میرے سیکولر لبرل فاشسٹ دوست

اُردو اخبارات میں مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور متعدد کالم نگاروں کے کالم آج کل شدت کے ساتھ زورلگا رہے ہیں کہ ہم پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بننے دیں گے۔  ان بیانات اورکالموں میں ’’لبرل فاشسٹ یا سیکولر فاشسٹ‘‘ کی اصطلاح بڑے حتمی انداز میں استعمال ہو رہی ہے۔ 1973ء کے آئین میں جب یہ طے ہو گیا کہ پاکستان میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی جو قرآن کریم اور اسلام کے منافی ہو تو پھر ایسے خوف کا اظہار لایعنی ہے۔ ریاستی معاملات کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے مختلف ادارے بھی موجود ہیں، جن میں مکمل طور پر علمائے کرام شامل ہیں۔ نہ جانے ان بیانات کے پیچھے وہ کون سا خوف یا ایجنڈا ہے، کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست سے ایک تھیورو کریٹک ریاست بنانے کی خواہش دلوں میں مچل رہی ہے۔ آج میں  چند لبرل سیکولر فاشسٹ دوستوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور تلاش کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ لبرل سیکولر دوست فاشسٹ تھے۔

بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید، تحریک پاکستان کے سرگرم کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور ذوالفقار علی بھٹوکے بعد حکومت میں سب سے طاقتوروزیر تھے۔ بہ لحاظِ عہدہ وہ ڈپٹی وزیراعظم تھے۔ بحیثیت وزیر صحت انہوں نے پاکستانی اور ملٹی نیشنل دواساز کمپنیوں کے سرمایہ دار مالکان کی جنرک سکیم کے تحت نیندیں حرام کر دیں۔ زرعی اصلاحات کرکے لاکھوں کسانوں کو زمینوں کا مالک اور سینکڑوں جاگیرداروں و زمینداروں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ پاکستان کا یہ محنت کش سیاستدان لبرل بھی تھا اورسیکولر بھی۔ جب وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو بینک بیلنس صفر تھا۔ میں نے ان کے ساتھ دو دہائیوں سے زیادہ وقت جدوجہد میں گزارا۔ 1983ء میں جب وہ سوشلسٹ بلغاریہ کے صدر کی دعوت پر علاج کے لیے روانہ ہوئے تو سفری بیگ کی مرمت کے لیے چند روپے بھی ان کے پاس نہیں تھے۔ وہ جنرل ضیاالحق کی مسلح آمریت کے خلاف جدوجہد میں اپنی پارٹی میں سب سے آگے تھے۔ سینکڑوں سرمایہ دار اور جاگیردار ان کی جان کے دشمن تھے کہ انہوں نے پاکستان کے ہزاروں بے زمین کاشتکاروں کو پاکستان میں چند ایکڑ زمین ملکیت دی۔ میں نے کبھی ان کے پاس بندوق، پستول حتیٰ کہ لاٹھی بھی نہ دیکھی۔ نہ کبھی میں نے اُن کو کسی مذہب، عقیدے یا مذہبی پیشوا کی توہین کرتے سنا۔ جب ان کا انتقال ہوا توبھی بے وسیلہ، بغیر بینک بیلنس چھوڑے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آج ان بیانات کے بعد میں اُن کے اندر، اُن کی سیاست، اُن کی طرزِزندگی میں فاشزم تلاش کرنے میں مصروف ہوں۔ ان بیانات اور کالموں کی اشاعت کے بعد جو خصوصاً اُردو اخباروں میں شائع ہو رہے ہیں۔

ملک معراج خالد، پنجاب کے گورنر، وزیراعلیٰ، سپیکر اسمبلی اور وزیراعظم رہے۔ وہ پاکستان کی عوامی سیاست کے دور میں طاقتور ترین عہدوں پر فائز رہے۔ باقاعدہ سیکولر اورلبرل سیاست کے علمبردار، کبھی پرائیویٹ گارڈ تو کیا کبھی سرکاری گارڈ بھی ان کے گرد نہیں دیکھا۔ سیکولرازم اور روشن خیالی ان کی سیاست کا عنوان تھا۔ علامہ اقبال کے حقیقی مداح اوراُن کے افکار پر عملی طور پر جدوجہد ان کا شیوۂ سیاست۔ انہوں نے کرائے کے مکانوں میں زندگی گزاردی۔ آمرانہ ادوار جہاں لاٹھی گولی کی سرکار ہوتی ہے، کے خلاف جہد مسلسل کی۔ جب اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تب تک ان کے ہاتھ میں کبھی بندوق، بم، خود کش جیکٹ، پستول نہیں دیکھی۔ آج اُن کی شخصیت میں بھی فاشزم کی تلاش میں ہوں، انہی بیانات اور کالموں کی روشنی میں جو دھڑا دھڑ شائع ہو رہے ہیں، جن میں سیکولر فاشسٹوں کو خوب لتاڑا جارہا ہے۔

ڈاکٹر مبشر حسن، پاکستان کے طاقتور ترین وزیرخزانہ رہے۔ بھٹو دور میں بینکوں، ملوں، انشورنس کمپنیوں سمیت سب کچھ قومیانے کا بیڑا انہوں نے اٹھایا۔ یقیناً درجنوں نہیں سینکڑوں سرمایہ دار، جن میں موجودہ وزیراعظم کا خاندان بھی شامل ہے، آج بھی ان سے اس لیے نفرت کرتا ہے کہ انہوں نے ان کی ملیں بھی قومیا لیں۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے پوری عمر سیکولر اورلبرل سیاست کا پرچم بلند رکھا اور ابھی تک سرگرمِ عمل ہیں۔ اسّی سال سے زیادہ عمر، اپنی وہی فاکس ویگن خود چلاتے ہیں جو چھے دہائیوں پہلے ان کے استعمال میں تھی۔ اس سیکولر، لبرل سیاستدان کو کبھی کسی دہشت گردی میں ملوث ہوتے، تربیت دیتے، بندوق اٹھاتے حتیٰ کہ ڈنڈا اٹھاتے یا ڈنڈا استعمال کرنے کی ترغیب دیتے کبھی نہیں سنا یا دیکھا۔ میں تین دہائیوں سے ان کی جدوجہد کا ساتھی ہوں۔ لیکن اِن بیانات کی روشنی میں ڈاکٹر مبشر حسن کے اندر ایک فاشسٹ کا متلاشی ہونے پر مجبور ہوں، کیوں کہ ان بیانات میں شدت کے ساتھ یہ اظہار کیا جارہا ہے کہ لبرل سیکولر فاشسٹوں کو کچل دیں گے۔ لیکن کچلنے کا دعویٰ کرنے والے فاشسٹ ہیں یاکہ کچل دیئے جانے والے؟

محمد حنیف رامے، پنجاب کے وزیراعلیٰ، گورنر، سپیکر اسمبلی رہے۔ کرائے کے مکانوں میں زندگی بِتا دی، لوگوں کوپلاٹ الاٹ کیے جن میں صحافی بھی شامل ہیں، پنجاب بھر میں کچی بستیوں کو مالکانہ حقوق دیئے۔ بدمعاش، سرمایہ دار، جاگیردار ان کی لبرل سیکولر سیاست کے Victims رہے۔ اپنی سیکولر اور لبرل سیاست کے سبب ہزاروں جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو دشمن بنا لیا ۔ کرائے کے مکان مسلسل بدلنے والے اس طاقتور ترین وزیراعلیٰ سے بھی تین دہائیاں جدوجہد کا ساتھ رہا۔ لیکن آج مجبور ہوں کہ ان کی شخصیت میں فاشزم تلاش کروں۔

ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں سیاستدانوں کی کہانیوں سے میں صرف واقف نہیں ہوں بلکہ ان کی جدوجہد کا ساتھی اورگواہ ہوں جو لبرل بھی ہیں اورسیکولر بھی، لیکن آج کے اخبارات میں ایک مہم کے طور پر شائع ہونے والے کالموں اوربیانات کے بعد میں مجبور ہوں کہ ان شخصیات میں فاشزم تلاش کروں۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے جب پاکستان کے بینک قومیانے تھے تو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ اتنے دھیمے اور میٹھے مزاج کے شخص ہیں کہ آپ کے اس بیان پرسرمایہ دار بینکار یقین ہی نہیں کریں گے کہ آپ ان کے بینکوں کو قومی ملکیت میں لے رہے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان رہنماؤں اورکالم نگاروں کے الفاظ کاغذوں پر پڑھتا اور مذاکروں میں سنتا ہوں جو سیکولر لبرل فاشسٹوں کو کچلنا چاہتے ہیں تو خوف آتا ہے ان کی آوازوں کی شدت سن کر۔

میرے سینکڑوں لبرل سیکولر رہنما اور دانشور دوست ہیں جن میں پاکستان کے دانشور اور سیاستدانوں کے علاوہ بیرونی دنیا کے سیاستدان اور دانشور بھی شامل ہیں۔ انہی میں سے دو کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ایک امریکی جو مسلمان نہیں، سابق اٹارنی جنرل امریکہ رمزے کلارک اور دوسرے ترکی کے چار بار منتخب ہونے والے وزیراعظم بلندایجوت۔ رمزے کلارک امریکی حکمرانوں کے ایوانوں میں کانٹے کی طرح چبھتے ہیں۔ وہ امریکہ کے اندر ہونے والے سامراجی ظلم اور استحصال کے خلاف ہی آواز بلند نہیں کرتے بلکہ اسلامی دنیا سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں بھی امریکی سامراج کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ ایک مکمل لبرل اور سیکولر دانشور اور ایکٹوسٹ ہیں۔ امریکہ کے تمام خفیہ ادارے ان کی دن رات نگرانی کرتے اوران کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔ اس لبرل سیکولر کو کبھی میں نے بندوق اٹھاتے یا اٹھانے کی ترغیب دیتے نہیں سنا نہ ہی دیکھا۔ لیکن اب مجبور ہوں اس عالمی سطح پر متعارف لبرل سیکولر رہنما کے اندر فاشزم تلاش کروں۔

کمال اتاترک، مسلم دنیا میں سب سے بڑے سیکولر لیڈر ہوئے۔ ان کے بعد جس سیاستدان کو سب سے زیادہ سیکولر لیڈر مانا گیا وہ بلندایجوت تھے، ایک طاقتور ریاست کے لیڈر اور چار مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے اس نرم خو، شاعر مزاج، ادیب، مصنف اور مترجم کے اندر اب میں یقین اًفاشزم تلاش کرنے کی تحقیق کروں گا۔

لیکن ایک بات مجھے حیران کر دیتی ہے۔ جب بندوق، بم، خود کش جیکٹ ، پُرتشدد بیانات دینے والوں کو ایک ہی نقطۂ نظر کے خیمے میں کھڑا پاتا ہوں۔ اُن کے اندرون ملک، آزاد علاقوں اور دیگر جگہوں پر مسلح تربیت کے کیمپس، ان کے اردگرد رعب دار مسلح گارڈز، بینکوں میں کروڑوں کے  بیلنس، بیرون ممالک سے کروڑوں کی امداد، جن میں غیر مسلم اور مسلم ریاستیں بھی شامل ہیں۔ یہ سب دیکھتا ہوں تو پھر سوچتا ہوں کہ فاشسٹ کون؟ اور جو آئین پاکستان کی موجودگی میں ریاست کو اپنے نظریات کے تحت چلانے، بندوق اور دہشت کے خوف سے ریاست کو زیر کرنے اور اخبارات میں ایسے بیانات اور کالم شائع کرکے ان لوگوں کو مضبوط کررہے ہیں جو ایک ایسی ریاست کو گرانا چاہتے ہیں جو اسلامی آئین رکھتی ہے، تو پھر سوچنے پر مجبور ہوں کہ فاشسٹ کون؟ جو جنگوں، فسادات، تنازعات، انارکی اور خوف کوپھیلا رہے ہیں، وہ فاشسٹ ہیں یا کہ وہ جو دلیل سے بات کرتے ہیں؟ کون ہے فاشسٹ؟