بھٹو کے حوالے سے چند حقائق

ذوالفقار علی بھٹو نے 21دسمبر 1971ء کو اس وقت پاکستان کا اقتدار سنبھالا جب پاکستان کا مشرقی حصہ (مشرقی پاکستان) علیحدہ ہوچکا تھا، اقتدار فوجی آمریت کے تحت جنرل یحییٰ کے پاس تھا، پاکستان ایک آئینی ریاست تھی اور پاکستان کا نظام مارشل لاء تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی ذات سے نفرت کرنے والے عناصر ان پر اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے۔ یہ ایک غیر منطقی اور سیاسی حقائق کو مسخ کرنے کی تعصب بھری تہمت ہے۔ جب انہوں نے اقتدار سنبھالا، پاکستان کا نام نہاد آئین مارشل لاء تھا، انتقالِ اقتدار ایک فوجی حکومت سے ہوا، اسی لیے وہ ملک کے صدر بنے اور ساتھ ہی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی۔ اقتدار کے وقت منتخب اسمبلی جو 1970ء کے انتخاب کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی تھی، وہ ایک آئین ساز اسمبلی تھی، اسی لیے اس Transition عبوری مدت میں  کوئی اور راستہ تھا ہی نہیں۔ اگست 1973ء تک وہ عبوری آئین کے تحتہی  صدر رہے۔

قارئین کو دوبارہ یاد کرانے کے لیے عرض ہے کہ اقتدار میں آنے کے صرف دس روز بعد انہوں نے ایک اہم ادارے کی سربراہی اپنے ہاتھوں میں لے لی، یعنی ایٹمی توانائی کمیشن۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پاکستانی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے خلوص کی کس انتہا پر تھے۔ لیکن آج ان کی برسی کے موقع پر میں قارئین کے لیے چند ایسی معلومات شیئر کروں گا جو ان کی ذات سے متعلق ہیں اور جن کا میں ازخود گواہ ہوں۔
ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ میں ایک ایسے مقدمے میں شامل کیا گیا جس پر پہلے  انکوائری کمیشن رپورٹ دے چکا تھا۔ یہ انکوائری کمیشن پاکستان کی عدالتی تاریخ کے نامور اور شفاف شہرت رکھنے والے جج، جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں قائم ہوا، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے اس مقدمے سے خارج کر دیا گیا تھا۔ جسٹس شفیع الرحمن جن دنوں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے جج تھے (جنرل ضیا کے دور میں) انہی دنوں میرے شدید اصرار پر میرے ہاں وہ اپنی بیٹی کو لینے آئے جو میری بہن کی بہترین دوست اور کلاس فیلو تھیں۔ میرے اصرار پر کہ کیا بھٹو نے احمد رضا قصوری کے والد کو قتل کروایا، کیا مقدمہ اور اس کی کارروائی شفاف تھی، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں۔ حتیٰ کہ مقدمہ میں پیش کیے دلائل کی روشنی میں بھی بھٹو کو کسی قسم کا سزا وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود کے سلطانی گواہ بننے پر بڑا ملزم قرار دے کر تختہ دار پر چڑھایا گیا۔ مسعود محمود، بھٹو کی سزائے موت  کے بعد امریکہ چلے گئے، جہاں وہ میرے ایک دوست کے ساتھ شام کو ایک کافی ہاؤس میں اکٹھے ہوتے تھے۔ میرے دوست بابر خاں (ذوالفقار علی بھٹو کے حامی نہیں مخالف ہیں) سے مسعود محمود نے اپنا تعارف مسعود شیخ کے طور پر کروا رکھا تھا۔ یعنی اپنا اصلی تعارف نہیں کرایا تھا۔ میرے دوست بابر خان مہینوں کی محفل کے بعد اس شخص کی گفتگو سے اندازہ کر گئے کہ یہ مسعود محمود ہیں۔ ایک دن مسعود محمود نے بابر خان کو کہا، کیا آپ جانتے ہیں میں کون ہوں ؟ بابر خان نے جواب دیا، ہاں۔ مسعود محمود چونکے اور انہوں نے حیرانی سے پوچھا آپ کو کس نے بتایا میرے بارے میں؟ بابر خان نے جواب دیا آپ کی باتوں سے میں اندازہ کر لیا تھا کہ آپ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ والے مسعود محمود ہیں، جن کی سلطانی گواہی پر سابق وزیراعظم کو سزائے موت ہوئی۔ تو اس بات پر مسعود محمود جو پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، بشمول ایف ایس ایف، انہوں نے کہا تو سنیں میں آج آپ کو بتاتا ہوں ایک راز کی بات، ’’میں سی آئی اے کے پے رول پر تھا۔‘‘

اردن میں اقوامِ متحدہ کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ایک لیڈر شپ پروگرام میں چھے ہفتوں کے دوران میری ایک ساتھی فلسطین سے تعلق رکھتی تھیں جس کے بارے میں مجھے صرف یہ علم تھا کہ ان کا نام حنان الوزیر ہے۔ دو ہفتوں کے بعد میرے اسرائیل مخالف رویے اور فلسطین کے شدید حامی کے طور پر اور قریب ہو گئیں۔ حنان الوزیر نے مجھے کہا، فرخ سہیل گوئندی آج رات آپ میرے کافی پر مہمان ہیں، میں آپ سے ایک بات شیئر کرنا چاہتی ہوں، صرف آپ ہوں گے اپنے کسی دوست کو نہ آنے دیں کافی کے موقع پر۔ حنان الوزیر نہایت خوبصورت، دھیمے مزاج اور درمیانی عمر کی مدبر خاتون تھیں۔ کافی ہاؤس میں بیٹھتے ساتھ حنان الوزیر نے اپنا تعارف پوچھا، آپ مجھے جانتے ہیں میں کون ہوں؟ میں نے کہا ہاں! آپ فلسطین سے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، مزید کچھ؟ میں نے کہا، میرے لیے یہی کافی تعارف ہے کہ آپ فلسطین قبلۂ اول کی سرزمین سے ہیں۔ حنان الوزیر نے کہا، میں خلیل ابراہیم الوزیر ابو جہاد کی بیٹی ہوں۔ اوہ آپ الفتح کے بانی اور فلسطینی جدوجہد آزادی کی بیٹی ہیں۔ میرے کان سرخ ہوگئے اور دل خوشی سے تیز دھڑکنے لگا۔ حنان الوزیر نے کہا، سنیں مسٹر گوئندی میری بات سنیں۔ میں آپ کو ایک اہم بات شیئر کرنا چاہتی ہوں کہ آپ ذوالفقار علی بھٹو کے حامی اور مداح لگتے ہیں۔ اس ذوالفقار علی بھٹو کے جس نے فروری 1974ء کو لاہور میں اسلامی کانفرنس میں پی ایل او کو پہلی دفعہ دنیا میں ایک ریاست اور اس کے سربراہ یاسر عرفات کا ہیڈ آف سٹیٹ کے سرکاری اعزاز کے ساتھ استقبال کیا اور یوں ہمارا آزادی کا مقدمہ عالمی سطح پر مضبوط ہو گیا۔ میں آپ کو ایک راز کی بات بتانا چاہتی ہوں۔ ہمارے فلسطینی کمانڈوز نے اس ذوالفقار علی بھٹو کو جیل سے آزاد کرانے کا مکمل منصوبہ بنا لیا تھا، جس نے اس اسلامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کہا تھا کہ ہم بیت المقدس میں ایک فاتح کے طور پر داخل ہوں گے۔ افسوس فلسطینی کمانڈوز کا یہ منصوبہ جنرل ضیا کو اس کے ’’بڑوں‘‘ نے تلاش کرکے پہنچا دیا جن کی سرپرستی میں وہ پاکستان پر عذاب ڈھا رہا تھا اور اس منصوبے کی بھنک پر سی آئی اے جس کا ان دنوں دنیا میں سب سے بڑا مرکز اسلام آباد تھا، کے کہنے پر ہمارے اسلام آباد میں متعین سفیر کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

جن دنوں ذوالفقار علی بھٹو کوسپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی سزا برقراررکھنے کا تقسیم شدہ فیصلہ سنایا اور ذوالفقار علی بھٹونے جنرل ضیاالحق سے اپنی زندگی کے لیے رحم کی اپیل نہ کرکے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے الفاظ کی حرمت جانتا ہے، ان دنوں ترکی کے وزیراعظم بلندایجوت تھے انہوں نے جنرل ضیاالحق کو ایک رحم کی اپیل بھیجی جو پاکستان کے دفتر خارجہ میں محفوظ ہے اور میرے پاس بھی اس کی نقل موجود ہے۔ یہ بلندایجوت بعد میں (1983ء سے) میرے دوست بن گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی اور جان بخشی کے لیے ہر وہ کوشش کی جو ممکن تھی اور جنرل ضیاالحق کو یہ بھی پیغام بھیجا کہ میں ذوالفقار علی بھٹو کو ترکی لے آتا ہوں، وہ دس سال یہاں رہیں گے اور ہر قسم کی سیاسی سرگرمی سے دور رہیں گے۔ لیکن جنرل ضیا نے میری تمام کوششوں اور پیشکشوں کو مسترد کر دیا تو میں نے ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے کو جاننے کے لیے اردن کے شاہ حسین اور سعودی عرب کے شاہ خالد سے سفارتی رابطے شروع کر دیئے، تب مجھے اندازہ ہوا کہ امریکہ ذوالفقار علی بھٹو کو کسی قسمت پر زندہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں کہ  ان دونوں رہنماؤں کو بھی میں نے بے بس پایا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سازش کو جاننے کے لیے ایک گواہ آج بھی زندہ ہیں جنہوں نے میرے کہنے پر عدالت عظمیٰ میں چند سال قبل ایک affidavit جمع کروایا جس میں ایم انور بار ایٹ لاء جو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے میں استغاثہ تھے، امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد مرحوم، مولوی مشتاق حسین اور جنرل ضیاالحق کا Axis ثابت ہے۔ یہ عدالت عظمیٰ کے ریکارڈ میں موجود ہے اور اگر آپ مزید تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو ایک معروف صحافی اور آج کل کے تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی سے بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر میاں محمد عباس، انسپکٹر غلام مصطفی، سب انسپکٹر ارشد اقبال اور سب انسپکٹر افتخار احمد کہ جن کوصرف اس لیے سزائے موت سنائی گئی کہ ان کی سزائے موت سنائے جانے سے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ہی قابل سزا قرار دیا جا سکتا تھا۔ ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ایک کو سزائے موت تو سنائی جائے گی لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیئے جانے کے بعد آپ کی رحم کی اپیلیں منظور کر لی جائیں گی۔ اس معاہدے میں امیر جماعت اسلامی جناب میاں طفیل نے جو ’’کردار‘‘ ادا کیا اس کے گواہ  عابد حسن منٹو ابھی حیات ہیں اور مجیب الرحمن شامی ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے جنرل ضیاالحق کو فون کرکے یہ مشورہ دیا کہ آپ اگر ان چاروں کو موت کے گھاٹ نہیں اتاریں گے تو بھٹو کی پھانسیLegitimize نہیں ہو گی۔

اب قارئین اب آپ خود فیصلہ کریں کہ بقول ابوالکلام آزاد، دنیا کی بڑی ناانصافیاں میدانِ جنگ کے بعد ایسی عدالتوں میں ہی ہوتی ہیں اور ایسے سرکاری حواری ہی ہر اول دستہ بنتے ہیں ان مجرمانہ کارروائیوں کے ۔