میرے لوگ مر رہے ہیں
- تحریر منور علی شاہد
- منگل 29 / مارچ / 2016
- 4857
27 مارچ اتوار کی شام ایک بار پھر لاہوریوں کو ایسے کرب اور دکھ سے دوچار کر گئی جس کی تلافی کبھی ممکن نہ ہو سکے گی اور اس بار جو زخم لگا ہے وہ بھی جلدمندمل ہونے والا نہیں ہے۔ پاکستان بھر میں عموماً اور شہدائے گلشن اقبال کے گھروں میں خصوصاً صف ماتم بچھی ہوئی ہے ہے۔لاہور کے درو دیوار ایک بار پھر اداس ہیں، گلیاں کوچے سوگوارا اور مارکیٹیں بند ہیں۔
کسے خبر تھی کہ اتوار کو رنگ برنگے کپڑوں میں ملوث پھول جیسے بچے بچیاں، سجی دھجی مائیں اور ہنستے مسکراتے باپوں اور بھائیوں کے چہروں کے ساتھ چھٹی منانے اور ایسٹر کی خوشی کو یادگار بنانے گھروں سے نکلے تھے، پھرکبھی گھر واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ ایک ایسا دھماکہ ہے جس نے پلک جپھکتے ہی پھول جیسے بچوں کو ماں کی ممتا سے محروم کردیا، ماں کو جگر گوشوں سے دور کردیا، بیٹے باپوں کی شفقت سے محروم ہو گئے اور باپ بیٹوں سے دور ہوگئے۔ خوشی و مسرت کے قہقہوں سے لبریز تفریحی پارک دیکھتے ہی دیکھتے مقتل گاہ میں بدل گیا اور ہر طرف چیخ و پکار اور انسانی سسکیوں، آہوں اور دم توڑتی سانسوں کے علاوہ کچھ باقی نہ رہا ۔ دنیا بھر کی آنکھیں یہی دیکھ رہی تھیں کہ انسانی گوشت کے ٹکرے اکٹھے کئے جا رہے ہیں جن کو بڑے بڑے تھیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ جو کچھ ہی دیر پہلے جیتے جاگتے انسان تھے۔
اس بار 67 ایکڑ پرپھیلے لاہور کے ایک بڑے تفریحی پارک گلشن اقبا ل میں انسانی خون کی ہولی کھیلی گئی جو شاعر مشرق کے نام سے منسوب ہے۔ اس خودکش دھماکہ میں72افراد شہید ہوئے ان میں عام مسلمان پاکستانیوں کے علاوہ اکثریت کا تعلق مسیحی کمیونٹی سے تھا جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں بیشتر کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔اداروں کی غفلت اور نااہلی دیکھئے کہ ایک بعد دوسرا دہشت گردی کا واقعہ ہورہا ہے لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی ہے کہ عوام کو تحفظ مل سکے۔ سکول، یونیورسٹیوں کے بعددہشت گرداب تفریحی پارکوں میں آ پہنچیں ہیں۔ گویا اب تفریح کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ یہ دہشت گردوں کی کامیابی اور حکومت وقت کی ناکامی ہے۔ پاکستان کے مامے گامے جو سمجھتے ہیں کہ صرف وہی پاکستان کو بچا سکتے ہیں ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ دشمن کے جن بچوں کو ہم پڑہاتے رہے ہیں وہ اب تفریحی پارکوں میں قوم کے بچوں کوسبق سکھانے پہنچ گئے ہیں۔ مذہب کی جو لاٹھی آئین میں دوسری ترمیم کے بعد مولویوں کے ہاتھ میں دی گئی تھی اس نے پہلے برچھی کی جگہ لی، پھر بندوق کی اور اب بم دھماکوں سے ہر طرف کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
پہلی اسلامی ایٹمی طاقت اپنے ہی پیدا کردہ مٹھی بھر عناصر کے آگے بے بس دکھائی دیتی ہے تکفیر و نفرت کا جو جن آئین کی کوکھ سے نکلا تھا اب پوری طرح جوان ہو کر آدم بو آدم بو کرتا اپنے ہی ملک کے شہریوں کو نگلنے میں مصروف ہے۔ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ اس کو روک سکے اس حادثے کو لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ کہا جاتا ہے، جس میں اس قدر بڑا جانی نقصان ہوا ہے۔ اس دھماکہ کے بعد آرمی چیف کی طرف سے جس طرح کی بھرپور کاروائی پنجاب کے اندر شروع کی گئی ہے اس سے یقیناً قوم کو بہت حد تک سکون اور اطمینان ملے گا اور قوی امید کی جاتی ہے کہ اس سے حقیقی معنوں میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹے گی۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ سب کچھ جمہوری اور عوامی حکومت کے ادارے کرتے جن کو عوام نے ووٹ دیئے تھے۔
ضیائی دور کے بعد سے پاکستان کے اندر ایک ریاست کا جمہوری تصور اور ڈھانچہ مکمل طور پر بدل چکا ہے جس کے نتیجہ میں حکومتیں مکمل طور پر جانبدار ہو چکی ہیں اور فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے عناصر، اداروں کی زوال پذیری کا سبب بن رہے ہیں جن میں سب سے پہلے پولیس کا نام لیا جا سکتا ہے۔ اب تک پنجاب کے اندر فوجی اپریشن کے دوران پولیس سمیت دیگر صوبائی اداروں کو الگ تھلگ رکھنا بہت معنی خیز بات ہے۔ اس سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ حکومت اور سیاسی جماعت کا فرقہ وارانہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ سال ہا سال سے ناجائز تعلقات رہے ہیں، جس کے بطن سے انسان کش اور تکفیری گروپ جنم لیتے رہے جو اب وبال جان بن چکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے پنجاب پر حکمرانی کرنے والی موجودہ حکومت وقت و حالات کی نزاکت کوسمجھنے میں ناکام ہے۔
اس نازک موقع پر صوبائی وزیرقانون کابیان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جس میں انہوں دھماکے کی مذمت کرنے کی بجائے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے یہ عجیب منطق پیش کی ہے کہ پہلے دھماکے ہر ماہ ہوتے تھے اب تو چھ ماہ بعد ہوا ہے ۔ یہ بات بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب میں فوجی اپریشن سے ملکی اندرونی صورتحال نے پہلی بار ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ اس کا اندازہ دھماکہ کی ذمہ دارری قبول کرنے والی تنظیم جماعت الاحرارکے ترجمان کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جس میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ جو کچھ کرسکتے ہیں کرلیں لیکن ہمیں روک نہیں سکیں گے۔ ہمارے خودکش حملہ آور اسی طرح کے دھماکے کرتے رہیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کا نشانہ عیسائی تھے ۔ یہ ایک بہت ہی سنگین اور غیر معمولی نوعیت کا پیغام ہے جو ریاست کے چیف ایگزیکٹیو کو دیا گیا ہے۔ وہ گھڑی آن پہنچی ہے کہ سب سیاسی جماعتیں ملکی مفاد میں ایک ساتھ مل بیٹھیں اور اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈیں۔
اس کے ساتھ ہی اس بات پربھی اتفاق پیداکرنا ہوگا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہی قومی مفاد میں ہوگا۔ ایک اور بات جو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک جو فوجی کاروائی کی جا رہی ہے اس کے مستقل ثمرات کے حصول کے لئے ریاستی اداروں کے اندر انتظامی معاملات پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیمی نصاب کو یکسر بدلنا ہوگا اور مذہبی عناصر اور جماعتوں کو پالیسی سازی سے دور رکھنا ہوگ۔ا اعتدال پسند سوچ کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ انتہا پسند سوچ اور ملائیت کی حوصلہ شکنی کرکے ہی وطن عزیز کو ترقی خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے اور مستقبل کو محفوظ کیا سکتا ہے۔