سیکولر آمروں کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور یورپ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- اتوار 27 / مارچ / 2016
- 4820
چار روز قبل بلجیم اوریورپی یونین کے دارالحکومت برسلز کے ایئرپورٹ اور زیرزمین میٹرو میں دہشت گردی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کی جو لہر چار دہائیوں قبل افغانستان میں منظم کی گئی اوروقت کے ساتھ ساتھ جس نے جنوبی ایشیا سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور اب یورپ کو نشانہ بنانا شروع کر دیاہے، وہ ابھی ختم یا کم نہیں ہوئی۔
9/11 کے دہشت گردی کے واقعات کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کا عالمی اتحاد بنایا اور افغانستان پر یلغار کر دی، اس وقت عام لوگ کیا بڑے بڑے مفکریہ یقین کئے بیٹھے تھے امریکہ کی سرپرستی میں اس عالمی عسکری کارروائی کے بعد دہشت گرد، دہشت گردی اور دہشت گردی کے مراکز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ 9/11 کے بعد دنیابھر میں دہشت گردی تقویت بھی پکڑتی گئی اور اس کا دائرہ کار بھی پھیلتا گیا۔ یہاں پر امریکہ کی دوغلی پالیسی کو کسی طرح نظر انداز کئے بغیر تجزیہ کرنا عصری تاریخ سے زیادتی ہوگی۔ امریکہ نے 1979ء میں کابل حکومت کے خلاف ایک عالمی اتحاد بنایا جس میں دنیا بھر سے غیر عسکری لوگوں کو اکٹھا کرکے مذہب کے نام پر، کافروں، لادینوں، اشتراکیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ امریکی ہی تھے جنہوں نے افغانستان میں غیر فوجی لوگوں کو بم بنانے، دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے اور دہشت گردی کے نت نئے طریقوں کی ٹریننگ دی۔
برسلز دھماکوں کے بعد یورپی رہنماؤں نے ان دہشت گردانہ حملوں کو جمہوریت کے خلاف دہشت گردی قرار دیا۔ ذرا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا تضاد دیکھیں۔ 1979ء میں افغانستان کی ایک سیکولر اور اشتراکی حکومت کے خلاف مذہبی سیاست کو پُرتشدد کرنے کا انتظام، اہتمام اور وسائل ،امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے فراہم کئے۔ جب افغانستان میں جنگ و جدل کے بعد افغانستان ایک کھنڈرر بن گیا، تو اس کو مقامی مسلح گروہوں کی باہمی لڑائی، کشمکش اور جنگ و جدل کے لئے چھوڑ دیا۔ جنیوا معاہدے کے بعد ان مسلح گروہوں نے جن کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سہولت Facilitate بہم پہنچائی تھی ، دہشت گردی میں آئے روز خود مختار ہوتے چلے گئے۔ خلیج کی پہلی جنگ میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مسلط کرنے اور جنگی یلغار کا آغاز کیا۔ ایک سیکولر حکومت جو صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے تحت قائم تھی، کے خلاف اقدامات کا آغازکر دیا۔ دوسری خلیجی جنگ میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم سیکولر آمر صدام حسین کو اقتدار سے ہی علیحدہ نہیں کیا بلکہ عراقی ریاست اور سماج کو ادھیڑ کر رکھ دیا اور عراق کو مذہبی دہشت گردوں کی جنت میں بدل دیا۔
اس دوران امریکہ جو مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی انقلاب 1979ء کے بعد ایرانیوں کے نزدیک ’’شیطان بزرگ‘‘ اور ایران جو امریکہ کے نزدیک دہشت گرد ملک تھا، اس کی مدد لی گئی اور اس طرح عراق میں امریکہ اور ایران اتحادیوں کے طورپرسرگرم ہوگئے۔ نام نہاد عرب بہار کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم وہ تواز ن جو یہاں کے آمروں نے قائم کررکھا تھا بگڑنا شروع ہو گیا۔ مصر کے حسنی مبارک، لیبیا کے معمرقذافی جیسے سیکولر آمروں کو مٹا دینے کے بعد جو مشرقِ وسطیٰ ابھرا، وہ سب کے سامنے ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لیبیا میں اپنی طرف سے اعلان کردہ ان دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کی جن کو 9/11 کے بعد عالمی امن اور جمہوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت اور ریاست کو اس طرح تار تار کیا گیا جیسے عراق کی ریاست اور سماج کو، قذافی کے بعد لیبیا عراق کی طرح ہی مسلح گروہوں کے تحت چلنے لگا اور ان مسلح گروہوں کی امریکہ نے بھرپور سرپرستی کی۔ مصر میں حسنی مبارک کی رخصتی اور اسلام پسند حکومت کا انتخاب اور اس کے بعد ایک فوجی ڈکٹیٹرسیسی کو اقتدار میں لانے کے عمل نے مصری ریاست کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ شام میں بشارالاسد کے خلاف پُرامن مظاہروں کو مسلح مظاہروں اور دہشت گردی میں بدلنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے وہی حکمت عملی اپنائی جو عراق اور لیبیا میں۔ شام میں ان دہشت گرد تنظیموں کو مسلح اور مالی مدد دی جارہی ہے جس کو امریکہ افغانستان میں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ اس سارے منظرنامے میں پاکستان بھی دہشت گردی کابڑا نشانہ اور مرکز بنا اور یہاں بھی دوغلی پالیسی پر عمل کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ اوریورپ دونوں خطے بحیرۂ روم کے کناروں پر پڑوسیوں کی طرح صدیوں سے ہر طرح کے تعلقات رکھتے آئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جس نے دنیا کے تین ابراہیمی مذاہب کو جنم دیا، اسی سرزمین کے ایک مذہب عیسائیت کو یورپ میں متعارف کروایا گیا۔ یورپ، مشرقِ وسطیٰ تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ دونوں خطوں نے ایک دوسرے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہ تعلقات سمیری تہذیب، اناطولین تہذیب، یونانی تہذیب، رومی تہذیب، فارسی تہذیب، مصری تہذیب، عرب تہذیب، بارنطینی تہذیب، اسلامی ادوار کی بغداد اور ہسپانیہ کی تاریخ سے لے کر آج تک اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلیاں یورپ کو متاثر نہ کریں اور اسی طرح یورپ میں جنم لینے والے واقعات۔ آج یورپ کے اندر ایک نکتہ نظر کے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صدام حسین، معمر قذافی، حسنی مبارک اور بشارالاسد کے خلاف جو چاروں ہی سیکولر اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف تھے، اُن کو ہٹانے بشمول بشارالاسد، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ مذہبی دہشت گردی کے نشانے پر آن کھڑا ہوا ہے۔ ان سیکولر آمروں کے خلاف جمہوری اور پُرامن جدوجہد کی حمایت کی بجائے مسلح سرپرستی کیوں کی گئی۔ یورپ کے یہ اہل علم لوگ مشرقِ وسطیٰ کے قبائلی نظام اور پسماندہ ریاستی و سماجی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے، صدام حسین، معمر قذافی، حسنی مبارک اور بشارالاسد کی حکومتوں کے جواز پیش کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ ایران، سعودی عرب دونوں ہی بہ یک وقت امریکہ کے ظاہری اور باطنی اتحادی کیوں ہیں۔ دونوں ہی مذہبی تھیوروکریٹک ریاستیں ہیں۔ اُن کے اتحادی بننے اور مشرقِ وسطیٰ کے سیکولر آمروں کو ملیامیٹ کرنے سے دہشت گردی نے جس طرح یورپ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، اس کے بعد یہ سوال یورپ میں طاقت پکڑتا جارہا ہے۔ یقیناً امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چیچنیا اور جارجیا میں بھی مذہبی لوگوں کی سرپرستی کی۔ لیکن اشتراکی روس کے بطن سے نکلنے والی روسی فیڈریشن نے ان کے خلاف روزِ اوّل سے ہی بھرپور کارروائیاں کیں۔
آج ایک عام یورپی بھی یہ سوال کرتا نظر آرہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اوریورپ، صدام حسین، حسنی مبارک اور قذافی کے بعد کہاں آپہنچا ہے؟ جمہوریت کی طرف یا دہشت گردی کی طرف؟ اس پس منظر میں وہ اس دن کو تصور کرکے اندازہ لگا رہے ہیں کہ بچی کھچی شامی حکومت جس کی قیادت بشارالاسد کر رہے ہیں اگر یہ گر گئی تو دہشت گردی کا سیلاب دونوں براعظموں کو کس قدر متاثر کر دے گا۔