ماسکو میں گلشنِ اقبال کے شہیدوں کے چراغ

گلشنِ اقبال ، مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا باغ، علامہ اقبال ٹاؤن، اقبال لاہوری، 27مارچ کو اقبال اور جناح کے بچوں کی لاشوں سے پٹ گیا۔ ایک درندے نے ’’جنت کی نام نہاد کنجی‘‘ کے حصول کے لئے اپنے ہم مذہبوں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو بے رحمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔

لاہور جس کا دنیائے فارس میں تعارف ’’اقبال لاہوری‘‘ کے حوالے سے ہوتا ہے، اسی لاہور کی ایک نئی بستی علامہ اقبال ٹاؤن، ’’اقبال لاہوری‘‘ کے نام سے آباد ہوئی۔ اقبالؒ کے نام سے منسوب اس بستی میں ایک گلشن بھی اقبالؒ لاہوری کے نام سے قائم ہوا۔ میلہ چراغاں کے عروج پر جسے میلہ شالامار اور میلہ مادھو لعل حسینؒ بھی کہا جاتا ہے، ایک قاتل نے اس گلشن اقبال کو جہنم کا نظارہ بنانے کی کوشش کی۔ ’’جنت کی خاطر‘‘ دنیا کو جہنم بنانے والے اس درندے نے یہ سمجھ لیا کہ اقبال کا گلشن اس کی درندگی سے مٹ جائے گا، اقبال کا پاکستان۔ لیکن یہ ممکن نہیں ،اس لئے کہ اس روز اقبال کا لاہور ہی نہیں دنیا کا ہر شہر ’’گلشنِ اقبال‘‘ کے شہیدوں کے غم میں ڈوب گیا۔

میرے ای میل باکس میں ایک خط ماسکو سے آیا ہے جس نے میری نم آنکھوں کو مزید تر کر دیا، لیکن ایک نیا حوصلہ ملا کہ ابھی دنیا مری نہیں، ابھی بھی انسانیت طاقتور ہے۔ قوم، نسل، رنگ، فرقے، عقیدے اور سرحدوں سے بالاتر رشتہ انسانیت کا ہے۔ اس ایک ای میل کی طرح میرے ای میل باکس میں سینکڑوں ایسے خطوط محفوظ ہیں جو پاکستان میں کسی بھی شیطان گردی کے بعد موصول ہوئے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل سے لے کر پشاور میں سکول کے ننھے فرشتوں کے قتال تک۔ یہ خطوط دنیا کے ہر براعظم سے آئے۔ میرے میل باکس میں موجود یہ خطوط اس عالمی انسانیت کی تصدیق ہیں۔ یہ خطوط افغانستان میں سامراج کی یلغار، عراق، لیبیا، شام اور پاکستان میں شیطانی گروہوں کی کارروائیوں کے بعد پاکستان کے ساتھ ہمدردی، یکجہتی اور امن کے حوالے سے ہیں۔

27مارچ کو گلشن اقبال میں سانحے کے بعد ماسکو سے موصول ہونے والی ای میل آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جو ثبوت ہے اس بات کا کہ ابھی انسانیت مری نہیں، عالمی ضمیر زندہ ہے:

فرخ صاحب اور ریما صاحبہ،
تاخیر سے جواب دینے پر معذرت۔ میں ابھی تک لاہور میں اس ہولناک دہشت گرد حملے کی خبر پر صدمے کی کیفیت میں ہوں۔ معصوم لوگوں، خصوصاً بچوں کی موت اور ان کے خاندانوں کے اپنے پیاروں سے محروم ہونے کے دکھ پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے غم اور صدمے کے بیان کے لئے الفاظ ناکافی ہیں۔ میں ان تمام متاثرین اور ان کے پیاروں کے لیے دلی تعزیت پیش کرتی ہوں۔ جن لوگوں نے یہ بزدلانہ اقدام کیا، وہ انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں، حتیٰ کہ جنگلی درندے بھی اپنا ان سے موازنہ کرنے پر برہم ہوں گے۔ میرے عزیز لاہور کے اس دکھ میں اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی میں میرے تمام رفقائے کار اور دوست میرے ساتھ شامل ہیں۔ ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب فٹ پاتھ کا ایک حصہ ان پھولوں، شمعوں اور کھلونوں سے بھرا ہوا ہے جو پاکستان کے ساتھ غم میں شریک ہونے کے لئے ماسکو کے باسی لائے ہیں۔ اس افسوسناک وقت میں میرا دل پاکستانی دوستوں کے ساتھ شریک غم ہے۔
پُرخلوص جذبات کے ساتھ  لدمیلا

یہ پیغام روس کی عالمی شہرت یافتہ دانشور محترمہ لدمیلا ویسلیواہ کا ہے۔ اردو کی روسی ادیبہ، روس کی مشہورِ زمانہ ’’اورینٹل سٹڈیز آف ریشین اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی محقق، لدمیلا ماسکو یونیورسٹی میں اُردو ادب اور ریشین سٹیٹ یونیورسٹی میں Humanities کے مضامین کی استاد ہیں۔ اُردو کے عظیم شعراء غالب اور فیض احمد فیض کو روسی زبان میں ترجمہ کرکے روسی ادب کا حصہ بنانے کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہے۔ لدمیلا پاکستان کے عوام کی عالمی سفیر ہیں۔ اردو کے حوالے سے دنیا میں پاکستانیوں کے لئے خدمات ان کا سہرا ہے۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانیوں کے ادب کا پرچم لئے پھرتی ہیں۔ ایک روسی ادیبہ کے ہاتھوں میں پاکستان کا ادبی پرچم، ذرا تصور کریں۔ یہ سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ پہلے سوویت یونین تھا، اب روسی فیڈریشن ہے۔

اکتوبر 2015ء میں استنبول یونیورسٹی میں ان کے خطاب کو سننے کے لئے میں بے چین تھا کہ جہاں مجھے بھی اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ ترکی میں اردو تدریس کے سو سال پورے ہونے پر اس سمپوزیم میں ان سے اہم محقق اور کون ہو سکتا تھا۔ 23مئی 1942ء کو جنم لینے والی لدمیلا، ایک خوبصورت انسان ہیں۔ ان کے مقالے کا عنوان کچھ اس طرح تھا، روس میں اردو کے رابطے کہ روس میں اردو کیسے متعارف ہوئی، کیا تحقیقی مقالہ تھا۔ انہوں نے جب شیریں زبان میں اپنے خطاب کا آغاز کیا تو لگا پرانی دنیا واپس لوٹ آئی۔ جب انہوں نے اپنا مقالہ پڑھنے سے پہلے یہ کہا، ’’سوویت عوام کی طرف سے محبت کا پیغام‘‘ آہ وہ بے ساختہ کہہ گئیں، کیوں کہ وہ ان دنوں سے اس محبت کے پیغام کو اردو قارئین میں عام کر رہی ہیں جب اشتراکی روس قائم تھا اور سرمایہ دار دنیا بشمول پاکستان میں سوویت یونین کے عوام کی طرف سے محبت کا پیغام پہنچانا ایک مشکل کام تھا کہ ان دنوں انکل سام اور ’’اس کے بچے‘‘ ان ادیبوں کے محبت کے پیغام پڑھنے والوں پر کڑی نظریں ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ ان محبت بھرے پیغاموں کوہم تک پہنچنے ہی نہیں دیتے تھے۔ کتنے دلیر ہوتے ہیں، لدمیلا ویسلیواہ جیسے ادیب جو کڑے پہروں میں بھی محبت، امن، دوستی اور انسانیت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ یہ وہ دانشور ہیں، جس کے بارے فرانسیسی دانشور ژاں پال ساتخ (سارتر)نے کہا تھا کہ ’’دانشوروہ جو بحرانوں میں عملی طور پر شامل ہو کر اپنا کردار ادا کرے۔‘‘

لدمیلا نے لاہور کے لئے محبت کا پیغام صرف مجھ تک نہیں پہنچایا، بلکہ ماسکو کے دیگر شہریوں کے ساتھ مل کر، سفارتخانہ پاکستان کے باہر پھولوں اور چراغوں کا ڈھیر لگا دیا۔ میلہ چراغاں لاہور اور ماسکو میں ایک ساتھ۔ ماسکو کے شہریوں کے ان پھولوں، چراغوں اور جذبات کا میں ایک لاہوری ہونے کے ناتے، کن الفاظ میں شکریہ اداکروں کہ تم نے ہمارا خون بہنے پر اپنے آنسو بہا دیئے۔ ہمیں غم زدہ دیکھ کر خود غم میں ڈوب گئے۔ ماسکو اور لاہور کے درمیان محبت کے یہ رشتہ ان ادیبوں کا ہی مرہون منت ہے۔ گلشن اقبال کے شہیدوں کے لئے دنیا بھر کے شہریوں نے سوگ منایا۔

لدمیلا اور ماسکو آپ کا شکریہ! ہم قاتلوں کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے۔ جناحؒ اور اقبالؒ کا پاکستان۔ ایک گلشن، اقبال کا ہے اور وطن قائداعظم محمد علی جناح کا۔ اس گلشن اور وطن کو ہی جنت بنانا ہے۔ اسی دنیا کو جنت بنانے والوں کو ہی دوسری دنیا میں جنت ملے گی۔ لدمیلا اور ماسکو آپ کی محبت، درد اور شریک غم ہونے کا سارے گلشن اقبال اور وطن قائد کی طرف سے شکریہ۔