دہشت گردوں کی نفسیات

دو روز قبل لاہور میں اتوار کو گلشن اقبال میں خود کش حملہ آور نے خود کو ہلاک کرکے 73 سے زائد ہم وطنوں کو زندگیوں سے محروم کردیا۔ حملہ آور کی شناخت کے مطابق اس کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔ وہ لاہور کے ایک مدرسے میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں پر تعلیم دینے کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ دنیا بھر سے اس ظالمانہ دہشت گردی کی مذمت کی جارہی ہے، جس میں اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف جو امریکہ کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے،  نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس بزدلانہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔

اس حملے کے بعد ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے ’’اپنی سمجھ کے مطابق‘‘ تجزیے کرنے شروع کر دیئے اور اس کو بھارتی جاسوس کی اس گرفتاری سے جوڑنا شروع کر دیا جو چند روز قبل گرفتار ہوا تھا۔ یقیناً بھارت، پاکستان میں جاسوسی اور مداخلت کا اپنا ایک نیٹ ورک رکھتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ خودکش حملہ آور ایک ایسا شخص تھا جولاہور کے مدرسے میں پڑھا اور پھر وہیں پڑھا رہا تھا۔ کیا یہ بھارت کے جاسوس اداروں کی پیدا کردہ فصل ہے جو خود کو ہلاک کرکے اپنے ہی ہم وطنوں کو واصل جہنم اور خود کو جنت کا حق دار سمجھتی ہے؟ آخر یہ نفسیات کیا ہے کہ بے گناہ، غیر مسلح اور پُرامن شہریوں کو ہلاک کرکے اس کو کفر کے خلاف ہی  قدم  قرار دیا جائے بلکہ ایمان کے طور پر جانا جائے؟

لاہور کے شہر میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی مدرسے میں تعلیم دینے والا ایک ہم وطن اگر اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے کو مذہبی فریضہ سمجھتا ہے توہمیں اس نفسیات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے۔ یہ شخص اپنے طالب علموں کو بھی یقیناً وہی تعلیم دے رہا ہو گا جس پر چلتے ہوئے اس نے معصوم بچوں، عورتوں، مردوں، ہم وطنوں اور اپنے ہی مذہب پر یقین رکھنے والوں کو ہلاک کر ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ شخص ایسا پہلا شخص تھا یا آخری؟ یقیناً نہ یہ شخص پہلا تھا اورنہ ہی آخری، بلکہ اس طرح کی سوچ پر ایمان رکھنے والوں کی اب ہمارے سماج میں ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس نفسیات کے کئی دائرے ہیں۔ ایک وہ جو خود کو ہلاک کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، ایک وہ جو ان کی تربیت کرتے ہیں، ایک وہ جو اس فکر کو عام کرتے ہیں۔ ایک وہ جو اس فکر کی حمایت میں قلم و زبان استعمال کرتے ہیں۔ ایک دائرہ وہ بھی ہے جو عوام سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے اقدامات کے جواز تلاش کرتا ہے۔ اگر ان کو دائروں میں تقسیم کریں تو معاشرے کا ایک مناسب حصہ ان دائروں میں شامل نظر آئے گا۔ ایک ایسے ملک میں جس کے آئین کے مطابق اس ریاست کا مذہب اسلام ہے۔ ایک ایسی ریاست جس کے آئین میں طے ہے کہ ملک پاکستان میں کوئی قانون سازی قرآن کے منافی نہیں ہو سکتی۔ ایک ایسی ریاست میں ایسے لوگ کیوں جنم لے رہے ہیں جو خود کو ہلاک کرکے دوسروں کو دوزخ اور اپنے آپ کو جنت میں داخل کرنے پر ایمان رکھتے ہیں؟

معاملہ اتنا سادہ یا آسان نہیں کہ اس کو کسی فوجی آپریشن سے حل کر لیا جائے۔ کہیں گڑبڑ ضرور ہے۔ اس فکر میں یا ان نظریات میں جو لوگوں کو ہلاک کرنے کا درس دیتی ہے۔ دہشت گردی کی یہ ثقافت Culture of Violence ہمارے سماج میں روز بروز کمزور ہونے کی بجائے طاقت پکڑ رہی ہے۔ ریاستی ادارے اور سماجی حلقے اس ثقافت کے ہاتھوں آئے روز زخمی ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی اور موت پھیلانے کی یہ فکر سماج کی کئی سطحوں پر موجود ہے اور  کمزور نہیں ہو رہی۔ ہم مذہب کو کافر قرار دینے اورقتل کرنے کی فکر۔

اسلامی ریاست کے اندر خوف و ہراس، قتال اور دوسروں کو زندہ نہ رہنے کا حق دینے والے یہ لوگ کیوں اپنے آپ کو بھی نیست و نابود کر لیتے ہیں؟ وہ یہ کیسے یقین کر لیتے ہیں کہ ان کے قتال سے سماج اسلام کا گہوارہ بن جائے گا؟ ان کے اس یقین میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اپنی زندگی سے محبت کی بجائے اس کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ آخر یہ کیا معاملہ ہے! اس کو دشمن کی سازش اور بیرونی طاقتوں کا ہاتھ قرار دے کر اطمینان کر لینے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔ پاکستانی سماج کو ازسرنو اپنا سماجی، سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی تجزیہ کرکے ایسی فکر کو سامنے لانا ہو گا، جو دہشت گردی کی بجائے لوگوں کوتخلیق اور تعمیر کی فکر فراہم کر سکے۔

ہمارے ہاں خود کش حملہ آور اور اپنے ہم وطنوں کو ہلاک کرکے جنت حاصل کرنے والوں اور اُن کے سہولت کاروں کی فکر کا تجزیہ کرنا ہوگا وہ کس ’’علم‘‘ سے ’’بہرہ ور‘‘ ہو کر قتال کا بازار سجا دیتے ہیں۔