں چلنے والوں، عورت کو لونڈیاں بنا کر غلامی کے نظام کو دنیا کا اعلیٰ نظام قرار دینے والوں، کسان اور مزدور کی محنت لوٹنے والوں، اس پولیس کے ہاتھوں میں جس کی اکثریت نے مجرموں کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔

کرپشن اور دہشت کے اتحاد سے نام نہاد سرمایہ داروں اور ایسے سرمایہ داروں جو اپنے کاروبار کے ناجائز ذرائع کے دوران قانون کی حد لگنے پر ناراض ہو جاتے ہیں اور حکمران اُن کے دفاع میں آکر سراپا احتجاج ہوتے ہیں کہ ’’کاروباری حضرات کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے‘‘۔ عبادت گاہوں میں دھماکے کرنے والوں اور ان دھماکوں کے ذمہ داروں کے لئے حمایت رکھنے والوں (سہولت کاروں) جن میں اب کثیر تعداد میں قلم کار بھی آگے بڑھ رہے ہیں اور ان دھماکوں کے ذمہ داروں اور دہشت گردوں کے اندر اپنا ’’شاندار مستقبل‘‘ تلاش کرنے والوں اور خوراک سے لے کر عقیدوں کی تعلیم میں ملاوٹ کرنے والوں کے ہاتھوں جب سماج اور ریاست سے بے بس ہو جائے تو اسے Colombianization کہتے ہیں۔

راقم نے چھبیس سال قبل اپریل1990ء میں ایک مختصر سی کتاب تحریر کی تھی کہ جب پاکستان اور دنیا بھر میں سرد جنگ کے خاتمے پر جمہوریت کو دنیا کا مستقبل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے بارے پر خوشخبری سنائی جارہی تھی کہ ’’سرد جنگ میں ہماری مسلح افواج عالمی طاقتوں کی آلہ کار رہیں اور اسی سبب فوجی آمریتیں پاکستان میں مسلط ہوئیں اور یہ کہ اس بدلتی دنیا میں آمریت ناممکن ہو گئی ہے۔‘‘ یہ تجزیہ پاکستان کے دونوں اہل فکر کا تھا، یعنی دائیں اور بائیں بازو کے دانشوروں کا۔ راقم نے اپنی اس کتاب جس کا نام ’’چوتھا مارشل لاء‘‘ ہے، میں یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ پاکستان میں جلد ہی ایک اور فوجی آمریت مسلط ہو گی اور یوں 12اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں چوتھے مارشل لاء کو مسلط کر دیا۔ لیکن اس کتاب میں راقم نے اپنے تجزیے کوConcludeکرتے ہوئے ان خطرات اور مشکلات کا بھی ذکر کیا تھا جو اس ریاست میں آئے روز بڑھتے جائیں گے اور یوں عرض کیا:
’’ملک میں تشدد، فرقہ واریت، لسانی فسادات کے ہوتے ہوئے اور سماج میں ڈرگ مافیا وٹیررسٹ مافیا کی بڑھتی ہوئی بالادستی یہ ثابت کرتی ہے کہ ہمارا ملک Colombiaبننے کی طرف گامزن ہے۔‘‘

راقم نے اسے Colombianization قرار دیا تھا، ایک ایسی ریاست جس کی کمزور رِٹ پر مختلف مافیاز کا کنٹرول بڑھتا جائے۔ ایک ایسی ریاست جہاں پیداوار خوب اور لوٹ مار کے بھرپور نظام کا نفاذ ہو، ایک ایسی ریاست جہاں ایک طرف ترقیاتی منصوبے نظر آتے ہوں اور دوسری طرف بکھرتی ریاست کا تیز رفتار عمل۔ ایک ایسی ریاست جہاں ریاستی کارندے مجرموں کا ساتھ دیں۔ایک ایسی ریاست جہاں قسم قسم کے مافیاز جنم لے لیں، دہشت گرد مافیا، مسلح گروہ، ریاست کی بجائے اپنا گروہی نظام اور اپنی رِٹ مسلط کرنے میں طاقت پکڑتے چلے جائیں اور ایک ایسی ریاست جو ان مسلح گروہوں کے سامنے روز بروز بے بس ہو جائے۔ ایک ایسی ریاست جو اندرونی خلفشار میں الجھ جائے اور اس کی عسکری قوتیں ان اندرونی خلفشار سے نمٹنے میں مصروف ہو جائیں۔ اغوا، تاوان، قتل کا جواز ڈھونڈنے والا سماج، قاتلوں کو ہیروز قرار دینے والا سماج، ایک ایسی ریاست جس کے اندر لوگ اپنی حفاظت کے لیے پرائیویٹ مسلح گارڈز تعینات کریں، ایک ایسی ریاست جس کے اندر ریاست خود تحفظ یافتہ علاقے قرار دے دے یعنی Red Zones، حفاظتی دیواریں کھڑی کر دی جائیں، محلوں کے گرد رکاوٹیں اور محلوں کی متعدد گلیاں اس لیے بند کر دی جائیں کہ گلیوں میں جرائم کرنے والوں کے راستے مسدود کر دیئے جائیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں ریاستی مسلح سپاہیوں سے زیادہ پرائیویٹ مسلح گارڈز کا نظام کھڑا ہو جائے۔ ایک ایسی ریاست جہاں مسلح گروہ ریاست کو گرا کر لوگوں کو اپنا اپنا غلام بنانے میں اثرورسوخ حاصل کرنے لگیں۔ ایک ایسی ریاست، جہاں زندگی کا ہر شعبہ کرپشن ہی نہیں نااہلی حتیٰ کہ علم و ادب، شعر و شاعری بھی زوال کا شکار ہو جائے۔ جہالت کو دانش تسلیم کر لیا جائے۔ ایک پیداواری سماج مگر کمزور ریاست، کمزور عوام اور طاقتور لوٹ مار کرنے والے گروہ، ایک ایسی ریاست جس کی معیشت کا 85فیصد حصہ بلیک مارکیٹنگ پر کھڑا ہوجائے، تاوان لینے والوں، اغوا کرنے والوں اور دہشت پھیلانے والوں کی ریاست، اسے کہتے Colombianization۔