سفر عمرہ کا احوال (2)

پہلے چار دن مکہ مکرمہ میں گزارنے کے بعد ہم مدینہ منورہ چلے گئے۔ اکثر زائرین عمرہ کے لئے مخصوص بسوں پر مکہ سے مدینہ منورہ جاتے ہیں جو ان کے عمرہ پیکج کا حصہ ہوتا ہے۔ پیکج میں جدہ ائر پورٹ سے مکہ آنے جانے، ہوٹل کی رہائش اور پھر مکہ سے مدینہ منورہ آنا جانا شامل ہوتا ہے ۔

عمرے کی بسوں کا مخصوص روٹ ہوتا ہے جسکی وجہ سے راستے میں شہدائے بدر جیسے تاریخی مقامات کی زیارت کا موقع نہیں ملتا۔ ان مقامات کی زیارتوں کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ مدینہ منورہ پہنچ کر خصوصی انتظامات ئیے جائیں لیکن اس صورت میں مدینہ منورہ سے دوبارہ نصف سفر طے کر کے واپس بدر آنا پڑتا ہے۔ دوسر طریقہ یہ ہے کہ ا دمی  پیکج دینے والی کمپنی سے بات چیت کر کے مکہ مکرمہ سے عمرے کی بسوں پر مدینہ منورہ جانے کے بجائے اپنے طور پر کار پر جائے تاکہ اپنے شیڈول کے مطابق سفر کر سکے۔ لیکن چونکہ پاسپورٹ پیکج کمپنی کے پاس ہوتے ہیں اس لئے کمپنی کو اعتماد میں لینا لازمی ہو جاتا ہے۔

سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کی وجہ سے سعودی حکومت نے زائرین پر نگرانی سخت کر دی ہے جس کی وجہ سے پاسپورٹ زائرین کو نہیں دئیے جاتے البتہ ہم نے بات چیت کر کے اس کا متبادل حل نکال لیا۔ یوں تو تحریک آزادی کشمیر سے ہمدردی رکھنے والے بے شمار لوگوں نے میرے ساتھ رابطے کئے اور ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی لیکن میرے سسرالی گاؤں اندرلہ کٹہڑا کے کچھ نوجوان مکہ کے ایک معروف علاقہ العزیزیہ میں رہائش پزیر تھے جنہوں نے ہماری رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کے سارے انتظامات کے لئے نوجوان مامور کر دئیے۔ وہ ہر نماز کے لئے ہمیں حرم شریف لے جاتے۔ ان کے تعاون کی وجہ سے ہم نے ہر روز طواف کیا۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کے لئے دو کاروں کا انتظام کیا گیا۔ العزیزیہ سے راجہ راشد، راجہ گلفراز، راجہ خالد، حافط محمود اور راجہ ساجد خان ہمارے ساتھ مدینہ منورہ گئے ۔ راجہ خالد ہماری معاونت کے لیے آٹھ دن ہمارے ساتھ مدینہ منورہ میں رہے جبکہ باقی تمام احباب ہمیں مدینہ میں ہوٹل پر چھوڑ کر واپس مکہ چلے گئے۔

جنگ بدر کی کہانیاں ہم بچپن سے ہی پڑھتے آ رہے ہیں۔ کتابوں میں لفظ بدر اور واقعہ بدر انسان کے اندر ہلچل پیدا کر دیتا ہے لیکن آج اس مقام پر جب ہم کھڑے ہوئے تو سکتہ سا طاری ہو گیا۔ شہدائے بدر کی قائم کردہ یادگار پر شہدائے بدر کی ایک لسٹ لگی ہوئی ہے۔ وہاں زائرین کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ پولیس چند منٹ سے زیادہ کسی کو ٹھہرنے نہیں دیتی۔ پولیس کی اکثر گاڑیوں میں صرف ایک افسر ہوتا ہے جو خود گاڑی چلا رہا ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے قانون سے کسی کو اتفاق ہو یا اختلاف لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قانون پر پورا عمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے گاڑی چلانے والا اکیلا افسر جوں ہی لاؤڈ سپیکر پر کوئی حکم جاری کرتا ہے تو عوام بلا چوں چراں عمل کرتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے مکہ اور مدنہ میں لاکھوں لوگوں کے ہجوم کو ہر گیٹ پر کھڑے دو افسر کنٹرول کر لیتے ہیں۔ 

بدر کے قبرستان میں قبریں سطع زمین سے بلند نہیں ہیں۔ قبرستان کی دیوار بندی کی گئی ہے ۔ دیوار کی اونچائی اتنی ہے کہ انسان اس کے ساتھ کھڑا ہو کر قبرستان کے اندر دیکھ سکتا ہے۔ ہم نے مقام بدر کی تصاویر بنائیں۔ ارد گردخوبصورت پہاڑوں پر نظر ڈالی تو یوں لگا جیسے وہ ہم سے باتیں کرنے لگے ہیں۔ بدر کے مقام پر ابھی کچھ کچے مکا نات موجود ہیں لیکن ان میں رہتا کوئی بھی نہیں۔ ہم نبی کریم کے دور کی جفا کشی ، فاقہ کشی اور عربوں کی آج کی آرام دہ زندگی کا موازنہ کرنے کی کوشش کرتے تو دماغ چکرا جاتا۔ اس وقت وسائل کی کمی کے باوجود ایمان کی قوت کی بنیاد پرتاریخی کامیابیاں حاصل کی گئیں مگر آج وسائل بے شمار مگر جذبے، ایمان، نصب العین، نظم و ضبط اور ہنر کے فقدان کی وجہ سے ناکامیاں مسلمانوں کا مقدر بن گئی ہیں۔

بدر کے مقام پر ایک خاص قسم کی مچھلی پکائی جاتی ہے۔ ہمیں مکہ سے مدینہ لے جانے والے ہمارے مہربانوں نے ہمارے لئے اس مچھلی کا خصوصی آرڈر دیا۔ کھانے کے بعد ہم بھاری قدموں سے مقام بدر سے رخصت ہوئے تو تھوڑے ہی فاصلے پر ایک مسجد تھی جہاں ہم نے شکرانے کے دو نفل ادا کئے۔ اس کے بعد ہم اپنی اپنی کاروں میں بیٹھ کر مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔ مجموعی طور پر ہماری کاروں کی رفتار ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ تھی جو سعودی عرب کی وسیع اور معیاری سڑکوں پر معمولی رفتار تصور کی جاتی ہے۔ راستے میں چھوٹی بڑی مساجد قائم ہیں۔ جوں ہی اذان ہوتی ہے اکثر گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ ہر سعودی مسافر کے پاس اپنا جاء نماز موجود ہوتا ہے۔ مسجد دور ہو تو مسافر جہاں ہوتا ہے وہاں ہی جاء نماز بچھا کر نماز ادا کر لیتا ہے۔ ہم سنا کرتے تھے کہ مدینہ منورہ کا موسم اپنی مثال آپ ہے اور ہم نے ایسا ہی محسوس کیا۔ ۔ جوں جوں ہم شہر مدینہ کی طرف بڑھتے گئے، موسم کی خوشگواری ہمیں تازگی بخشتی گئی جس سے اندازہ ہوتا کہ ہم واقعی کسی خاص مقام کی طرف جا رہے ہیں۔

مسجد نبوی کے مینار وں پر نظر پڑتے ہی آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم نے طے کیا ہوا تھا کہ مدینہ منورہ میں ہوٹل پر جانے سے پہلے ہم مسجد نبوی میں شکرانے کے دو نفل ادا کریں گے۔ ہمارے ایک دوست معروف مغل آف اندرلہ کٹہڑا کے بھائی محمد مقصود مسجد نبوی میں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ گزشتہ بیس سالوں سے مدینہ منورہ جیسے روحانی شہر میں رہ رہے ہیں۔ انہیں مدینہ منورہ سے بہت پیار ہے لیکن ہر غیر ملکی کی طرح سعودی عرب کے نظام کفالت سے سخت نالاں ہیں۔ یہ شکایت ہے تو جائز لیکن سردست اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ محمد مقصود کی مدد سے ہم نے پہلے ہی مرحلے میں روضہ رسول کی زیارت کر لی جس کے بعد ریاض الجنۃ جہاں رسول پاک بیٹھ کر خطبہ دیا کرتے تھے وہاں دو نفل ادا کئے۔

بھاری ہجوم کے باوجود کسی قسم کی بے ترتیبی اور بد نظمی نظر نہ آئی البتہ ایشیائی مسلمانوں کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ انہیں جی بھر کر حجر اسود اور روضہ رسول کے ساتھ لپٹنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ لیکن انہیں اتنا خیال نہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے باقی دینی بہن بھائی زیارت سے محروم رہ جائیں گے اور نہ ہی وہ یہ سوچتے ہیں کہ ایک جگہ رک جانے کی وجہ سے لوگوں کا دم گھٹ جائے گا۔ اس طرح کے کم علم اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ رکھنے والے لوگ نماز کے وقت بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ہر نماز کا ابھی نصف وقت باقی ہوتا ہے اور کچھ لوگ حجر اسود اور روضہ رسول کے نزدیک احاطے میں یہ سوچ کر اکھٹے ہو جاتے ہیں کہ وہاں انہیں نمازوں کا زیادہ ثواب ملے گا۔ لیکن اس سے باقی حاجیوں کے طواف اور زیارتوں میں کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں ا سکی انہیں کوئی پرواہ نہی ہوتیں۔

مکہ میں مرد و خواتین ایک ہی صف میں نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں البتہ توسیع مکمل ہو جانے پر شاید مکہ میں بھی مدینہ کی طرح مردوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ جگہ بنا دی جائے۔ مسجد نبوی میں مردوں اور عورتوں کے لئے نماز اور پینے کے پانی کے الگ الگ انتظامات ہیں۔
(جاری)