دیش بھگت و دیش دروہی کی بحث
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 04 / اپریل / 2016
- 5980
فی الوقت ہندوستان میں بڑے زور و شور سے نیشنلزم کی بحث جاری ہے۔ جو خاصی دلچسپ بنتی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جس کو دیش سے محبت ہے وہ "بھارت ماتا کی جئے"کا نعرہ لگائے گا اور جس کو دیش سے محبت نہیں وہ یہ نعرہ نہیں لگائے گا۔ باالفاظ دیگر جو دیش بھگت ہے اور نعرہ بھی لگاتا ہے تو مخصوص نعرے کی آڑ میں اس کا ہر عمل حلال تسلیم کیا جائے گا ۔ دوسری جانب جو یہ نعرہ نہیں لگاتا وہ دیش دروہی ہے ۔
ایسے لوگوں کے تمام اعمال ملک کے لیے مثبت ہونے کے باوجود ان کے کسی عمل پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن جن لوگوں نے نعرہ کو بطور ایشو اٹھایا تھا معلوم نہیں کیوں اور کیسے اچانک خود اپنے ہی بیان سے پلٹ گئے ۔یا یہ کہئے کہ اپنے بیان کی تشریح نئے انداز میں پیش کردی۔کہا کہ جمہوریت میں سب آزاد ہیں۔کسی کو کسی بھی مخصوص نعرہ لگانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔اس موقع پر ضروری تھا کہ مسلمانوں کے اکابر علماء کرام مسلمانوں کو اس نعرہ ،اور اس کی ادائیگی میں قباحت سے ،مدلل انداز میں سمجھاتے۔تاکہ اگر یہ سوال دوبارہ اٹھایا جائے یا نہ بھی اٹھایا جائے تب بھی مسلمانوں کو یہ معلوم ہوکہ یہ یا اس طرح کے دیگر نعروں کی ادائیگی میں قباحت کیا ہے؟اور وہ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟
غالباً انہیں حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے اکابر علماء کرام کا اتفاق ہے کہ ہمیں بحیثیت مسلمان یہ نعرہ نہیں لگانا چاہیے۔اعتراض کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ کہ بھارت ماتا کی جے پر اصرار اُسی وقت ممکن ہے جبکہ آئین میں اس کا ذکر ہو۔اور دوسری بات یہ کہ چونکہ بھارت ماں کی ایک تصویر اور مورتی بنائی جاتی ہے،جس کے آگے ہاتھ جوڑ کر یا اعتقاداً پوجا پاٹ بھی ہوتی ہے،اور آئندہ اس کے مزید امکانات ہیں،لہذا اس صورت میں یہ عمل ہمارے لئے نہ صرف ایک مشرکانہ فعل ہے بلکہ وحدانیت کے تصور میں شرک کی آمیزش کے مترادف ہے۔دونوں ہی صورتوں میں ہم اس نعرہ سے اتفاق نہیں کر سکتے۔ اس کے برعکس قومی ترانہ جن گن من سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پھر اگر ان دومسئلوں کو پس پشت ڈال دیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ آیا مسلمانوں نے ملک کے لئے ماضی میں کیا کچھ قربانیاں دی ہیں؟تو تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک ،اس کی آزادی اور اس کی سلامتی ،بقا اور تحفظ کے لئے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ لہذا نعرہ لگانے یا نہ لگانے سے کسی فرد ،گروہ یا قوم کی محبت اور نفرت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
دوسر ی جانب ریاست مہاراشٹر کے شہر پونا میں شنی شنگناپور مندرمیں خواتین کے داخلہ پر طویل مدت سے شور برپا ہے۔ترپتی دیسائی نامی خاتون اور ان کی دیگر خواتین ساتھیوں نے ایک طویل عرصہ سے جدوجہد جاری کی ہوئی ہے۔اور ان خواتین کی طویل جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے کہ آخر کار ممبئی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ مندر میں تمام خواتین کو جانے کی اجازت ہے۔اور کورٹ کے فیصلہ کو روبہ عمل لانے کے لئے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ فڈ نویس نے بھی کہا ہے کہ نہ صرف شنی شنگنا پور مندر میں بلکہ ریاست کے تمام مندروں میں خواتین کو جانے اور وہاں پوجا پاٹ کرنے کی اجازت ملے گی۔اس سب کے باوجود جب خواتین مندر میں پوجا پاٹ کرنے کے لئے مندر میں داخل ہو رہی تھیں تو مقامی لوگوں نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں، ہنگامہ کیا اور اس عمل کی مخالفت کی۔لہذا پولیس نے ترپتی دیسائی اور ان کی 26خواتین ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ایشور،بھگوان،یا خدا کی عبادت جو ایک انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے،اس میں یہ تفریق کہ مرد پوجا کرسکتے ہیں اور عورتیں نہیں۔یہ کس حد تک صحیح ہے؟اسی دوران گزشتہ دنوں شہر ممبئی کے ساحلی علاقہ میں حاجی علی نامی درگاہ پر بھی خواتین کو جانے اور وہاں پوجاپاٹ کرنے کی آواز،مسلم خواتین کی جانب سے اٹھی تھی۔اور اس وقت ان دونوں "عبادت گاہوں"میں خواتین پر بابندی کیوں ہے، کا سوال سامنے آیا تھا۔لیکن یہاں اور وہاں میں دلچسپ اور واضح فرق غالباًیہی ہے کہ درگاہوں اور قبروں پر جانا،دعائیں کرنا،منتیں مانگنا،یہ تمام اعمال اسلام میں عبادت کے زمرے میں نہیںآتے ۔برخلاف اس کے مورتی پوجا ،اس کے آگے ہاتھ جوڑکر خاص انداز میں اشلوک پڑھنا ،ہندو مذہب یا کلچر میں عبادت سمجھاجاتا ہے۔اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ بندے اور بھگوان کا رشتہ استوار ہوتا ہے۔اسلام میں درگاہوں پر جانے سے بندے اور اس کے خدا کا رشتہ استوار نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے عبادت کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
تیسری جانب ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔
برسراقتدار ریاستی حکومتیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کوشاں ہیں تو وہیں حزب اختلاف کی پارٹیاں موجودہ حکومتوں کی بدنظمیاں اور وعدہ خلافیوں کو عوام کے سامنے لانے میں پیش پیش ہیں۔ساتھ ہی یہ بتایا جارہا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں توریاست کو مزید کیسے بہتر بنائیں گے اورمتعلقہ حلقہ میں بے روزگاری،غربت،تعلیم ،صحت ودیگر مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ پانچ ریاستیں ،آسام،مغربی بنگال،کیرلہ،تمل ناڈو اور پانڈیچری،جہاں اسمبلی الیکشن ہونے والے ہیں ان میں مغربی بنگال اور آسام کی ریاستوں میں 4؍اپریل کو پہلے مرحلہ کا الیکشن ہونا ہے۔اور ان دونوں ہی ریاستوں کی خصوصیت یہ ہے کہ مسلم آبادی کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاستیں ہیں۔آسام میں34.2%فیصدمسلمان آبادہیں تومغربی بنگال میں27.1%فیصد۔مغربی بنگال میں تین ڈسٹرکٹ،مرشد آباد،مالدہ،اتردیناجپورایسے ہیں جہاں بالترتیب70.2%،51.27%اور50.92%فیصد مسلمان آباد ہیں ۔ ساؤتھ 24پرگنا،نارتھ 24پرگنا،نادیہ،بیر بھوم،ہاؤڑا،کوچ بہار،وہ ڈسٹرکٹس میں مسلمانوں کی آبادی 25سے35فیصد کے درمیان ہے۔اگر ریاست آسام کی بات کی جائے تو ڈھوبری میں 79.67%،بیرپیٹا میں 70.74%فیصد ،دھررنگ میں 64.34%فیصد مسلمان آباد ہیں۔ بون گے گاؤں،گول پاڑہ،ہیلا کنڈی،کریم گنج،موری گاؤں،ناگاؤں،وہ ڈسٹرکٹس میں مسلمانوں کی آبادی 50سے60فیصد کے درمیان ہے ۔اس کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی وہ دوریاستیں ہیں جہاں مسلمانوں کی معاشی و معاشرتی صورتحال حد درجہ مسائل سے دوچار ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کی روشنی میں یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت تشکیل دے گی۔ ترنمول کانگریس کو 160سیٹوں پر سب سے آگے دکھایا گیا ہے۔ آسام کے جائزے میں میں بی جے پی کو کہیں آگے تو کہیں پیچھے دکھایا جا رہا ہے۔نیوز نیشن نے کانگریس کو 54-58،بی جے پی کو 50-54،اے آئی یو ڈی ایف کو 13-17اور دیگر کو 2-4سیٹیوں پر کامیاب دکھایا ہے۔ ٹائمس ناؤ سی ووٹر نے کانگریس کو 53، بی جے پی اور ان کے حلیف کو 55،اے آئی یو ڈی ایف کو 12اور دیگر کو 0سے 2سیٹوں پرکامیاب دکھایا ہے۔دیگر جائزوں نے بھی اسی کے آس پاس نتائج کی پیش گوئی کی ہے ۔
ریاست آسام کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بدرالدین اجمل کی اے آئی یو ڈی ایف اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جموں کشمیر کی طرح آسام میں بھی کانگریس کے بعد دوسرے نمبر پر کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی بی جے پی کی حمایت سے حکومت تشکیل دے۔اور اس کا امکان اس لئے زیادہ ہے کہ مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے تعاون سے جب کبھی بھی ریاست میں حکومت تشکیل دی جاتی ہے تووہ تمام سہولیات باآسانی حاصل ہو جاتی ہیں،جو کسی بھی دیگر سیاسی پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے میں حاصل نہیں ہوتیں۔
مغربی بنگال و آسام دونوں ہی ریاستوں میں 4؍اپریل کو پہلے مرحلہ کا الیکشن ہونا ہے۔ آسام میں کل 126سیٹوں میں سے 65؍سیٹوں پر تو مغربی بنگال میں کل 240سیٹوں میں سے 18سیٹوں پرووٹنگ ہوگی ۔دیکھنا یہ ہے کہ 19؍مئی 2016کو آنے والے نتائج ملک اور ریاست کی کیا تصویر پیش کرتے ہیں۔ شایدیہی وہ نتائج ہوں گے جن کے نتیجے میں دیش بھگت اور دیش دِروہی کی بحث پھر سے شروع ہو سکتی ہے۔