سفر عمرہ کا احوال (1)
یہ میری زندگی کا دوسرا عمرہ ہے۔ پہلی بار میں دو سال قبل آیا تھا پھر ہر سال آنے کو جی چاہنے لگا۔ مگر وہ خواہش ہی کیا جو پوری ہو جائے البتہ دو سال بعد اﷲ تعالی نے مجھے پھر توفیق دی۔ پہلی بار جب آیا توآنے سے چند ہفتے قبل میرا اکلوتا پانچ سالہ بیٹا برہان ایک افسوس ناک حادثے میں فوت ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے میں اکثر لوگوں کے برعکس اکیلا ہی اس سفر پر نکل پڑا۔ کوئی زیادہ معلومات اور تجربہ نہ تھا۔
ہر ایک نے کہا میری صحت ٹھیک نہیں میں اکیلا نہ جاؤں مگر میں اکیلا ہی چل پڑا۔ جوں جوں چلتا گیا سفر عمرہ میں آسانیاں پیدا ہوتی گئیں۔ جدہ ائر پورٹ پر پہنچا تو امیگریشن نے ہوٹل میں رہائش کا ووچر مانگا جو مجھے اس ایجنسی والے نے دینا تھا جس سے میں نے عمرہ پیکج لیا تھا۔ عمیشہ کی طرح ان دنوں میں بھی پاکستان میں بجلی کا بحران تھا۔ٹریول ایجنسی نے کہا پنڈی روانگی سے قبل مجھے ٹکٹ اور ووچر مل جائے گا لیکن مجھے جو لفافہ ملا اسے میں نے افرا تفری کے عالم میں ائر پورٹ پر یہ سوچ کر جیب میں ڈال لیا کہ اس کے اندر ووچر کی کاپی بھی موجود ہے۔ لیکن جب جدہ ائر پورٹ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ووچرکی کاپی شامل نہیں ہے۔ امیگریشن افسر کا اﷲ بھلاکرے اس نے ایک اور افسر کی ڈیوٹی لگائی جس نے کسی طرح میری ہوٹل بکنگ کا پتہ کر لیا۔ اس نے مجھے مکہ مکرمہ جانے کے لئے ایک بس پر بٹھایا۔ میں بس کے درمیان میں ایک خالی سیٹ پر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ڈرائیور نے اپنے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھنے کی دعوت دی۔ اس کی گفتگو کا لہجہ پہاڑی تھا۔ میں نے پوچھا اس کا تعلق کہا ں سے ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا جہاں سے آپ کاہے۔ میں نے کہا میرا تو کھوئیرٹہ سے ہے۔ اس نے کہا وہ راجہ اسداﷲخان جاگیردار کا رشتہ دار ہے مگر وہ کھوئیرٹہ نہیں بلکہ جہلم رہتا ہے۔ اس نے کہا میں فکر نہ کروں وہ مجھے خود ہوٹل پر چھوڑ کر آئے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔
پہلے مجھے ہوٹل میں ایک گروپ میں شامل کیا گیا۔ کمرے میں سات بستر لگے ہوئے تھے۔ اس کمرے کے باقی زائرین کا تعلق قصور سے تھا جو سگرٹ بھی پیتے تھے اور باتیں بھی بہت زیادہ کرتے تھے۔ پہلے سوچا ان کے ساتھ میرے دو ہفتے کیسے گزریں گے ۔ عمرہ پر جانے والوں کو سب سے پہلے ہوٹل پر سامان رکھ کر عمرہ کی دائیگی کے لیے حرم شریف کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ میں ابھی تیاری کر ہی رہا تھا کہ ہوٹل کا ایک سٹاف ممبر عبدالرزاق نامی پاکستانی میرے پاس آیا اور مجھے اسی ہوٹل میں سٹاف کی رہائش پر لے گیا۔ سٹاف روم میں میری ملاقات رانا مشتاق اور امجد علی سے ہوئی جنہوں نے انتہائی شفقت کا مظاہرہ کیا۔ رانا مشتاق کمپنی کے ایڈمنسٹریٹر ہیں جبکہ امجد علی کوآرڈینیشن کی ذمہ داری سر انجام دے رہے تھے۔
اس دفعہ جب میں نے عمرہ کی تیاری کی تو میں نے امجد علی کے ساتھ فون پر رابطہ کر کے درخواست کی کہ کسی طرح وہ مجھے اسی ہوٹل پر رہائش کا انتظام کروا دیں لیکن انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ جس کمپنی سے میں نے عمرہ پیکج لیا ہے اس کا معاہدہ کس ہوٹل سے ہو گا ۔ لیکن مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب وہی دو سال قبل والا عبدالرزاق مجھے بس سٹاپ پر وصول کرنے آیا۔ عبدالرزاق نے گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے مجھے میری مرضی کے مطابق دوسرے فلور پر سنگل کمرہ دے دیا۔ اسی بس سٹاپ پر میرے سسرالی گاؤں اندرلہ کٹہرا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن راجہ راشد خان، راجہ ثاقب خان، ظہور خان، حافظ محمود، حافط سعید، محمد خالد اور دیگر بھی ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ میرے ساتھ تین خواتین بھی تھیں۔ گھر سے چلتے وقت میں سوچ رہا تھا کہ چار سٹنٹس کی مدد سے چلنے والا میرا جسم ان خواتین اور ان کے ساز و سامان کا بوجھ کیسے اٹھائے گا لیکن یہ عمرہ کی برکت تھی کہ جوں جوں ہم چلتے گے خود بخود آسانیاں پیدا ہوتی گئیں۔ بس سٹاپ پر غیر متوقع طور پر موجود میرے سسرالیوں نے اب تمام تر ذمہ داری اٹھا لی تھی۔ ادھر سے جے کے ایل ایف کے چیف کمانڈر راجہ حق نواز کا بھلا کرے جنہوں نے کوٹلی سے سعودی عرب میں موجود اپنے بہت سارے ساتھیوں کو فون پر میری آمد کی اطلاع کر دی ۔ دمام سے لبریشن فرنٹ گلف زون کے صدر راجہ حنیف خان اور جدہ یونٹ کے صدر شفیق ملک نے بعد ازاں ہماری دیکھ بھال کے لئے اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری لگائی ۔ اس طرح ہمیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔
سامان کمرے میں رکھ کر سب سے پہلے ہم نے حرم شریف کا رخ کیا۔ حرم شریف کو دیکھ کر میرے ساتھ خواتین کی طرح کئی دوسرے زائرین کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے کیونکہ جس خانہ کعبہ کو دیکھنے کا وہ خواب دیکھا کرتے تھے وہ آج ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھا۔ ابراہیم خلیل روڈ سے لے کر حرم شریف تک وسیع و عریض دھرتی پر چلنے والے لاکھوں لوگوں کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے خالق و مالک کی یاد اور عبادت میں مصروف تھا۔ ہم نے حرم شریف میں داخل ہوتے وقت دو نفل ادا کرنے کے بعد طواف کیا۔ اس کے بعد صفا مروا کے سات چکر لگائے۔ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد واپس رہائش پر لوٹے۔ غسل کر کے کپڑ بدلے۔ دوسرے دن حرم شریف میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے دادا دادی، نانا نانی اور والدین کے نام مزید طواف کا سلسلہ شروع کیا۔۔ ان کویہ تحفے دے کر سکون قلب محسوس کیا۔ بعد دوپہر ہم نے مقام عرفات اور غار حرا کا دیدار کیا۔
مکہ اور مدینہ کی طرح غار حرا کے پاس بھی پیشہ ور گدا گر موجود تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے تھا ۔جن کے ٹھیکیدار ان کی باقاعدہ نگرانی کرتے اور شام کو وہ گدا گروں سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔ ان مقدس مقامات پر بھی اپنے لوگوں کے ہاتھوں اپنوں کے استحصال کو دیکھ کر دکھ ہوا۔ غار حرا کے دامن میں بنڈلی کھوئیرٹہ سے تعلق رکھنے والے خوش نصیب محمد عرفان تین سالوں سے رہائش پزیر ہیں۔ انہوں نے چائے سے ہماری تواضع کی اور ہوٹل پر واپسی کے لئے میرے لیے ایک گاڑی کا انتظام کیا۔ ہوٹل پر پہنچے تو جدہ سے محمد معروف خان، وسیم خان، خضر خان اور فیض کملی ہمارا انتطار کر رہے تھے گویا جس طرف ہم نے رخ کیا ہموطنوں کی محبت کی خوشبو سے مسرور ہوتے رہے۔
چار مارچ کو لبریشن فرنٹ جدہ یونٹ نے مقبول بٹ شہید کی برسی کے حوالے سے ایک پروگرام رکھا ہوا تھا جس میں شرکت کے لیے طائف سے سردار گلفراز خان اور مکہ سے گلفراز بٹ مجھے لینے کے لئے خصوصی طور پر آئے اور معروف ملک، گلفراز بٹ اور ظہیر کاشف جدہ میں پروگرام کے بعد رات دو بجے واپس مکہ چھوڑ گئے۔ راجہ حنیف خان دمام سے بائی ائیر جدہ آئے۔ بتیس سال قبل جب میں قید ہوا تو درجنوں لوگ مجھے سعودی عرب سے خطوط لکھا کرتے تھے۔ راجہ حنیف کے علاوہ ان میں سے کسی کا کوئی علم نہیں کہاں ہیں۔ لیکن ہمارے دل میں ضرور موجود ہیں۔ یہ ان کی حب الوطنی کا ہی نتیجہ تھا کہ ہزاروں میل دور قید تنہائی میں ہمیں ان کے خطوط ملا کرتے تھے۔ آج بھی سخت ترین حالات میں محنت مشقت کرنے کے ساتھ ساتھ وہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے بڑھ چڑھ کرخدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
سفر میں بے شمار آشنا اور ناآشنا لوگوں سے ملاقات ہوئی جن میں صحافی سردار مصطفے خان، صغیر کشمیری، اعظم ضیاء ، ریاض سے خصوسی طور پرآنے والے سردار انور خان اور ان کے دوست ڈاکٹر امتیاز خان، ڈاکٹر شاہد ، ڈاکٹر منصور ، طاہر بشیر اور متعدد دوسرے احباب شامل تھے ۔ (جاری ہے)