سنگین صورتحال اور اس کے تقاضے
- تحریر
- بدھ 30 / مارچ / 2016
- 4557
ملک میں گزشتہ دنوں چند ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ملک میں جاری خطرناک ترین صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے ۔پہلے بلوچستان سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کے ایک اہم جاسوس کی گرفتار ی کا واقعہ ہوا ۔ اس کے بعد اتوار کو سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر دینی تنظیموں کے ہزاروں افراد نے’’ بلا روک ٹوک‘‘ ریڈ زون میں واقع ایوان صدر کے سامنے ڈی چوک میں دھرنا شروع کر دیا۔
مظاہرین کی طرف سے املاک کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کے دو سٹیشنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اتور کی شام لاہور کے ایک پرہجوم گلشن اقبال پارک میں بہیمانہ خود کش حملے میں 70کے قریب معصوم شہری ہلاک ہو گئے جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی کچھ علاقوں میں موبائل فون سروس بند ہو گئی۔ اسی دوران اسلام آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان کچھ کشمکش کی خبریں بھی آئیں تاہم مظاہرین اب بھی آزادانہ طور پر ڈی چوک پر قابض ہیں۔
بلوچستان سے ’’را‘‘ کے ہندوستانی افسر کی گرفتاری بلاشبہ سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بھارت پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان کے خلاف فوجی جنگی مہم جوئی کے بجائے پاکستان کے اندر تباہ کن اور جان لیوا تخریبی کاروائیوں کی جنگ شروع کر چکا ہے۔ بھارتی حکومت نے بھارتی جاسوس کو اپنا آدمی تسلیم کرنے سے انکار تو کیا ہے لیکن شواہد کی بنیاد پر دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ بلوچستان سے گرفتار ہونے والا کلبھوشن ہندستانی ہے اور خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا افسر ہے۔ سرکاری ذرائع کی طرف سے عرصہ سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ’’ را‘‘ کے ملوث ہونے کا دعوی کیا جاتا رہا ہے لیکن اس حوالے سے کبھی واضح ثبوت سامنے نہیں لائے گئے ۔تاہم اب ’’را‘‘ کے ایک افسر کی گرفتاری اور تفتیش سے بے نقاب ہونے والے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں سے دنیا کے سامنے سے یہ سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف غیر روائیتی مسلح جنگ میں مصروف ہے۔
ایران کے صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر ایرانی حکام سے اس معاملے پر بھی بات کی گئی کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایران کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چاہ بہار میں پاکستان مخالف نیٹ ورک پر پاکستان کی طرف سے ایران کو قانونی مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کلبھوشن یادیو بلوچستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں تخریب کاری کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس کے مزید 13 ساتھیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھارتی ایجنٹ کے مقامی تخریب کار گروپوں سے رابطے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں تربیت حاصل کرنے والے 5 سو دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوگئے ہیں جو مسلمان بن کر ملک میں دہشتگردی، مذہبی فسادات پھیلانے اور دیگر ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں۔’ را ‘کا افسر پاکستان میں دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور فرقہ واریت کیلئے بہت بڑی مالیت میں فنڈنگ بھی کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی کی صورتحال کے بارے میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہمارا ہدف دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ انتہا پسندانہ سوچ کوشکست دینا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابی لازم ہے۔
دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق خفیہ ایجنسیاں، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گذشتہ رات سے لے کر اب تک کل پانچ آپریشنز کئے ہیں اور ان کارروایؤں میں بہت سے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود حاصل کیا گیا ہے ۔شہریوں کے خلاف لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری ’’بی بی سی‘‘ کے مطابق پاکستانی طالبان کے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار گروپ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عیسائیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، جو ایسٹر منا رہے تھے۔
یوں ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ چکا ہے۔ ملک میں معصوم شہریوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،پاکستان کی سا لمیت کو للکارہ جا رہا ہے لیکن دوسری طرف ملک میں انتہا پسندانہ سوچ و رجحانات کی بیج کنی کے کسی قسم کے کوئی اقدامات نظر نہیں آتے اور ساتھ ہی ملک میں سیاسی سازشوں کے جال بھی پھیلے نظر آتے ہیں ۔ہندوستان پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکا رہا ہے لیکن ملک میں دشمن کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے جنونیت اور جہالت کے خاتمے پر توجہ نہیں دی جار ہی جو ملک دشمن قوتوں کو آسان چارہ کار فراہم کرتے ہیں۔
آج ہی میں نے ایک سرکاری سکول کے ٹیچر سے پوچھا کہ کیا آپ کو ایسی کوئی ورکشاپ کرائی گئی ہے ،ایسا کوئی لیکچر یا ہدایت دی گئی ہے کہ سکول کے بچوں کو جنونیت اور انتہا پسندی سے بچنے کی تلقین کی جا سکے؟ لیکن اس ٹیچر نے مکمل انکار میں جواب دیا۔ ایک طرف مخصوص ذہنیت کے لوگ بچوں میں اسلام کے نام پر منفی رجحانات کو ہوا دیتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری و نجی سکولوں میں بچوں کو اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی تباہی اور بربادی کے ان عوامل سے ہوشیار نہیں کیاجاتا جو ملک اور اسلام کے لئے تباہی اور بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان میں جہالت اور جنونیت کو مغلوب کرنا پاکستان اور اس کے عوام کی بقا کے لئے ناگزیر ہے لیکن اب تک اس بارے میں اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔