پاکستان عسکری نہیں سیاسی کارنامہ ہے

  • تحریر
  • جمعرات 24 / مارچ / 2016
  • 4022

ملک میں23مارچ کو ایک بارپھر افواج پاکستان کی پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی۔ معلوم نہیں کہ قیام پاکستان کے سیاسی عزم کے یوم تجدید کے موقع ملک میں سیاسی قوت کے بجائے فوجی طاقت کے مظاہرے کی ضرورت کب سے محسوس ہونا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ کیسے شروع ہو ا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ یہ طریقہ کار جنرل ایوب خان کے دور اقتدار سے ملک میں متعارف کرایا گیا۔

ملک کی فوجی طاقت کا اظہار یوم دفاع 6ستمبر کو کیا جانا عین مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 23مارچ خالصتاً نظریہ پاکستان کے حوالے سے ایک تاریخی سیاسی کارنامہ ہے لیکن ملک میں 23مارچ کو  سیاسی کردار کی بحالی کی آواز بلند کرنے کے بجائے ملکی سیاسی نظام پر حاوی طریقہ کار کو تقویت پہنچانے کے اسی انداز کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے جو سابق مارشل لاء حکومتوں کا طریقہ کار تھا۔ قرار داد پاکستان ایک سیاسی عزم کا اظہار تھا، اس عہد کی تجدید کا دن منانے کا بہتر طریقہ ملک میں حقیقی سیاست/سیاسی کردار کی بحالی اور اس کی ترویج ہی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے قیام کی بنیادی قوت سیاسی کردار ہی ہے اور ملک میں حقیقی سیاسی کردارہی ملک کی اصل طاقت ہے، جس کی غیر موجودگی کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی حاوی ہو جاتی ہے۔

نظریہ پاکستان، قرار داد مقاصد اور قرار داد پاکستان کے حوالے سے ملک میں اسلامی غلبے والی ریاست یا سیکولر ریاست کی بحث ا کثر ہوتی رہتی ہے۔ ملک میں اسلامی نظام ہو( اور وہ بھی مخصوص مائینڈ سیٹ کی تشریج کے مطابق)، سیکولر ہو یا کوئی اور نظام حکومت، لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد میں عوام کی بہتری تھا اور عوام کے مفادات کے عزم کے اظہار سے ہی پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔  لیکن پاکستان کو طاقت کے ذریعے ’’ڈی ٹریک‘‘ کرتے ہوئے کاروبار حکومت چلانے والے ملکی اداروں کو بالاتر طبقہ بنا دیا گیا۔ ایسا کبھی اسلام کے نام پر کیا گیا اور کبھی ملک کے بہترین مفاد کے نام پر۔

لیاقت علی خان کے سازشی قتل سے پہلے سے ہی ملک میں سیاسی سازشیں شروع ہو چکی تھیں، جس کی تان مارشل لاء پر آ کر ٹوٹی۔ مارشل لاء حکومتوں نے ملک میں سیاسی جماعتوں کو کارنر کرتے ہوئے منظور نظر شخصیات کو سیاست میں لاتے ہوئے تابعدار سیاسی جماعت کے کلچر کو فروغ دیا جس کی  بدترین صورتحال آج ملک کو درپیش ہے۔ 23مارچ کے دن ہی ملک میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام سے معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی ہمارے پالیسی ساز  ،ارباب اختیار کنٹرولڈ سیاسی نظام کوکارآمد سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے مفادات کے حق میں تو موزوں ہو سکتا ہے لیکن تابعدار سیاست کے اس چلن کی ترویج کو ملک اور عوام کے مفاد میں قرار دینا بہت مشکل ہے۔

مارشل لاء حکومتوں اور تابعدار سیاسی جماعتوں(نام نہاد) نے ملک میں طبقاتی نظام کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ناقابل تسخیر بنا دیا اور اسی حوالے سے معاشی عدم مساوات کو ملک کا ’’ میگنا کارٹا‘‘ بنا دیا گیا۔  یہی نام نہاد سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کی بجائے طاقتور طبقے کے مفادات کے تحفظ لئے استعمال ہوتی ہیں۔عوام کو جس طرح مختلف حوالوں سے یک طرفہ پابندیوں میں جکڑا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عوام پر مختلف حوالوں سے ٹیکسز اور محاصل میں  اضافے کا معاشی بوجھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ کیا پاکستان ملکی کاروبار حکومت چلانے والوں، اداروں ، سرکاری تنخواہیں پانے والوں کو عوام پر ترجیح دیتے ہوئے ان کے شاہانہ طرز زندگی کو یقینی بنانے کے لئے قائم کیا گیا تھا؟

خراب معاشی صورتحال والے ملک میں طاقتور ،بااختیار طبقات کی سماجی زندگی ، ان کی تعلیمی و طبی سہولیات کا معیار یورپ سے بھی اچھا ہے۔ ان کی اپنی زندگیاں ہی نہیں ان کی نسلوں کا مستقبل بھی شاندار وتابناک ہونا یقینی بنا دیا گیا ہے ۔ملک کی اصل طاقت عوام ہی ہوتے ہیں، عوام کو مختلف حوالوں سے تقسیم در تقسیم اور تابعدار سیاسی کلچر کی ترویج سے ملک کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں سرکاری دکھاوے کے طور پر مقاصد پاکستان ، قائد اعظم کے فرمودات پر عمل کے اعلانات بار بار کئے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر اس کے برعکس طرز عمل کی ترویج ہوتی ہے ۔ اسی کو ملک و عوام کا مقدر بنانے کے لئے  پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے۔