عرش معلی کے مہمان حضرت محمد مصطفی ﷺ
- تحریر علامہ عبدالحق مجاہد
- جمعرات 07 / اپریل / 2016
- 29062
اسلامی مہنیہ رجب کی آ مد سے عرش معلی کے معزز مہمان سیدہ آمنہ کے در یتیم رحمۃ اللعلمین شفیع المذنبین ﷺکے اس خیرو برکت سے معمور سفر کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جو آپ کے معجزات میں سے ایک انوکھا معجزہ ہے ۔ معراج سب انبیاء کرام کو نصیب ہوا مگر مقام جدا جدا تھا ۔ سیدنا ابراھیم علیہ السلام کو نار نمرود میں دیدار خداوندی نصیب ہوا۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو باپ کی چھری کے نیچے ذبح ہو تے وقت انوارات الہیہ نظر آئیں۔ حضرت موسیؑ کلیم اللہ علیہ السلام کو طور پر بلا کر اپنی تجلیات دکھلائیں حضرت عیسی ؑ روح اللہ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھاتے وقت اپنی زیارت کرائی۔ جیسے سرور کونین مکاں کی ذات اور تمام صفات سب انبیاء کرام سے افضل و اعلی ہیں اسی طرح آپ کو جن معجزات سے سرفراز فرمایا گیا وہ معجزات بھی اسی طرح اعجازی شان میں بہت اعلی و بالا ہیں ۔ اللہ تعالی نے وہ تمام کمالات اور معجزات جو حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ ولسلام کو دیے تھے وہ سب کے سب آپ میں جمع کر دیے۔
حسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری آں چہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
معراج کیا ہے :۔ معراج شریف در اصل محبوب و محب ساجد و مسجود عابد و معبود طالب و مطلوب کی داستان محبت اور اسرار شریعت کا وہ انمول خزانہ ہے جس سے عشاق کے دامن ہیروں و جواہرات سے بھر جاتے ہیں ۔معراج در اصل حقیقت محمدی اور عظمت محمدی کی عملی تصویر کا دوسرا نام ہے۔
حرم مکہ مکرمہ سے مسجداقصی تک :۔حضور اکرم ﷺ کے اس سفر مقدس کے دو حصے ہیں ۔ جو سفر مکہ مکرمہ سے مسجد اقصی تک ہوا اسے اسریٰ کہتے ہیں۔اور سفر کا وہ حصہ جو مسجد اقصی سے عرش معلی تک ہوا اسے معراج کہتے ہیں ۔ قرآن کریم میں اس وقعہ کو دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔سورہ بنی اسرا ئیل آیت نمبر1 جس کا ترجمہ ہے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے ایک حصہ میں مسجدالحرام سے مسجد الاقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھیں ہوئی ہیں ۔تاکہ ہم دکھلائیں اپنی قدرت کی نشانیاں بیشک وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔دوسری جگہ سورہ نجم آیت نمبر 8تا 18 جس کا ترجمہ ہے پھر وہ قریب ہوتے گئے اور بہت آگے بڑھ گئے کہ فاصلہ رہ گیا دوکمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم پھر وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کرنا تھی جو انہوں نے دیکھا اسے سچ جانا ۔ اے لوگو جو کچھ وہ دیکھ چکے ہیں کیا تم اس میں جھگڑتے ہو۔ انہوں نے جبرئیل کو ایک بار پھر اصلی شکل میں سدرۃ المنتھیٰ پہ دیکھا جس کے قریب ہی جنت الماویٰ بھی ہے اس وقت بیری کے درخت پر چھارہاتھا جو چھارہا تھا ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کی بہت بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا ۔
بہن کے گھر بھائی مہمان:۔آپ معمولات روز مرہ سے فارغ ہو کر اپنی چچا زاد بہن سیدہ حضرت ام ہانیؓ بنت جناب ابی طالب کے گھر مہمان تھے اور آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبرئیل تشریف لائے اور آپ کو انتہائی ادب و احترام سے بیدار کیا اور سفر معراج کی خوش خبری سنائی اور آپ کو ہمراہ لیکر مسجد حرام میں تشریف لے آئے ۔ وضو کرنے کے لیے فرمایا اور لیٹنے کی گذارش کی اور شق صدر کے ذریعہ قلب مبارک کو نکال کر زریں تشت میں رکھ کر آب زمزم سے دھویا پھر اسے کھولا اور اس میں نورحکمت بھرکر بند کردیا اور اپنے اصلی مقام پر رکھ کر سینے کو سی دیا اور سفر کی تیاری کے لیے عرض کی آنجناب نے دونفل شکرانہ کے ادا فرمائے اتنے میں ایک نہایت خوبصورت سواری نمودار ہوئی جس کے متعلق جبرئیل ؑ نے کہا یہ براق ہے جو آپ کے اس سفر کی سواری ہے اس پر تشریف رکھئیے۔حضور اکرم ﷺ اس پر سوار ہوگئے حضرت جبرائیل ؑ نے دائیں رکاب تھام لی اور حضرت میکائیل ؑ نے بائیں رکاب تھام لی ۔ براق نے چشمہ زدن میں سفر شروع کردیا۔اورآنکھ جھپکنے کی دیرسے بھی پہلے کھجوروں کے ایک جھنڈ میں جا اترا حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا یہ یثرب یعنی شہر مدینہ طیبہ ہے چند روز بعد آپ ہجرت کرکے یہاں تشریف لائیں گے۔وہاں دونفل کی ادائیگی کے بعدبراق فضاء میں اڑااور وادی سینا میں اس پہاڑ پہ جااتراجہاں حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تھا ۔وہاں بھی دو نفل کی ادائیگی کی گئی بعد میں ایک اور جگہ جا اتراجس کے متعلق بتایاگیا یہ بیت اللحم جائے پیدائیش نبی اللہ حضرت عیسیٰ ؑ ہے۔وہاں بھی دونفل اداکئے پھرمدین جائے مسکن ونبوت حضرت شعیب علیہ السلام کا نظارہ کرایا گیا۔
انبیاء سابقین کی امامت:۔ان تمام مقدس مقامات کی سیر کراتے ہوئے اللہ کے فرشتے آں جناب ﷺکو لے کربیت المقدس پہنچے جہاں سابقہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح مبارکہ جسمانی شکلوں میں استقبال کے لیے موجود تھیں۔ جبرائیل امین نے براق کو ایک پتھر سے باندھ دیا اور حضور اکرم ﷺ کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوئے ۔سب انبیاء کرام علیہم السلام نے آپ کا والہانہ استقبال کیا ۔اس کے بعد صخرہ بیت المقدس پر جبرائیل ؑ امین نے اذان دی اور تکبیر کہی تکبیر شروع ہوتے ہی تمام انبیاء کرام نے مسجد اقصیٰ میں صفیں بنا لیں۔اور فرش سے سدرۃ المنتہیٰ بلکہ اس سے اوپر بھی تمام فرشتوں نے صف بندی کرلی۔ مصلی نماز باجماعت خالی تھا جبرائیل ؑ امین نے آپﷺ کا دست مبارک پکڑ کر مصلیٰ پر کھڑا کردیا یوں آپ نے جب جماعت کرائی تو اللہ کی تمام نوری و خاکی مخلوقات کے امام و پیشوا ہونے کا شرف پا لیا ۔نماز سے فارغ ہوکر حضرات انبیاء کرام نے آپﷺ کی خدمت میں سپاسنامے پیش فرمائے ۔ آخر میں حضور اکرم ﷺ سب کے جواب میں کھڑے ہوئے اور پہلے اپنے پیارے خالق و مالک رب العالمین کی صفت و ثناء بیان کی پھر اس کے جو جو خصوصی انعامات آپ پر تھے ان کا تذکرہ کیا دین اسلام کے مکمل ہو نے اور تاقیامت باقی رہنے اور اپنے خاتم النبین ہونے کا بھی اعلان کیا۔ سرورکائنات فخر موجودات فداہ ابی وامی ﷺ جب خطبے سے فارغ ہوئے تو جدلانبیاء حضرت ابراھیم ؑ نے تمام انبیاء کرام کی طرف سے آپ ﷺ کا شکریہ ادا کیا اور سب انبیاء پر آپ کی عظمت اور رفعت مقام کا اعتراف کیا اور ساتھ ہی یہ مجلس برخواست ہوگئی۔ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح مقدسہ اپنے اپنے مقامات کی طرف تشریف لے گئیں۔ جبرائیل ؑ امین نے آپ کو دوپیالے پیش فرمائے ایک جام شراب الطہور تھا اور ایک خالص دودھ سے لبریز تھا آپ نے دودھ والا پیالہ قبول فرماکر نوش جان فرمایا ۔
مسجد اقصی سے عرش معلی تک:۔ مسجد اقصی میں منعقدہ تقریبات سے فارغ ہو کرآسمان کی طرف سفر کی تیاری شروع ہوئی ۔اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ و میکائیل ؑ نے رکاب تھام لی۔اور آپ براق پر سوار ہوئے۔ جبریل ؑ نے اسے پروازکا حکم دیا ۔ براق نے ایک ہی چوکڑی لگائی ہوگی کہ آسمان اول کا دروازہ جسے باب الحفظہ کہتے ہیں آب و تاب سے چمکتا ہوا سامنے تھا جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو حضرت آدم ؑ استقبال کے لیے موجود تھے ۔آپ ﷺ نے حضرت آدم ؑ کو سلام کیا انہوں نے جواب میں فرمایا مرحبا لابن الصالح والنبی الصالح ۔ پہلے آسمان کے عجائبات دیکھنے کے بعد آپ ﷺ دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے وہا ں حضرت یحیےٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ سے ملے۔ پھر تیسرے آسمان پر تشریف لے گئے وہاں آپ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی ۔ اور پھر چوتھے آسمان پر تشریف لے گئے وہاں حضرت ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی ۔پانچویں آسمان پر حضرت ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی۔ساتویں آسمان پر تشریف لے گئے وہاں حضرت ابراھیم ؑ سے ملاقات ہوئی۔ دیکھا کہ حضرت ابراھیم ؑ بیت معمور سے پشت لگائے بیٹھے ہیں آنحضرت ﷺؑ نے حضرت ابراھیم ؑ سے سلام کیا انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا ۔آپ نے دیکھا کہ دادا جان بہت سے بچوں کو پڑھا رہے ہیں ۔پو چھا کہ یہ کیا سلسلہ ہے جواب ملا جو طالبان دین بچپن میں فوت ہو جاتے ہیں انکی ارواح کو یہاں تعلیم دی جاتی ہے ۔آپ بے حد خوش ہوئے ۔جبرائیل ؑ سے پو چھا یہ بیت المعمور کیا ہے انہوں نے بتایا بیت معمور قبلہء ملائکہ ہے جو ٹھیک خانہ کعبہ کی سیدھ یعنی عمود میں آسمانوں پر قائم ہے روزانہ ستر ہزارفرشتے اس کا طواف کرتے ہیں ایک جماعت جس نے ایک مرتبہ اس کا طواف کرلیا ہے اب قیامت تک اس کی باری نہیں آئے گی ۔
حضرت جبریل ؑ کا مسکن:۔بیت المعمور سے گذر کر ایک مقام پر پہنچے جسے سدرۃ المنتہی کہتے ہیں ۔ جو ایک بیری کا درخت تھا جس پر بڑے بڑے پھل لگے ہوئے تھے جبریل ؑ امین نے کہا میرے آ قا یہ آپ کے خادم کا گھر ہے۔ اس نوری پرندے کا مسکن اور آشیانہ اسی درخت کی ایک ٹہنی ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں زمین سے اوپر جانے والی چیز پہلے اس مقام پر رکتی ہے پھر اوپر جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے آسمان کی طرف سے آتی ہے پہلے یہاں رکتی ہے پھر نیچے آتی ہے اس لیے اس کو سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے۔
مومنین کے اصلی گھروں میں ورود مسعود:۔سدرۃ المنتہی گذر کر آپ کوبتایا گیا کہ اب آپ وہاں چلیں گے جہاں آپ کے والد محترم آدم علیہ السلام اور اما ں جان حوا علیہا السلام رہتے تھے۔اور پھر دنیا میں بھیج دیے گئے۔ اور ان کی اولاد میں سے جو بھی نیک اعمال کرنے والے ہوں گے ان کو یہاں لایا جائے گا۔ اور یہ اللہ تعالی کے انعام و اکرام کی جگہ جنتیں تھیں۔جیسا کہ قرآن مقدس میں حق تعالیٰ شانہ نے ارشادفرما یا عند سدرۃ المنتہیٰ عند ھا جنت المآ وی تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ کے بعد جنت کی سیر کرائی گئی جہاں آپ نے اپنا محل دیکھا اور اپنے صحابہؓ اور دوسرے مومنین کے محلات کو دیکھا اور جنت کی دوسری نعمتوں کا ملاحظہ کیا۔ جنت کے با غات خوبصورت نہریں چشمے آبشاریں اور جنت کی مخلوقات دیکھی۔
غیض و غضب خداوندی کی جگہ :۔اس کے بعد جہنم کا معائنہ کرایا گیا ۔ اس کے بھیانک مناظر دکھلائے گئے۔ جہاں آپ نے مختلف مجرموں کو مختلف سزاؤں میں دیکھا۔ اورجہنم میں جتنے خوف ناک عذاب تھے سیل ہیں وہ سب آپکو دکھلائے گئے جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ ہر چیز بنظر خود دیکھ لیں پھر اس کا کما حقہ پوری طرح نقشہ امت کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس کے بعد آپ کو ایسے بلند مقام پر لے جایا گیا جہاں احکامات خداوندی کی تحریرات سامنے آتی ہیں اس مقام کو صریف الاقلام کہتے ہیں یہ ایک بہت بڑی نور کی دیوار تھی جس پر تیزی سے حروف آ رہے تھے یعنی اس مقام پر قضاء قدر کے قلم مشغول کتابت تھے۔اللہ تعالی نے نظام قدرت چلانے کے لیے جن جن شعبہ جات کا انچارج ،جن بڑے فرشتوں کو بنا رکھا ہے ان کی وہ نشست گاہ ہے وہاں آپ نے دیکھا کہ وہ ملائکۃ اللہ امور الٰہیہ کی کتابت اور احکام خدا وندی کو نوٹ کررہے تھے ۔
ہم سفر ساتھیوں کا الوداعی سلام:۔ مقام صریف الاقلام پہنچ کر حضرت جبرئیل امین ؑ نے عرض کی ائے اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ میری پرواز کی حد یہاں تک تھی اور براق کی طاقت بھی جواب دے گئی۔ اس سے آگے اب آپ کی شان اور آپ کا ہی مقام ہے کہ آپ جا سکتے ہیں اس لیے مجھے اجا زت دیجئے ۔ جب جبرئیل ؑ اور براق رک گئے تو آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اس سے آگے انوارات الہیہ کی تجلیات اتنی تیز ہیں کہ ایک قدم بھی آگے بڑھا تو میرے پر جل جائیں گے۔
دیدار خداوندی:۔ جہاں جبریل امین نے خدا حا فظ کہا آ گے ایک بہت بڑی نور کی دیوار تھی آپ ان نوری پردوں میں مسطور ہوگئے۔اور دیوار سے آگے نکل گئے ۔وہاں عرش معلی کے خاص فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور اگلے سفر کے لیے ایک خاص قسم کا تخت سواری کے لیے مہیا کیا گیا جس پر آپ رونق افروز ہوکر عرش معلیٰ تک پہنچے۔آپ ﷺ کو یہاں اللہ تعالیٰ کی پیاری آواز کانوں میں رس گھولتی ہوئی سنائی دی ادن یا حبیبی پھر کیا ہوا قرآن کی زبان میں ہے ثم دنا فتدلی۔ فکان قاب قوسین اَوْ ادنی ۔ پھر وہ قریب ہوگئے پھر اور زیادہ قریب ہوئے یہاں تک کہ فاصلہ رہ گیادوکمانوں کا یا اس سے بھی کم پھر کیا گفتگو ہوئی، قرآن نے اسے اجمالی انداز میں یوں بتاکر بات مکمل کردی فا وحیٰ الیٰ عبدہ ما اوْ حیٰ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو کرنا تھی ۔ حضوراکرم ﷺجب اس عظیم مقام پر پہنچے تو ادائیگی شکر کے لیے بارگاہ خدا وندی میں سجدہ نیاز بجالائے ۔اور نورالسمٰوات والارض کے جمال بے مثال کو حجاب کبریائی کے پیچھے سے دیکھا اوربلاواسطہ کلام ربانی وحی ایز دی سے مشرف اور سرفراز ہوئے۔
محب اور محبوب میں تحائف کا تبادلہ:۔اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا اے میرے پیارے حبیب پاک آپ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہیں تومحبوب خدا ﷺنے جواب دیا اتحیات لللٰہ والصلوت والطیبات۔ یعنی میری تینوں قسم کی عبادتیں مالی بدنی جانی صرف آپ کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اگر آپ تین تحفے لائے ہیں تو میری طرف سے بھی تین تحفے قبول فرمائیں ۔میری طرف سے آپ کو ہمیشہ سلام پہنچے میری ہمیشہ آپ پر رحمت برستی رہے اورمیری طرف سے تمام برکتیں آپ پر نازل ہوتی رہیں۔غرضیکہ اللہ جل شانہ نے اس مقام پر حضوراکرم ﷺ کو گوناگوں الطاف و عنایات سے نوازا اور طرح طرح کی بشارات سے مسرور فرمایا اور خاص خاص احکامات دئیے ۔
مومنین کا معراج :۔ آپ ﷺ کو آپ کی امت کے لیے پچاس نمازوں کا تحفہ عنایت فرمایا گیا۔ آپ ﷺ یہ تمام انعامات سے مالا مال ہوکر فرحاں و شاداں واپس لوٹے ۔ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے کیا تحفہ میں ملا آپ نے ارشاد فرمایا کہ دن و رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔
حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا میں اپنی امت کا تجربہ کرچکا ہوں ان پر دونمازیں فرض تھیں اور وہ انہیں بھی نہیں پڑھتے تھے ۔آپ کی امت ضعیف اور کمزور ہے اس فریضہ کو انجام نہیں دے سکے گی اس میں تخفیف کرائیں ۔آپ ﷺ دوبارہ اللہ تعالےٰ کے پاس تشریف لے گئے اللہ پاک نے پانچ نمازیں کم کردیں ۔پھر موسی ؑ کے پاس آئے انہوں نے پھر یہی کہاآپ پھر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ نے پھر پانچ کم کردیں اس طرح آپ نے 9 بار درخواست کی اور 45 نمازیں معاف ہوگئیں اور صرف پانچ باقی رہ گئیں۔ اسی لیے نماز کو تحفہ معراج کہتے ہیں۔ فرمان عالی ہے الصلوۃ معراج المومنین مومنین کے لیے نماز معراج کے درجے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر ایک انو کھے انعام سے نوازا۔ فرمایا میرے پیارے نبی ﷺ میں نے آپ کی امت کے لیے ایک نیا ضابطہ بنادیا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ۔ آپ کی امت کا جوشخص بھی ایک نیکی کیا کرے گا ہم اس کو دس گنا شمار کر کے دیا کریں گے۔اسی ضابطے کے تحت آپ کی امت پڑھے گی پانچ نمازیں اور ہم شمار کیا کریں گے پچاس نمازیں۔ یہ سن کر آپ بے حد مسرور ہوئے۔
سفر مقدس سے واپسی:۔آپ آسمانوں سے دوبارہ گذرتے ہوئے واپس بیت المقدس پہنچے وہاں سے جبریل ؑ امین اور براق آپ کو مکۃ المکرمہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔جب واپسی ہوئی تو جس پانی سے وضو کیا تھا وہ ابھی بہ رہا تھا جس بستر سے اٹھے تھے وہ بھی ابھی گرم تھا آپ ﷺ نے صبح کویہ واقعہ اہل مکہ سے بیان فرمایا وہ سن کر حیران ہوگئے ۔ تصدیق کی بجائے پھبتیاں کسنے لگے شہر میں شورو غوغا برپا ہوگیا۔
زندیق کا انکار اور صدیقؓ کی تصدیق:۔ ابو جہل یہ واقعہ سن کر جارہا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ سے ملاقات ہوگئی۔ سوالیہ انداز میں واقعہ معراج بیان کرکے کہنے لگا اے ابوبکرؓ کیا ایسا سچ ہوسکتا ہے۔ صدیق اکبرؓ نے پوچھایہ واقعہ کس نے بیان فرمایا۔ ابو جہل نے آپ ﷺ کانام لیا ۔جس پر صدیق اکبرؓ نے فرمایا آمنا وصدقنا آپ کی اس تصدیق کی بنا پر حضرت ابو بکر کو صدیق اکبر کے خطاب سے نوازا گیا ۔کفار نے واقعہ سن کر آپ کا امتحان لینے کی غرض سے آپ سے بیت المقدس کے بارے میں چند سوالات کئے جو اس کی عمارت سے متلق تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کا ماڈل آپ کے سامنے پیش کردیا آپ ﷺ نے ہر سوال کا دندان شکن جواب دیا تو کفار مبہوت ہوگئے۔ اب کوئی اور سوال باقی نہ رہا تو کہا کہ راستے کا کوئی واقعہ سنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا راستے میں مجھے ایک قافلہ ملا ہے جو شام سے مکۃ المکرمہ واپس آرہا ہے اور تیسرے دن مکہ پہنچے گا اس کا ایک اونٹ گم ہوگیا اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کا ایک خاکستری رنگ کا اونٹ سب سے آگے ہوگا۔ پھر اسی شان کے ساتھ تیسرے دن وہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا اور انہوں نے اونٹ کے گم ہونے کا واقعہ بھی بیان کیا ۔ے ہ ہے وہ سچا واقعہ معراج جو حضور اکرم ﷺ کے بڑے بڑے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے، جس کے پنتالیس صحابہؓ راوی ہیں۔
خواب یا حقیقت:۔ بعض لوگوں کا خیال ہے یہ نبی کریمﷺکا ایک خواب تھا جس میں صرف روح مبارک کو سیر کرائی گئی اور یہ روحانی معراج تھا یہ تحقیق بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ جاگتے ہوئے عین بیداری کی حالت میں روح مع الجسدہوا جس پر سیکڑوں دلائل موجود ہیں ۔ایک مسئلہ رؤیت باری تعالیٰ کا ہے اس سلسلہ میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ حضوراکرمﷺنے مشاہدہ انوارات الہیہ و تجلیات الہیہ کیا ہے مگراس کی کیفیت کیا تھی اسے سمجھنے کے لیے اوربیان کرنے کے لیے انسانی عقل و زبان قاصر ہے ۔ہمیں اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ہمارا ایمان ہے کہ معراج میں رؤیت باری تعالیٰ ہوئی ہے۔ایک سوال براق کی تیز رفتاری پر کیا جاتا ہے آج کے دور میں سائنسی ترقی نے تو اس کی مکمل تصدیق کر دی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ سورج زمین سے نو کروڑ تئیس لاکھ میل کے فاصلے پر ہے اس کی رو شنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین تک سوا آ ٹھ منٹ میں پہنچتی ہے ۔ اسی طرح مشتری ایک سیارہ ہے جو تیس ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہا ہے ۔ اگر اللہ تعالی کی یہ مخلوقات اتنی تیز رفتاری سے سفر کر سکتی ہیں تو کیا اسے یہ قدرت نہیں کہ وہ براق کو یہ طاقت بخش دے ۔
سبحان سے معراج کا آ غاذ:۔ قراٰن کریم میں جب یہ واقعہ بیان ہوا تو لفظ سبحان سے شروع کیا گیا اس میں حکمت یہ ہے کہ منکرین معراج کو یہ بتانا مقصود ہے کہ تم جس وجہ سے سمجھتے ہو کہ انسان معراج پر نہیں جا سکتا، خوب خوب سمجھ لیجیے کہ سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کو معراج کی رفعتوں سے مالا مال کرنے والا اور اپنے محبوب پاک کو اس سفر مقدس کے انوارات سے سرفراز کرنے والا کوئی معمولی طاقت کامالک نہیں ہے ۔ بلکہ وہ وہ ذات ہے جسکے ہاں ہر کا کن فیکون سے ہوتا ہے۔ اس کی یہ طاقت ہے کہ جہاں سب طاقتیں عاجز آ جائیں اسے وہاں بھی قدرت کاملہ حاصل ہے ۔ سبحان کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہر نقص اور کمی سے پاک ہے ہر عجز سے منزہ ہے ۔ ہر قید اور حدبندی سے بالا تر ہو ۔