کشمیریوں کا جوش آزادی
- تحریر
- جمعہ 18 / مارچ / 2016
- 4681
جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئر مین محمد فاروق رحمانی کا شمار ان اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد کی کٹھن ترین صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے قلمی اور سیاسی میدان میں سرگرم کردار ادا کیا۔محمد فاروق رحمانی1968سے 1989تک شعبہ صحافت سے منسلک رہے۔ وہ جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے بانی چیئرمین رہے اور تحریک آزادی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
تحریک آزادی کشمیر کے سینئر رہنما محمد فاروق رحمانی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور جبر کی صورتحال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی خوشگوار و نا خوشگوار خبروں کا سلسلہ ہے۔ نا خوشگوار خبر یہ ہے کہ فوج اور پولیس نے نوجوانوں اور عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بھیا نک اقدامات تیز تر کئے ہیں۔ ہندوستان کو عالمی رسوائی یا داخلی لعنت و ملامت کی کوئی پروا نہیں ہے۔ کشمیری آزادی سے کم کسی سمجھوتہ یا معاہدہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ پولیس کریک ڈان کو بھی رد کرتے ہیں۔ اور پوری وادی میں ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک فوجی آپریشن اور فوج اور پولیس کے خلاف سیاسی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی بھر پور شرکت کے ساتھ غم و غصے کا اظہار کرتی ہیں ۔ جس کا ثبوت جنوبی کشمیر، شمالی کشمیر، وسطی کشمیر اور چناب ویلی کے شہر او ر قصبوں میں ہونے والے مظاہرے اور ہڑتالیں ہیں۔ افسوس ہے کہ دنیا نے ابھی تک کشمیر میں ہندوستانی افواج کی پیدا کردہ تباہی اور انسانیت کے خلاف جنگ کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس نہیں لیا، جس کی وجہ سے کشمیریوں کا اعتماد عالمی اداروں پر اٹھتا جارہا ہے۔۔
افسوس ہے کہ فوج اور پولیس کے آپریشن میں بیشمار قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جن میں جنوبی کشمیر کا ایک اعلی ا تعلیم یافتہ محمد اسحاق، جو علاقے میں اپنی خداداد سائنسی صلا حیتوں کی وجہ سے نیوٹن کے لقب سے مشہور تھا، شہید ہوگیا۔ اس سے پہلے بھی باصلاحیت اور ہونہار نوجوانوں کی بڑی تعداد شہید ہوچکی ہے۔ ہندوستان کی حکومت چاہتی ہے کہ کشمیر کی مردم خیز زمین کو فوجی آپریشن کے ذریعے سے بنجر بنایا جائے۔ اس اندوہ ناک صورت حال میں ایک خو شگوار بات یہ ہے کہ ہندوتوا حکومت کے مظالم سے تنگ آنے والے ہندوستانیوں نے اپنے تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں میں کشمیر کے حق میں زوردار آواز بلند کی ہے۔ یہ آواز جواہر لال یونیورسٹی کے استادو ں ، طلبہ اور طالبات کی ہے۔ وہ دبے ہوئے ہندوستانیوں کے لئے ملک کے اندر آزادی چاہتے ہیں۔ لیکن کشمیر میں عصمت دری کرنے والوں اور غارتگری کرنے والے فوجیوں کی مذمت کرتے ہیں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے نعرے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آواز ہندوستان کے اندر ہمارے لئے فال نیک ہے اور اس کی پزیرائی اور وسعت ہماری طاقت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریک آزادی کے لیڈر اور پارٹیاں اس تحریک کے بارے میں اپنے اپروچ، طریقہ کار اور طرز فکر کو صحیح معنی میں سیاسی اور عوامی بنا ئیں ۔ تحریک آزادی میں طالع آزماء اور منافقانہ نعرے بازی سب سے بڑی بیماری ہے۔ اپنے قد سے لمبا چوغہ اور اپنے پاؤں سے بڑا جوتا پہننے کی کوشش کرنا نا خوشگوار عمل ہے اور حق کی خدمت نہیں۔
فاروق رحمانی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے علاوہ چند ایسے امور بھی بیان کئے ہیں جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے نقصان دہ ہیں۔ کشمیریوں کی مزاحمت کا ایک نیا انداز مقبوضہ کشمیر میں یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کشمیری مجاہدین کے ساتھ بھارتی فوجیوں کی جھڑپوں کے دوران کشمیری اپنے گھروں سے نکل کر مجاہدین کا محاصرہ کرنے والے بھارتی فوجیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات میں متعدد کشمیری پتھراؤ کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ بھارت اس بات سے بھی پریشان ہے کہ گزشتہ دو تین سال سے پڑھے لکھے کشمیری نوجوان ایک بار پھر بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھا رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کو بجا طور پر بھارتی فوج کی نگرانی میں ایک کھلی جیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ کشمیریوں کا عزم آزادی اور حوصلہ ہے کہ وہ کسی صورت جدوجہد آزادی اور بھارتی ظلم و جبر کی مزاحمت ترک کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر میں عوامی مظاہروں کی مختلف وڈیوز میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح کشمیر کے گلی محلوں میں خواتین، بچے، لڑکے مسلح بھارتی فوجیوں کو اپنی سخت مزاحمت سے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چند سال سے بھارت نے کشمیریوں کے مظاہروں کے خلاف شاٹ گن کا استعمال شروع کیا ہے جس کے چھرے انسان کے جسم میں درجنوں سوراخ کر دیتے ہیں۔ مظاہروں میں اس کا نشانہ خاص طور پر نوجوان اور بچے بنتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان چھروں سے زخمی ہونے والے کا علاج گولی کے زخم سے بہت زیادہ مشکل ہے اور اس سے کئی اندھے بھی ہو چکے ہیں۔اب مقبوضہ کشمیر میں عوامی مظاہروں کے خلاف خصوصی روبوٹ کے استعمال شروع کرنے کی بھی اطلاعات ہیں، جن پر گن بھی نصب ہو گی۔
بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف بھرپور فوجی طاقت کے مسلسل ظالمانہ استعمال کے خلاف اب خود بھارت میں بھی آواز بلند ہو رہی ہے ۔ یہ آواز کمزور سہی لیکن اس حقیقت کا اظہار ہے کہ کشمیریوں کو ہمیشہ فوجی طاقت سے دبانے کی کوشش نہ تو کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ اس سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ناکام کیا جا سکتا ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان نیپال میں امور خارجہ کی سطح پر رابطے ہوئے ہیں لیکن اس میں مسئلہ کشمیر کے بجائے پٹھان کوٹ پر حملے جیسے واقعات حاوی نظر آتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سلامتی امور کے مشیران کے درمیان بھی رابطے قائم ہیں۔ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں عشروں سے باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کسی بھی طور پر حل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور عالمی برادری کی طرف سے بھی مسئلہ کشمیر کو محض پاکستان اور بھارت کے باہمی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے کشمیریوں پر مظالم کی صورتحال کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔اب اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے مختلف شعبوں سے متعلق خرابیوں ، خامیوں اور کوتاہیوں پر توجہ دیتے ہوئے بہتری کے اقدامات کئے جائیں۔
یہ تاثر ختم کرنا ناگزیر ہے کہ کشمیر کاز سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں میں مال و دولت بنانے کا کا چلن عام ہے۔ کشمیریوں میں اس سے متعلق شکایات اور تشویش اب پرانی بات ہوگئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی استطاعت سے کہیں بڑھ کر بھارت جیسی بڑی طاقت کا ہر طرح سے مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے عزم آزادی سے کسی طور بھی دستبردار ہونے کو آمادہ نہیں ہیں۔ ،لیکن تحریک آزادی سے متعلق تنظیموں کا طریقہ کار ، انداز، ان کی سوچ ،’’ اپروچ‘‘، ترجیحات ، ان کے فیصلوں اور ان کے کام کرنے کے انداز سے کشمیری عوام نہ تو مطمئن ہیں اور نہ ہی اس کو تحریک آزادی کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔ کشمیر کاز سے متعلق اخلاص کم اورمادیت پرستی حاوی نظر آتی ہے۔آج کشمیری یہ پوچھتے ہیں کہ کیا کشمیریوں کا مقدر محض’’ روبوٹ‘‘ کے طرح حرکت کرنا ہی رہ گیا ہے؟