روہنگیا مسلمان اور عالم اسلام کی بے حسی

ایک خبر کے مطابق عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ نے پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی کسی مسلم ملک کی طرف سے مدد نہیں کی گئی ۔  نہ ہی اسلامی کانفرنس یا عرب لیگ کی طرف سے ان کے قتل عام کو روکنے کیلئے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے جبکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے حکومت برما (میانمار) سے روہنگیائی مسلمانوں کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مسلم ممالک کی اس بے حسی کی  وجوہات جاننے کیلئے پوپ نے ایک خفیہ کمیٹی قائم کی ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ مسلمان اتنے بے حس کیوں ہو چکے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ مسلم ممالک نے کسی بھی پلیٹ فارم سے مناسب انداز میں روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوام عالم کے سامنے پیش نہیں کیا۔ یہ سچ ہے کہ ان کو جلاوطن اور ان پر حملے ایسے وقت ہوئے جب بیشتر اسلامی ملک اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کر رہے تھے اور ان کے درمیان تیزی سے اختلافات اجاگر ہو رہے تھے۔ غریب مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مفلوک الحال تھے (اور ہیں) امیر ممالک اپنے حال میں مگن تھے اور (ہیں) ان ممالک کی بین الاقوامی وابستگیاں آج بھی اسی طرح بٹی ہوئی ہیں جس طرح میانمار سے بے دخل کئے گئے روہنگیا مسلمانوں کے دنوں میں تھیں۔ ان مسلم ممالک کے سفارتی، اقتصادی، مالی، سیاسی، جمہوری اور دفاعی تعلقات آج بھی انہی پرانے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ رشتوں اور تعلقات کی یہ نوعیت دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ عالم اسلام روہنگیا کے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں فعال یا غیر فعال کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام رہا۔ سیاسی مسائل سے ہٹ کر بھی کچھ وجوہات ہوں گی۔

 روہنگیا مسلمان آخر ہیں کون اور ان کا ”مقدمہ“ بے پناہ دولت رکھنے والے مسلم ممالک نے کیوں لڑنے سے گریز کیا۔ یہ جانا اور مانا جاتا ہے کہ روہنگیا بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) سے یہاں آ کر آباد ہوئے تھے، انگریزوں نے انہیں خاص طور پر سری نامی کانوں کی طرح 18ویں صدی میں یہاں بسایا تھا۔ بعد میں روہنگیا مزید دو موقعوں پر یہاں خود آ کر آباد ہوئے تھے ۔ پہلے 1947 میں آزادی کے وقت اور دوسرے 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی کے وقت۔ لیکن میانمار کے مغربی حصے میں رہنے والے اس اقلیتی طبقے کے یہاں بسنے کو مقامی لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ لوگ (روہنگیا) حال ہی میں یہاں آ گھسے ہیں لہٰذا انہیں میانمار کی شہریت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن دوسری طرف روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سینکڑوں سال سے آباد ہیں اور یہیں کے شہری ہیں۔ جنہیں حکومت ٹارچر کر رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بنگلہ دیش میں 25 ہزار روہنگیا گزشتہ 22 برس سے پناہ لئے ہوئے ہیں لیکن انہیں ابھی بھی سرکاری طورپر پناہ گزین کی حیثیت نہیں دی گئی کہ یہ ملک بھی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پناہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں مستقل پناہ دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا جب بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگ رہا ہے۔

اس سے قبل مئی 1912 میں ایک بودھ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد روہنگیا مسلمانوں اور اکثریتی آبادی والے بودھوں کے درمیان فسادات اور قتل و غارت شروع ہو گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے عصمت دری کے اس واقعہ نے ایسی شکل اختیار کر لی کہ اقوام متحدہ کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ روہنگیا مسلمانوں کے ہاتھوں اجتماعی عصمت دری اور خاتون کا قتل فسادات پھوٹنے کا سبب بن گیا۔ پولیس نے 4مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

3جون 2012 کو بدھسٹوں کے ایک گروہ نے توتاپ نام کی ایک جگہ پر ایک بس پر حملہ کر دیا۔ ان کو شک تھا کہ بس میں عصمت دری کرنے والے ملزمان جا رہے ہیں ۔ اس حملے میں دس افراد مارے گئے جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس کے جواب میں روہنگیا مسلمانوں نے بھی بدھسٹوں پر حملے شروع کر دیئے اور یہیں سے اس ملک میں فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

ان فسادات میں صرف روہنگیا مسلمانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ملک کے دوسرے حصے میں رہنے والے مسلمان بھی اس کی زد میں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان فسادات کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر پناہ گزیں کیمپوں میں غیر انسانی طریقے سے زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ ان کیمپوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ لو گ یہاں سے کسی طرح بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ وہ پڑوسی مسلم اکثریت والے ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی طرف نہ صرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ موقع ملنے پر فرار ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس کوشش میں بہت سے روہنگیا نے اپنی جان بھی گنوائی ہے ۔  بہت سے کھلے سمندر میں کشتیوں پر رہنے لگے ہیں کیونکہ کوئی اسلامی ملک ان کو پناہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ اور یہ حکومت میانمار کا ٹارچر سہنے پر مجبور ہیں۔

میانمار میں مسلمانوں اور بدھسٹوں کے درمیان موجودہ نفرت طالبان کی طرف سے بامیان میں بدھ کی مورتی اور بدھ مت کی تعلیمات کی سلیں توڑنے کے بعد سے شروع ہو گئی تھی۔ ان فسادات کے پیچھے سوچی سمجھی سازش لگتی ہے جس میں انتہاپسندوں اور طالبان کا نام بار بار سامنے آتا ہے۔  ایسے فسادات راتوں رات نہیں ہوتے اس کے لئے پہلے سے ماحول تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار اب قابل رحم ہو گئی ہے اور اس قابل رحم حالت کا دہشت گرد اور انتہاپسند فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

کوئی سیما ادھر بھی دیکھے، کوئی تو چارہ گری کو اترے
افق کا چہرہ لہو سے تر ہے زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے