برطانوی بجٹ پر اختلاف ، وزیر کا استعفیٰ
پچھلے ہفتے برطانوی پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا گیا اور جس میں چانسلر نے کئی نئے ٹیکس متعارف کروائے ہیں لیکن متعدد کئی نئے منصوبوں کا اعلان بھی ہؤا ہے۔ ان منصوبوں میںً ہائی اسپیڈ ٹرین لائن شروع کرنے اور شمالی برطانیہ کے علاقوں کے لئے مزید ترقیاتی فنڈز کا اعلان شامل ہے۔
اس کے علاوہ چانسلر جارج اوسبورن نے ملک کے خسارہ کو کم کرنے کے لئے فلاحی وظیفہ اور معذور لوگوں کے بینیفٹ کو کم کر دیا ہے۔ بدھ کو بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت معذور لوگوں کے لئے مزید 1631بیلین پونڈ خرچ کرے گی۔ لیکن اس سے قبل یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت آئیندہ پانچ برس میں معذور لوگوں کے بینیفٹ میں 1634.4 بیلین پونڈ کمی کرکے بچت کریگی۔ لیکن حیرانی کی بات تھی کہ (Work and Pension) ورک اینڈ پینشن سکریٹری ائین ڈنکن اسمتھ نے چانسلر اوسبورن کے اس فیصلے سے ناراض ہو کر استعفیٰ دے دیا۔ پھر کیا تھا برطانیہ کے تمام اخبارات نے جہاں ورک اینڈ پینشن سکریٹری ائین ڈنکن اسمتھ کے اس قدم کو حیران کن بتایا تو واس کے ساتھ ہی خبر دی کہ وہ حکومت سے استعفیٰ دے کر برطانیہ کے یورپین یونین چھوڑنے کے لئے مہم چلائنگے۔ تاہم ائین ڈنکن اسمتھ نے ان باتوں کو بے بنیاد بتا تے ہوئے بی بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا یورپین یونین کے ریفرنڈم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کی بات کرنا میرے اصول کے خلاف ہے۔ میں نے یہ فیصلہ صرف معذور لوگوں کے بینیفٹ کی کٹوتی اور چانسلر کی ہٹ دھرمی کے خلاف کیا ہے۔
ائین ڈنکن اسمتھ نے اپنے استعفیٰ کے خط میں لکھا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ ملک کو خسارہ سے بچانے کے لئے بجٹ میں کٹوتی ضروری ہے اور حکومت میں رہ کرمیں نے اس کی حمایت کی ہے۔ ملک کی معیشت اور حالات کے پیش نظر میں نے بہت سارے معاملے میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن جب اس سال کے بجٹ میں معذوروں کے بینیفٹ میں کٹوتی کی گئی تو میں دل برداشتہ ہوگیا اور میرے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ائین ڈنکن اسمتھ کے اچانک استعفیٰ کو ایک مایوس اور حیران کن بات بتایا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ کو معذور بینیفٹ کی کٹوتی کے بارے میں پوری جانکاری تھی، پھر انہوں نے اچانک اس طرح استعفیٰ دیا جس سے میں حیران ہوں ۔ ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلہ سے قبل ائین ڈنکن اسمتھ، نمبر ٹین اور خزانہ کے درمیان بات چیت ہوچکی تھی اور اس کا اعلان بھی ہوچکا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی ہدایت دی ہے کہ حالیہ پالیسی کو لاگو نہ کیا جائے اور آنے والے دنوں میں ہم اس میں تبدیلی لا کر نیا اعلان کرینگے۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے ذاتی طور پر ائین ڈنکن اسمتھ سے اپنا استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی تھی اور انہیں منا نے کی بھی کوشش کی تھی۔ ایک ذرائع کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا تھا کہ ا یسے موقعہ پر استعفیٰ دینا ان کے اور ان کی پارٹی کے لئے ایک بہت بڑا دھچکہ ہو گا۔
ائین ڈنکن اسمتھ نے اپنے استعفیٰ کی وجہ چانسلر جارج اوسبو رن کی معذور لوگوں کی حالت سے لاعلمی بتا یا ہے اور ان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس بجٹ میں معذور لوگوں کے بینیفٹ کو اس طرح کاٹ رہے ہیں جیسے وہ سلامی گوشت کا ٹکڑا کاٹ رہے ہوں۔ ائین ڈنکن اسمتھ نے مزید کہا کہ معذور لوگوں کے بینیفٹ میں کٹوتی کے بعد میرے لئے ورک اینڈ پینشن سکریٹری کے عہدے پر فائز رہنا ممکن نہیں تھا۔ میں چانسلر کی بے رحمی کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے میں نے استعفیٰ دے دیا۔ تاہم ائین ڈنکن اسمتھ نے اپنے خطِ میں حکومت کی کارگردگی کی ستائش کی اور کہا کہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ ان کی پارٹی خسارہ کی کمی، تعلیمی اصلاحات اوراقدار کی منتقلی جیسے اقدام کوجاری رکھے گی، جن کی بنیاد پر ان کی پارٹی اقدار میں آئی ہے۔
ذرائع کہ مطابق ایسا سمجھا جارہا ہے کہ ائین ڈنکن اسمتھ نے استعفیٰ یورپ کے معاملے پر نہیں دیا بلکہ وہ اپنے چند ساتھیوں کے رویے سے ناراض ہیں۔ان کے ایک حمایتی ایم پی پیٹر بون نے ائین ڈنکن اسمتھ کے استعفیٰ کو ایک دلیرانہ قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ ایک اصول پرست انسان ہیں اور انہوں نے ورک اینڈ پینشن سکریٹری کا عہدہ اس لئے قبول کیا تھا کہ وہ سماجی انصاف پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ کنزر ویٹو پارٹی کے ایک اور ایم پی جیکب ریس موگ نے ائین ڈنکن اسمتھ کی حمایت میں کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ ایک اہم ویلفئیر سیکریٹری تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حکومت کے اس رویہ سے سخت مایوسی ہوئی ہے ۔
تاہم حزب اختلاف کی پارٹیوں نے ائین ڈنکن اسمتھ کے استعفیٰ کا خیر مقدم کیا ہے اور ساتھ ہی چانسلر جارج اوسبو رن کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ لیبر لیڈر جریمی کوبیرن نے کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ کے استعفیٰ سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ حکومت میں گڑ بڑ ہے اور چانسلر اوسبو رن میں ملک کی معیشت سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ چانسلر کی نااہلی اور لا عملی نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی نبھانے میں ناکام ہیں اور انہیں بھی ائین ڈنکن اسمتھ کی طرح استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نیکولا اسٹرجن نے کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ کا استعفیٰ محض معذور لوگوں کے بینیفٹ کی کٹوتی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی ناکامی ہے۔ لیبریل ڈیموکریٹ کے لیڈر ٹم فارون نے کہا کہ ائین ڈنکن اسمتھ کا استعفیٰ ایک جائز قدم ہے کیونکہ معذور لوگوں کے بینیفٹ کی کٹوتی ایک جابرانہ قدم ہے لیکن اس پورے معاملے کے ذمہ دار چانسلر اب بھی اپنے عہدے پر فائز ہیں جو کہ ملک کی معیشت کے لئے ایک خطرناک بات ہے۔
اکسٹھ سالہ ائین ڈنکن اسمتھ پہلی بار 1992میں چنگ فورڈ سے ایم پی چنے گئے تھے۔2001میں ولیم ہیگ کی شکست کے بعد ائین ڈنکن اسمتھ معروف ایم پی کین کلارک کو ہرا کر کنزرویٹوپارٹی کے لیڈر چنے گئے تھے۔2003میں زیادہ تر پارٹی کے ایم پی کو ائین ڈنکن اسمتھ کے لیڈر شپ سے مایوسی ہونے لگی تھی اور ان لوگوں نے ائین ڈنکن اسمتھ کے خلاف بغاوت کر کے انہیں پارٹی کے لیڈر شپ سے ہٹا دیا تھا۔
ائین ڈنکن اسمتھ کے استعفیٰ سے برطانیہ کے بیشتر لوگ دنگ رہ گئے ہیں۔ کیونکہ جب سے کنزر ویٹو پارٹی حکومت میں آئی ہے تب سے پسماندہ طبقہ اور حزب اختلاف پارٹیاں ایک ہی بات کہہ رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں برطانیہ میں حالات سخت ہوں گے۔ لیکن کنزرویٹو پارٹی یہ کہہ رہی تھی کہ ملک خسارے کے جال میں پھنسا ہوا ہے، اس سے نکلنے کے لئے سخت مالی قدم اٹھانا نہایت ضروری ہے۔
برطانیہ کی معیشت اور خسارے کو دیکھتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی کی خسارہ حکمت عملی قابل فہم ہے لیکن ائین ڈنکن اسمتھ کی یہ بات درست ہے کہ معذور لوگوں کے بجٹ میں کٹوتی برطانیہ کے سماجی انصاف اور اقدار پر حملہ ہے۔ برطانیہ اب بھی دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں فلاح و بہبود کے علاوہ صحت جیسی ضروریات تمام شہریوں کو مفت اوریکسان ظور سے فراہم کی جاتی ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں اگر بجٹ سے معذور اور غریب لوگوں کی زندگی تنگ ہوگی تو چانسلر اوسبورن کے اس سماجی نا انصافی بجٹ کی سخت مذمت کرنا ضروری ہوگا۔
یہ امید کرنی چاہئے کہ حکومت معذور اور غریب لوگوں کی حمایت کے لئے اپنا وعدہ اور برطانیہ کی اقدار قائم رکھے گی اور برطانیہ کے سماجی انصاف کی پالیسی کو مزید بہتر بنائے گی۔ اسی طرح برطانیہ دنیا کے سامنے بہتر مثال بن سکتا ہے۔