شام کا مستقبل اور روس کا نیا عالمی کردار

روسی صدر پیوٹن نے جس ڈرامائی انداز سے شام سے روسی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا ہے، اس نے دنیا بھر کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ستمبر 2015ء سے روس نے شام میں جاری خانہ جنگی میں بشارالاسد کی حکومت کی سفارتی حمایت کے ساتھ  بھرپور عسکری حمایت اور مداخلت کا آغاز کیا تھا۔

اس دوران روس نے بری اور فضائی، جدید عسکری وار مشینری استعمال کی، جس پر امریکہ سیخ پا تھا۔ روس نے ایک طرف شام میں داعش سمیت مختلف مسلح گروہوں کوکمزور کیا تو دوسری طرف بشارالاسد کی افواج کو جدید ترین اسلحے سے لیس کیا۔  پچھلے سال کے آخر میں جی20 کے اجلاس جو ترکی کے شہر انطالیہ میں منعقد ہوا،  روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر اوباما سمیت مغربی دنیا کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیاتھا  کہ جو طاقتیں داعش کے خلاف جنگ کرنے کی دعوے دار ہیں، درپردہ وہی ان کی مالی و عسکری مدد کرتی اور ان سے غیر قانونی تیل بھی خریدتی ہیں۔ انہوں نے اس اجلاس میں تمام مندوبین کو اس حوالے سے ثبوت سے پیش کئے۔ صدر پیوٹن نے ایک طرف ان مغربی طاقتوں کو سیاسی اور سفارتی سطح پر بے نقاب کیا اور دوسری طرف شام کی سرزمین میں مختلف شدت پسندوں پر بھرپور حملے کرکے ان کی کمر توڑ دی۔ منگل کے روز جس وقت صدر پیوٹن شام سے روسی افواج کے انخلا کا اعلان کر رہے تھے، اسی دوران جنیوا میں مختلف متحارب عسکری گروپ مذاکرات کے ئیے اکٹھے تھے۔

14مارچ کو روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج نے اپنے اہداف پورے کر لئے ہیں۔ نو ہزار سے زائد فضائی حملوں نے شام میں مسلح شدت پسندوں کی کمر توڑی ہ۔، وہیں روس نے یہ بھی ثابت کیا ہے اب دنیا کے تنازعات کے فیصلے امریکہ کی مرضی اور منصوبوں کے تحت نہیں ہوسکتے۔ روس نے اپنی مرضی سے شام میں دفاعی معاہدے کے تحت فوج داخل کی اور اپنی ہی مرضی سے فوج کا انخلا کیا۔ یاد رہے افغانستان میں 1979ء میں سابق سوویت یونین نے کابل حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت ہی فوج داخل کی، لیکن فوجی انخلااپنی مرضی سے کرنا ممکن نہ رہا۔

راقم پچھلے چند برسوں سے مسلسل یہ لکھتا رہا ہے کہ امریکہ، شام کو مشرق وسطیٰ کا ایک نیا افغانستان بنانے پر تلا ہے، یعنی ایک مسلسل جنگی میدان۔  اس دوران اسے ایک پاکستان کی بھی ضرورت تھی، جس کے لئے اس نے ترکی کو چنا۔ اس حوالے سے راقم نے تین سال قبل برطانوی ادارے بی بی سی کو اپنے ایک انٹرویو میں عرض کیاتھا  کہ امریکہ، مشرق وسطیٰ میں Pakistanization چاہتا ہے (یعنی ایک افغانستان جنگی میدان اور ایک فوجی اتحادی بیس پاکستان) تین روز قبل 16مارچ کو ماسکو کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخا خارفا نے اسی پس منظر میں کہا ہے: ’’ شام سے روسی فوجوں کے انخلا سے صدر بشارالاسد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ کہ مغرب شام کو روس کے لئے نیا افغانستان بنا دینے میں ناکام رہا۔‘‘ یعنی روسیوں نے افغانستان کی جنگ سے جو بڑا جنگی سبق سیکھا کہ مغرب کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ آہستہ روی سے جاری جنگ میں الجھنے کی بجائے دمشق حکومت کے زیراثر علاقوں میں بڑے جنگی بیس بنا کر جدید جنگی ہتھیاروں سے ایک ہی بار شدید حملوں سے مسلح دہشت گردوں کی کمر توڑ دو۔

شام سے اپنے فوجیوں کے انخلا پر روس میں سرکاری میڈیا نے اسے Celebrate کرنا شروع کر دیا ہے۔ صدر پیوٹن نے یوکرائن کے بعد شام میں جس طرح کامیابی سے سیاسی اور عسکری فیصلوں کا اختیار استعمال کیا ہے، اس نے صدر پیوٹن کو روس میں مزید مقبول بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی روس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اب دنیا کے فیصلے امریکی نہیں کریں گے۔ روسی صدر پیوٹن کا اعتماد اور حکمت عملی قابل غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’’چند گھنٹوں میں بھی روسی فوجوں کا انخلا کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ روس کے فوجی مشیر شام میں تعینات رہیں گے اور طرطوس میں روسی بحری اڈہ بھی قائم رہے گا۔  چند فضائی بیس بھی روسیوں کے زیراستعمال رہیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم داعش اور النصرہ فرنٹ کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے کرتے رہیں گے۔ سات سو سے زائد عسکری عہدیداروں کو ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب میں انہوں نے ایک عالمی لیڈر کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’شام کا ہزاروں سال پرانا شہر پالمیرا بھی جلد ہی داعش سے آزاد کروا لیا جائے گا۔ پالمیرا کے قدیم آثار دنیا کی تہذیب کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ مہذب دنیا اور شامی شہریوں کو واپس مل جائے گا۔‘‘

روسی صدر پیوٹن نے خطے اور عالمی سیاست میں ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔ شامی حکومت کو جدید اسلحے اور وار مشینری سے لیس کرنے اور مسلح گروہوں کی کمر توڑنے کے بعد اب وہ قیام امن کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ روس نے اس دوران دنیا کا جدید ترین S-400 اینٹی میزائل، اینٹی ائرکرافٹ نظام بھی شامی حکومت کے زیراثر علاقوں میں نصب کر دیا ہے۔ یوں بشارالاسد کے زیراثر علاقوں میں اور فضا میں اب امریکہ یا مغربی دنیا کی مداخلت بھی ناممکن ہو گئی ہے۔

اس بدلتے منظر نامے میں اب شام میں کیا ہو گا؟ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کو فون کرتے ہوئے شام میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جان کیری نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ شام میں سیاسی اقتدار کے انتقال پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ٹیلی فون پر گفتگو سے پہلے روس اور امریکہ کے صدور نے بھی فون پر شام کے مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کی۔ روس جو اس جنگ پر کم از کم 3بلین امریکی ڈالر صرف کر رہا تھا، اب اپنی معیشت کو مزید سہارا دینے میں کامیاب ہو گا۔ اسے ایک عالمی اقتصادی اور سیاسی طاقت کے طور پر مغربی یورپ اور مشرقی یورپ کے ممالک کے ساتھ معاشی معاملات طے کرنے میں آسانی ہوگی۔ لیکن اہم سوال یہہے کہ شام کا مسئلہ کس نہج پر پہنچا ہے؟ خانہ جنگی، بشارالاسد کی حکومت نہ گرنے، شام افغانستان نہ بننے، مسلح گروہوں کی کمر ٹوٹنے، دنیا کے فیصلوں میں امریکی ہٹ دھرمی ناکام ثابت ہونے کے بعد اب شام کا مستقبل کیا ہے؟

میرے ایک دوست کمال عالم، دمشق حکومت کے عہدیداروں کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے چند سال قبل کہا تھا کہ دمشق حکومت نے طے کر لیا ہے کہ جو علاقے اس کے زیراثر ہیں، ان پر اپنی گرفت مضبوط کی جائے۔ روس کی فوجی سرپرستی اور مداخلت نے اس گرفت کو مضبوط کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ افسوس کہ شام اب عملی تقسیم کی طرف بڑھ گیا ہے۔ دمشق اور دمشق حکومت کے زیراثر خطوں پر مملکت شام، مسلح سنی گروہوں کے زیراثر خطے پر مسلح گروہوں کا اقتدار اور ایک خود مختار کُرد خطہ۔ اب جو بھی مذاکرات ہوں گے، وہ انہی تبدیلیوں کے تحت ہوں گے۔ اس لئے اب ان مذاکرات میں  دمشق حکومت، روس، امریکہ اور دیگر طاقتیں شامل ہوں گی۔ اس دوران یہ بھی ممکن ہے کہ بشارالاسد بتدریج اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں جس کے لئے ان کو سال ڈیڑھ سال کا وقت فراہم کیا جائے گا تاکہ دمشق حکومت کے تحت خطوں میں روسی طاقت اور اثرورسوخ کے ذریعے امن اور زندگی معمول پر لائی جائے۔ اس کے بعد  شام کے صدر روس یا فرانس میں  جلاوطنی کی زندگی بسر کریں گے۔ 

بارہ سے اٹھارہ مہینوں میں بچی کھچی شامی ریاست کی مکمل رِٹ مضبوط تر کر دی جائے۔ حُمص اور صحرائی علاقوں پر سنیوں اور پہاڑوں میں کُرد اقتدار اب وقت کے دھارے نے طے کر دیا ہے۔ ایسے میں اس جنگ کو لبنان اور ترکی تک پھیلانے کا سامراجی منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ اب داعش پر مزید حملے ہوں گے، روس مذاکرات میں مغربی دنیا کو اس کے خلاف مزید عسکری کارروائیاں کرنے پر اتفاق کرلے گا۔