لہو کب تک
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- منگل 29 / مارچ / 2016
- 5225
آج ہمارا دل پھر دہائی دے رہاہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ گزشتہ دہائی سے دہشت گرد خون کی ہولی کھیل رہے ہیں جس کی لپیٹ میں سارا پاکستان آیا ہوا ہے۔ عام شہری ایوانوں سے بلند ہونے والے بلند و بانگ سیاسی نعرہ بازی سن سن کر بیزار ہو چکے ہیں۔ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ لیکن جواب میں دہشت گرد برسرعام خون کی ہولی کھیلتے ہیں ۔
اب تو عام شہری آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب ابابیل آئیں گی اور دشمن کا خاتمہ کریں گی۔ ان کی دانست میں کوئی دوسرا چارہ ممکن ہی نہیں۔ بعض مفاد پرست اور کوتاہ نظر لاہور دھماکہ کرسچن تہوار کو نشانہ بنانا کہتے ہیں۔ ہم ان کی ذہنیت پر کف افسوس ملتے ہیں۔ ان کی سوچ صرف اور صرف تفرق کی دلدل میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ یہ کیوں سوچنے سے عاری ہیں کہ لاہور کا حملہ، پاکستان پر حملہ تھا۔ اور اس دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ”پاکستانی“ تھے۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ حملہ کرنے والے پاکستان کے دشمن تھے۔ جو پاکستان کے وجود کو روز اول سے برداشت نہیں کر سکتے۔ اور بار بار اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ وہ تخریب کار پاکستان میں آباد ہیں تفتیش کے بعد تخریب کاروں کے گھروں یا ان کے گاﺅں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور تفتیش کو فائلوں کے انبار میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ وہ گھر، وہ گاﺅں اسی طرح آباد ہیں۔ آٹے کے ساتھ گھن بھی پسا جاتا ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد اب لاہور، کب تک پاکستان یہ مناظر دیکھتا رہے گا؟ اور خون کے آنسو روتا رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ نہ صرف دہشت گرد، بلکہ ان کے ٹھکانوں، ان کے گھروں، ان کے گاﺅں کو کرہ ارض سے ملیاملیٹ کیا جائے اور دنیا کے لئے نشان عبرت بنایا جائے۔
سانحہ لاہور اس وقت پیش آیا جب نہ صرف یورپ بلکہ ساری مہذب دنیا برسلز کے سانحہ سے دل فگار تھی۔ یورپ میں ”یوم سیاہ“ منایا جا رہا ہے۔ برسلز کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شہر کی مصروف ”سب وے“ کو مقامی وقت کے مطابق صبح صبح نشانہ بنایا گیا، جب لوگ تلاش معاش کے لئے اور طالب علم کالجوں اور یونیورسٹیوں کو جا رہے تھے۔ ایئرپورٹ پر مسافر اپنے چاہنے والوں، دوسرے ممالک جانے کے تصور میں سرشار تھے۔ داعش کے تخریب کاروں نے ایئرپورٹ اور سب وے کو بے حد مصروف وقت پر نشانہ بنایا۔ سب وے کی بوگیاں اور ایئرپورٹ کے فرش خون کی جھیلیں بن گئیں۔
بلجیم میں ”یوم سیاہ“ منایا جا رہا ہے شہر کا شہر معطل ہے۔ ہم تصور تک نہیں کر سکتے کہ ہم برسلز کی شفاف سڑکوں اور سائیڈ واک چائے خانوں میں مقامی لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور وہ ہمارے لئے آرٹ گیلریوں، کانسرٹ ہال اور بین الاقوامی فیسٹیول کے پروگرام اکٹھے کرتے تھے۔ لاہور کی طرح برسلز یورپ کا کلچرل شہر گردانا جاتا ہے۔ برسلز یورپین یونین کا دارالحکومت ہے۔ یورپ کا پرامن ملک تصور کیا جاتا ہے۔ بلجیم کے لوگ جرمن، فرانسیسی، انگریزی اور ڈچ زبانیں روانی سے بولتے ہیں۔ ان کی سرحدیں جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈ سے ملتی ہیں۔ بحرشمالی کے دوسری طرف انگلینڈ سے مصروف آمدورفت ہے۔ برسلز، لاہور کی طرح موسیقاروں، مصوروں، سنگ تراشوں اور تھیٹر کے اداکاروں کا شہر ہے۔ بینکاری، صنعت کاری کا مرکز ہے۔ یورپ کے دوسرے ممالک بلجیم کے لئے دلوں میں خاص جگہ رکھتے ہیں۔ بلجیم نے تارکین وطن کے لئے بہت سی سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں۔ تارکین وطن اس ملک میں مقامی شہریوں کی طرح آباد ہیں۔ انہیں مقامی شہریوں کی طرح ساری معاشی اور معاشرتی سہولتیں میسر ہیں۔ مدتوں سے بلجیم یورپ کا پرامن ملک مانا جاتا ہے۔ آج ہم سوچنے پر مجبور ہیں کہ برسلز کیوں انسانی خون سے لتھڑ گیا؟ اس کے پانیوں میں کیوں بارود گھول دیا گیا؟ وہ شہر جس نے باہر سے آنے والوں کو فراخ دلی سے جگہ دی، انہیں روزگار مہیا کیا، تعلیم کی سہولتیں دیں، انہیں اپنی سوشلائز سوسائٹی کا رکن بنایا اور اچانک برسلز لہو لہو ہو گیا۔
بعض حکمرانوں نے یہ کہہ کر کہ ”دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں“ اپنا فرض ادا کر دیا۔ لیکن ہم ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فلسفہ بھگارنے کا وقت نہیں۔ یہ عملی اقدامات کا وقت ہے اور وہ وقت دور نہیں جب کرہ ارض کے لوگ ، فلسفیوں اور مذہبی تناظر سے نکل کر محض اور محض انسان اور انسانیت کی بحالی کی طرف قدم اٹھائیں گے۔ اور ان عناصر کو نیست و نابود کریں گے جنہوں نے برسلز کی بربریت کی خوشی میں جشن منائے اور بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔
یہ فرض ہمارا بھی ہے۔
یہ فرض تمہارا بھی ہے۔
ہمارے ہمسئیوں کا بھی ہے۔
ہمارے بین الاقوامی اداروں کا بھی ہے۔
ہمارے UNO کا بھی ہے۔
برسلز اور لاہور میں خون ریزی کا شکار ہونے والے انسان ہیں
ان سے ہمارا بھی رشتہ ہے
ان سے تمہارا بھی رشتہ ہے
ان سے ہمارے ہمسایوں کا بھی رشتہ ہے
وہ بھی آدم و حوا کی اولاد ہیں
ہم دنیا سے انسانیت کی علم برداری کی اپیل کرتے ہیں۔
چلو آﺅ تم کو دکھائیں ہم جو بھی ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل وفا کے ہیں، یہ اہل صدق کی ہیں تربیتیں