افغانستان میں امریکی ناکامی

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے حالیہ انتخابات میں جو بھی رہنما کامیاب ہو گا اسے ملکی مسائل کے حل کیلئے مزید اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ اسے امریکہ، فوج اور افغان عوام کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی بھی ضرورت ہو گی۔ افغانستان میں ابھی بھی امریکہ کا اہم ہدف طالبان کو شکست دینا ہے۔

امریکہ جو عراق اور افغانستان فتح کرنے اپنے گھر سے نکلا تھا ، اسے برس ہا برس کے بعد احساس ہوا ہے کہ پیچھے اس کا اپنا گھر لٹ چکا ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر دفاع رمز فیلڈ نے فوج سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہمارے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ ہم اپنا انداز زندگی بدل لیں یا ان کا بدل دیں اور ہم نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے“۔  ”ان“ کی زندگیاں بدلنے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اب تک ریاست ہائے متحدہ امریکہ لگ بھگ 2 کھرب ڈالرز پھونک چکا ہے، پانچ ہزار کے قریب فوجی آگ میں جھونک چکا ہے۔ لیکن امریکہ  اب بھی اس جنگ کو جیتنے کا خواہشمند ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے کچے گھروں پر بیس ملین ڈالر کا پہلا میزائل مارتے ہوئے کبھی یہ نہ سوچا ہو گا کہ وہ اپنی تاریخ کی طویل ترین بے مقصد جنگ کا آغاز کرنے والا ہے۔ افغانستان کے پہاڑوں کو سرمہ بناتے ہوئے اس نے کبھی یہ نہ سوچا ہو گا کہ اسے ویت نام سے بھی زیادہ شرمناک شکست نصیب ہو گی۔ امریکی جنرل اسٹینلی میک کرسٹل کے مطابق یہ جنگ پندرہ سے بائیس سال کے عرصہ تک محیط ہو سکتی ہے۔ امریکی ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، افغانستان میں ناقص انتخابات، منشیات فروشوں کو کھلی چھٹی، بدعنوانی اور افغان عوام کا اپنی حکومت پر سے اعتبار کا اٹھ جانا، ایسے معاملات ہیں جن کا حل تلاش کئے بغیر افغانستان کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں امریکہ کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا کہ اس جنگ کو لڑا جائے یا کسی نئے 9/11 کو دعوت دی جائے۔ دوسری طرف امریکی دانشوروں اور تھنک ٹینکس میں یہ فارمولا بھی زیربحث ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف بے سود جنگ لڑنے کے بجائے ”کولڈوار“ شروع کی جائے۔

امریکی قیادت کو ایک بار پھر روس کے خلاف کامیابی سے ہمکنار ہونے والی حکمت عملی یعنی ”کولڈ وار“ دوبارہ شروع کرنے کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ حکمت عملی پہلے بھی کامیاب رہی تھی اور اب بھی کارگر ہے۔ 90 کی دہائی میں شروع کئے گئے جدید ترین امریکی جنگی سازوسامان اور جنگی حکمت عملی بھی ناکام ہوتی جا رہی ہے اور یہ طویل ترین جنگ شکست سے دوچار ہوتی جا رہی ہے اور اگر یہ حکمت عملی جاری رہی تو افواج کا مورال ختم ہو جائے گا۔

میرے خیال میں امریکنوں کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہئے جو جنرل پیٹرسن نے 2009 میں عراق جنگ سے متعلق پوچھا تھا کہ ”اس کا اختتام کیسے ہو گا؟“ بظاہر کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے کہ جنگ کیسے ختم ہو گی کہ امریکی محکمہ دفاع نے پہلی مرتبہ آئندہ سال کیلئے عراق کی جنگ سے زیادہ افغان جنگ کیلئے بجٹ مانگا ہے۔

ادھر تجزیہ نگاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کر رہی ہے۔ رچرڈ بروک کا کہنا ہے کہ القاعدہ ابھی بھی خطے میں موجود ہے اور امریکی سرزمین پر حملے و جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کیلئے سائنس دانوں سے ”راز“ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طالبان ان باتوں سے انکار  نہیں کرتے۔ طالبان کمانڈر قاری حسین احمد نے جرمن ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک طالبان اپنے رہنما ملا محمد عمر کی وفات کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ اس نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے پاس خودکش بمباروں کی ایک طویل فہرست ہے اور حکومت نے طالبان کے خلاف آئندہ آپریشن کیا تو اس کے جواب میں بھرپور خودکش حملے کئے جائیں گے۔
زمینی حقائق بھی یہ بتا رہے ہیں کہ امریکہ طویل عرصہ تک مخالف دہشت گردی یا افغان جنگ میں مصروف نہیں رہ سکتا۔ لیکن  نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل یاپ ڈی ہپ شیفر (صحیح تلفظ یہی ہے) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے یا کتنا بھی نقصان اٹھانا پڑے نیٹو یہاں سے نکلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے سابق پروفیسر یاپ نے مزید کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو کی افواج کو واپس بلانے کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ القاعدہ کو وہاں کھل کھیلنے کا موقع دے رہے ہیں۔ ا س مہم کو ادھورا چھوڑنے کے بارے میں اتحادی ملک سوچ بھی نہیں سکتے۔ یاپ نے یہ بیان ایسے موقع پر دیا ہے جب اتحادی فوجوں کے نقصان میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جولائی کا مہینہ امریکہ اور اتحادی افواج کیلئے قیامت صغرا ثابت ہوا تھا۔ مجموعی طور پر 2013 میں 68 اتحادی فوجی مارے گئے تھے۔  جبکہ اگست میں 28 اور نومبر میں 27 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق القاعدہ کے حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔

اس وقت امریکی اور نیٹو افواج  زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ وہ افغان قبائل اور کسی حد تک کم انتہاپسند یا دہشت گرد (ماڈریٹ) طالبان دھڑوں کے ساتھ بات چیت کر کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں پر کنٹرول قائم کر کے اسے خودمختاری دلانے کی کوشش کریں اور ملک کے حصے بخرے کرنے کی ”سازش“ کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھرپور ڈپلومیسی سرگرمیاں شروع کر کے چین، بھارت، روس اور ایران کے مفادات کو افغانستان سے جوڑ سکتی ہے تاکہ سب مل کر امریکی تعاون حاصل کریں اور ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس سے اس کا یہاں سے نکلنا آسان ہو جائے اور اس کی گرفت بھی برقرار رہے۔

کالم کے اختتام سے پہلے میں ”گریٹ گریٹ برٹن“ کے بارے میں رائٹر کی اطلاع سے روشناس کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔ برطانوی فوج کے سربراہ نے اس استدلال کے ساتھ کہ برطانیہ، افغانستان میں کسی طرح کی شکست کا متحمل نہیں ہو سکتا کہا ہے کہ برطانیہ کا مستقبل اور عالمی سطح پر اس کی حیثیت افغان جنگ پر منحصر ہو کر رہ گئی ہے۔  افغانستان میں فتح ہی مستقبل کا ایجنڈا طے کرے گی۔ یہاں میں برطانوی فوج کے سربراہ کو ایک بات یاد دلانا چاہتا ہوں کہ روس کو افغانستان سے نکال کر امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ تو جیت گئے لیکن امن ہار گئے۔

میں دشمن کی طرف داری کی خاطر
بسا اوقات خود سے بھی لڑتا ہوں