اعلیٰ اقدار، سماجی سائنس کا حصہ ہیں
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 05 / اپریل / 2016
- 7581
پست،گھٹیا اور جاہل قسم کے لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے ان کی موافقت میں بات کہی ہے یا ان کی مخالفت میں۔ جبکہ وہ موافق کو دوست گردانتے اور نوازتے ہیں اور مخالفت کے دشمن بن جاتے ہیں مگر بلند حوصلہ اور عالی ظرف لوگ موافقت اور مخالفت کی پروا کئے بغیر اپنا مدعا ظاہر کر دیتے ہیں۔ وہ اختلاف اور موافقت سے اوپر اٹھ کر سوچتے ہیں، وہ اصل بات کو دیکھتے ہیں نہ کہ یہ کہ جو کہا گیاہے وہ ان کے موافق ہے یا ان کے خلاف۔ اور جسے کہا گیا ہے وہ صاحب اقتدار ہے یا محض مجبور و مقہور۔ اس بات یا قدرکو عالی ظرفی و حسن کردار کہتے ہیں۔ آج جب کہ اقدار کا نہیں اقتدار کا دور ہے آیئے آپ کو ان مٹتی ہوئی اقدار کی چند مثالوں سے روشناس کراﺅں۔
یہ واقعہ دور عباسیہ کا ہے۔ خلیفہ منصور عباسی نے ایک روز شام کے اعراب کی ایک جماعت کے سامنے تقریر کی۔ اس نے کہا کہ اے لوگو! تم کو چاہئے کہ تم میرے جیسے خلیفہ کے ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرو کہ جب سے میں خلیفہ بنا ہوں اللہ نے تم سے طاعون دور کر دیا ہے۔ اس کے بعد سننے والوں میں سے ایک نے کہا کہ اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ ایک وقت میں ہمارے اوپر طاعون اور منصور دونوں کو جمع کر دے۔ اعرابی کا یہ جملہ سخت توہین آمیز تھا، عام طریقہ کے مطابق چاہئے تھا کہ خلیفہ منصور بن عباسی اس کو سن کر بھڑک اٹھے اور مذکورہ شخص کے قتل کا حکم دے دے۔ مگر خلیفہ منصور نہایت بلند حوصلہ آدمی تھا۔ اس سے اعرابی کے جملہ میں گستاخی کا پہلو دیکھنے کے بجائے جرات اور ذہانت کے پہلو کو دیکھا، اس نے اس کی قدر کی اور حکم دیا کہ اس شخص کو خزانہ خاص سے انعام دیا جائے اور اس کو عزت کے ساتھ رخصت کیا جائے۔
دوسری مثال۔ فوج کاایک افسر اعلیٰ کسی رجمنٹ کا معائنہ کررہا تھا۔ گھومتے گھومتے وہ ایک لیفٹیننٹ کے پاس پہنچا۔ دوران معائنہ اس نے دیکھا کہ اس کی وردی میں ایک بڑا نقص ہے۔ افسر نے لفٹین کو سختی سے ڈانٹا۔ قریب تھا کہ منہ سے جھاگ اڑاتا افسر اعلیٰ کچھ اور کہتا کہ نوجوان لفٹین جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس نے پستول نکالا اور افسر پر فائر کرنا چاہا لیکن پستول نہ چلا۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے افسر نے اسی وقت حکم دیا کہ لیفٹیننٹ کو ایک ہفتے تک کوارٹرگارڈ میں رکھا جائے کہ اس کا پستول صحیح حالت میں نہ تھا۔
ایک اور واقعہ سنئے۔ پنڈت جواہر لال نہرو جب بھارت کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے پولیس کے ایک افسر اعلیٰ سے کہا کہ انگریزوں کے دور میں ان کے خلاف جو فائل تیار کی گئی تھی وہ انہیں دکھائی جائے۔ کافی دنوں کے بعد جب پولیس کے افسر نے پنڈت نہرو کے حکم کی تعمیل نہ کی تو انہوں نے دوبارہ اس پولیس آفیسر کو طلب کیا۔ ” تم نے کوئی وعدہ کیا تھا۔ اس کا کیا ہوا؟“ پنڈت جی نے کہا۔ ” جناب ہم وہ فائل تلاش کر رہے ہیں“ افسر نے جواب دیا۔ وزیراعظم جواہر لال نہرو نے ذرا تلخی سے پوچھا۔ ” آخر وہ فائل کہاں چلی گئی، مل کیوں نہیں رہی؟“ آفیسر نے جواب دیا۔ ” پولیس کی فائلیں سیاسی لوگوں کے خلاف ہوتی ہیں اور خلاف ہی رہتی ہیں۔ لوگ نیچے چلے جاتے ہیں تو فائلیں اوپر آ جاتی ہیں اور جب لوگ اوپر آ جاتے ہیں تو فائلیں نیچے چلی جاتی ہیں“۔ پنڈت نہرو مسکرا کر رہ گئے۔
مندرجہ بالا واقعات گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام دیکھنے پر مجھے یاد آئے۔ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اس ٹی وی پروگرام میں اعتراف کیا کہ ایم آئی فائیو نے ان کی گزشتہ سرگرمیوں کے بارے میں ایک فائل بنا رکھی تھی۔ اسی حوالے سے پروگرام میں بتایاگیا کہ 1970کے عشرے میں جیک سٹرا کو سیاسی تخریب کار سمجھا جاتا تھا، اس وقت وہ نیشنل اسٹوڈنٹس کے صدر تھے مگر... اس وقت جبکہ وہ وزیر خارجہ کے عہدے اور ایک بااختیار عہدہ پر فائز تھے انہوں نے واضح کر دیا ... کہ وہ اپنے دور گزشتہ کی فائلیں نہیں دیکھنا چاہتے کہ ایسا کرنا بطور خارجہ سیکریٹری اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھانا ہے۔ انہوں نے انٹرویو میں بتایا کہ جیسا ایک عام شہری کو اس کا حق حاصل نہیں ہے، ویسا ہی انہیں بھی اس فائل کو دیکھنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے تھے، سفید کپڑوں میں پولیس ان کا پیچھا کرتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ ان سب باتوں کے جواب میں خارجہ سیکریٹری کا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی ہی برطانوی معاشرہ کی اعلیٰ اقدار کا پتہ دیتی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک منفی اوردوسرا مثبت۔ منفی پہلو آدمی کے اندر صرف تخریبی نفسیات کو جگاتا ہے اور مثبت پہلو اس کے اندر تعمیری نفسیات کو جگا کر اس کو اس قابل بناتاہے کہ وہ اپنے لئے بھی کارآمد بن سکے اور دوسروں کے لئے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بڑا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو واقعات کے مثبت پہلو کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہی نہیں کہ بس اپنا حساب دینا ہے
میرے دکھوں کا بھی تجھ کو جواب دینا ہے