اپنے وجود سے واقفیت
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 22 / مارچ / 2016
- 5819
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کا نظام انسان کے وجود سے ہے۔اوراگر مان لیا جائے کہ دنیا میں انسان ہی نہ ہوتا تو اِس کا نظام بھی اس شکل میں نہ ہوتا، جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجودیہ بات ناقابل یقین اور حیرت و افسوس کی ہے کہ انسانوں کا ایک بڑا طبقہ خود اپنے وجود اور اس کے مراحل سے لاعلم ہے۔ ناواقفیت اپنے وجود سے، ناواقفیت اس بات سے کہ وہ دنیا میں کیوں اور کس حیثیت سے آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے برخلاف جن مذاہب و رسم و رواج یا کلچر سے انسانوں کے گروہ تعلق رکھتے ہیں، وہ اعلیٰ سطح پر ترقیوں کے منازل طے کرنے کے باوجود ،یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ درحقیقت ان کی خود کی حیثیت کیا ہے؟
یعنی انسان درحقیقت کیا ہے اور دنیا میں اس کی موجودگی کے کیا تقاضے ہیں۔ چونکہ ایک بڑے طبقے نے ہر زمانے میں مذہب سے بیزاری کا رویہ اختیار کیا لہذا مذہب بیزاری ہی کا نتیجہ تھا اور ہے کہ مذہبی تعلیمات کو اس نے کوئی اہمیت نہ دی۔اور سوال کا جواب وہاں تلاش کیا جہاں درحقیقت اس کے پاس کوئی سند نہ تھی، سند تھی تو قیاسات پر مبنی افکار و نظریات کی، جو زما و مکان کی تبدیلی کے ساتھ خو د بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ دیکھنا چاہئے کہ انسان کہاں تک کامیاب رہا اور کن حیثیتوں ، تصورات و نظریات میں وہ ناکام ثابت ہواہے۔ انہیں کوششوں کی کچھ جھلکیاں یہاں ہم پیش کر رہے ہیں۔ قاری خود کو ان تصورات اور افکار ونظریات کے سانچے میں ڈھال کر دیکھےکہ آیا وہ وہی ہے جو دوسرے اُس کے تعلق سے بحث کرتے نظر آرہے ہیں ؟ یا اُس سے کچھ مختلف؟ ممکن ہے یہ باتیں ان لوگوں کو سوچنے پر مجبور کریں جو "عقیدہ" سے پرے دیگر افکار و نظریات سے بحث کرتے ہیں۔ یا کم از کم اس کو سمجھنے میں کوشاں ہیں۔
سائنس اور فلسفہ سے متعلق مطالعہ کی ابتدا ہمیں یونانی فلسفہ کی تصانیف میں ملتی ہے۔ ان کے زمانے سے پہلے محض مبہم قیاس آرائیاں ہی دستیاب ہوسکی ہیں، جن کی اہمیت مشتبہ ہے۔ قدیم یونانی مفکروں کے بارے میں بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ جن نظریات سے انہوں نے بحث کی ہے وہ کس حد تک درست ہیں۔ یہ بات صاف ہے کہ انہوں نے اپنی گرد وپیش کی دنیا کے عام پہلوؤں کو الگ الگ کرکے ابتدائی امتیازات پیش کیے ہیں۔ جیسے آگ ، ہوا، پانی اور ٹھوس مادہ جسے انہوں نے زمین کا نام دیا تھا۔ یا کشش اور دور دھکیلنے کے رجحانات میں ، دوام اور تغیر میں، وحدت اور کثرت میں، مادے اور ہئیت میں اور علیٰ ہذالقیاس زندگی کی عام حقیقت،اور خصوصاً انسانی زندگی نے سب سے پہلے ان کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے اس کا اپنے گرد و پیش کے دوسرے حقائق سے سلسلہ جوڑنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پرہیراکلیٹس(Heraclitus)نے بلندی اور پستی کی سمت حرکت کے عام رجحان سے اس کا رشتہ جوڑا۔ جو اس کے نزدیک قدرت میں ہر طرف کار فرمانظر آتاہے۔ جیسے بخارات کے اٹھنے میں اور بارش ہونے میں رات اور دن میں، گرمی اور سردی میں، خواب اور بیداری میں، حیات اور ممات میں ، نشونما اور انحطاط میں، نیکی اور بدی میں، ترقی اور تنزلی میں۔ اس طرح کے طریقہ ہائے بحث نے بعض قدیم یونانی فلسفیوں کو جدید نظریہ ارتقاء اور اس کے انسانی زندگی پر عملی انطباق کے بہت سے مسائل تک پہنچایا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بالکل ابتدائی دور میں انسانی زندگی کی ناہمواریوں نے خصوصاً اس کے سماجی پہلوؤں کی غیر ہمواری نے ان کو کافی متاثر کیا۔ اس کے باجود انہوں نے مشاہدہ کیا کہ آگ کے جلنے کا ایک مقررہ طریقہ ہے، اس کا جو طریقہ یونان میں ہے وہی ایران میں بھی ہے۔ یہی بات مجموعی طور پر پودوں کی نشونما، حیوانات کی جبلتوں، سیاروں کی حرکات اور دوسرے قدرتی طرزہائے عمل کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ جن میں بڑی حد تک یکسانیت ملتی ہے۔ چنانچہ ان مشاہدوں کے ذریعہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یکسانیت ہر فطری چیز کی خصوصیت ہے اور اس میں تغیر نہیں ہے۔
اسی طرح پانچویں صدی قبل مسیح کے درمیانی زمانے میں یونان میں معلمین انسانی کی ایک جماعت ابھری جسے عموماً سوفسطائیوں(Sophists)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔انہوں نے فطری اشیا کے درمیانی تضاد کو نمایاں کرے کے پیش کیا ۔ وہ ایک طرح سے چلتے پھرتے استاد تھے جوہمیشہ سرگرم سفر رہتے تھے۔ مختلف مقامات کی سیاحت کے دوران جس چیز نے خاص طور پر انہیں متاثر کیا وہ وہاں کے رواج، قوانین اور آئین حکومت وغیرہ کی وسیع نیرنگی تھی۔ان کو دیکھ کر وہ یہ کہنے پر مائل ہوئے کہ ان کے اندر فطری معروضات کی سی باقاعدگی نہیں ہے اس لیے ان کو محض روایتی سمجھنا چاہیے۔ان کا انحصار انسانی معاہدوں، سمجھوتوں یا محض حکمرانوں کے بے اصول انتخاب پر تھا۔ ان کی حقیقی بنیاد اشیاء کی فطری خصوصیات میں موجود نہیں تھی۔ اس طرح ان چیزوں کے درمیان جو فطری وجود رکھتی ہیں اور ان میں جن کا وجود انسانی قوانین یا روایتوں پر منحصر ہے، واضح امتیاز پیش کیا گیا اور اس کی اہمیت پر سختی سے زور دیا گیا۔
دوسری جانب جب ہم لفظ انسان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی مختلف اوقات میں مختلف فکر و نظر نے یا تو فلسفہ سے کام لیا یا قیاس آرائیوں سے ۔ کہیں انسان کی تعریف بے پروں کا دوپایہ جیسی مضحکہ خیز تعریف کی تو کہیں حیوانِ ناطق جیسی تعریفیں ملتی ہیں۔ بیک ہاٹ(Bagehot) نے کہا تھا کہ میں ایک روح ہوں جو حیوان کی شکل میں ہے۔ اسی طرح فرنیکلن (Franklin) اور کارلائل(Carlyle) نے انسان کو آلات سے کام لینے والا جانور قرار دیا ہے۔ مارگن(Prof Llyod Morgan) نے اپنی کتاب Animal Life and Intelligenceمیں کہا کہ اگر انسان کو آلات سے کام لینے والا جانور تسلیم کر لیا جائے تو وہاں آلات کا بھی وسیع مفہوم لینا ہوگا۔ جس میں مشینوں، کتابوں،اداروں اور جانوروں سے کام لینا بھی شامل ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ استدلال کی صلاحیت کے باوجود اگر انسان کو ایک مخصوص جسمانی ساخت ودیعت نہ ہوئی ہوتی تو انسانی زندگی وہ نہ ہوتی جو آج ہے۔ ایک مکمل عضلاتی اور استخوانی بناوٹ کے بغیر وہ اپنے جسم کو اس طرح سیدھا اور کھڑا نہ رکھ سکتا تھا کہ دوسروں پر حکمرانی اور برتری کا سکہ جماسکے۔ انیکسگوراز( Enexgoras)اس بات کا حامی ہے کہ انسان کی تمام تر فضیلت اس کے ہاتھوں کی بدولت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپنے اعلیٰ حواس اور آنکھوں کے بغیرو ہ معروضات کا اتنی صحت کے ساتھ مشاہدہ نہیں کر سکتا تھا کہ انہیں اپنے مقاصد کے مطابق ڈھال سکے۔ ہاتھوں کی آزادانہ حرکت کے بغیر اس کے لیے وہ اوزار اور مشینیں بنانا مشکل ہوتا جن سے آج ہم واقف ہیں اور جن کی قدیم شکلوں کو انسان کے جسمانی اعضاء کی توسیع دی ہوئی شکل سے کچھ ہی زیادہ سمجھا جا سکتا تھا۔ یہ مفکرین جوانسان اور انسانی ساخت اور اس کی خصوصیات پر بحث کرتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسانی جسم کی انوکھی خصوصیات پر توجہ دیئے بغیر ہم انسانی زندگی کو مکمل طور پر سمجھنے کی امید نہیں کر سکتے۔
گفتگو کے پس منظر میں غور کیجئے جو انسان خود کو انسانِ کامل ہی نہ سمجھتا ہو وہ کس طرح دنیا کے بارے میں صحیح رائے قائم کرسکتا ہے؟ اور اگر ایک شخص ، گروہ یا قوم اپنے وجود اورآغاز و انتہا کو دنیا کے وجود اور آغاز و انتہا سے صحیح معنوں میں رشتہ قائم کرنے میں ناکام ٹھہرتا ہے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے لیے یا دیگر افراد و گروہوں کے لیے سود مند ثابت ہوسکے۔ لہذا دنیا میں کسی بھی نظام کے قیام و استحکام کے لیے لازم ہے کہ سب سے پہلے انسان اپنے وجود سے خوب اچھی طرح خود واقف ہوجائے۔ (جاری)