آج کا کیوشک
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعرات 07 / اپریل / 2016
- 5364
بھارت دشمنی کی تازہ ترین مثال کلبھوشن یادیو ہے۔ جو بلوچستان سے لے کر کراچی تک حالات بگاڑنے کا نہ صرف اقرار کر چکا ہے بلکہ اپنے دست راست لوگوں کے نام بھی تفصیل سے بتا رہا ہے۔ جو کچھ مضافاتی علاقوں سے اداروں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں تو کہیں شوگر ملوں سے "علی بابا چالیس چور" کے مصداق سامنے آ رہے ہیں۔
بھارت کی "پاکستان دوستی" کی چند تاریخی مثالیں بھی موجود ہیں یہ کوئی آج کی بات نہیں ۔ہر دور میں کلبھوشن یادیو جیسے کردار بھارت کی پاکستان دشمنی کو واضح کرتے رہے ہیں۔بھارت نے حقیقتاً بغل کی چھُری دکھانے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا ۔ ہم جتنا مرضی پڑوسی پڑوسی کر لیں۔ جتنا مرضی امن کی آشائیں اڑا لیں۔ جتنا مرضی یہ راگ الاپ لیں کہ پڑوسی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے ۔ بھارت نے بہر حال ہر لمحہ یہ احساس ضرور دلانا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا ازلی اور واحد دشمن تصور کرتا ہے اور اس کے خلاف عملی اقدامات بھی کرتا رہتا ہے۔
دشمنی کی واضح مثال بھارت کا 1975 میں رویندرہ کیوشک کو پاکستان جاسوسی کے مشن پر بھیجنا تھا۔ 52ء میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان جو سٹیج تھیٹر میں اپنی صلاحتیں منوا چکا تھا کہ "را" کے کرتا دھرتا اس کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہو گئے اور 2 سال کی تربیت کے بعد 23سال کی عمر میں یہ نوجوان پاکستان پہنچ گیا۔ نبی احمد شاکر اس کا کوڈ نیم تھا۔تعلیم حاصل کی ۔پاکستان کے اہم ترین ادارے میں ملازمت حاصل کر لی ۔پاکستان کی خوش قسمتی کہ عنایت مسیح جسے بھارت نے کیوشک سے رابطے کے لیے پاکستان بھیجا تھا، پکڑا گیا۔ اسی وجہ سے کیوشک بھی گرفت میں آ گیا۔ اسے 85ء میں سزائے موت ہوئی لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا اور وہ 99ء میں جیل میں ہی مر گیا۔ ٹیلی گراف انڈیا نے 30دسمبر2002کو کیوشک کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی جو لاکھوں لوگوں نے پڑھی۔کیوشک پر بھارت میں ایک فلم بھی بن چکی ہے۔ " ایک تھا ٹائیگر" نامی فلم پر کیوشک خاندان نے مقدمہ بھی دائر کیا تھا کہ یہ کیوشک کے بارے میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کیوشک کا کوڈ ’بلیک ٹائیگر‘ تھا۔ کیوشک سے ملتی جلتی ہی ایک کہانی کا ذکر انڈین انٹیلی جنس کے سابق جائنٹ ڈائریکٹرملائے کرشنا دَر نے اپنی کتاب " مشن ٹو پاکستان (2002) " میں بھی کیا ہے۔ لیکن بھارت نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ اس نے کیوشک کو پاکستان بھیجا تھا۔ اسی لئے کیوشک نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ: " کیا بھارت جیسے بڑے دیس کے لیے قربانی دینے والوں کو یہی ملتا ہے"۔
کشمیر سنگھ کو ہمارے ایک نگران وزیر نے کمال مہربانی دکھاتے ہوئے رہائی میں مدد دی، یہ ثابت کر تے ہوئے کہ موصوف ذہنی بیمار ہیں اور 35 سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ اور ثابت بھی نہیں کہ یہ ایجنٹ تھا۔ 2008 ء میں رہائی کے بعد واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک ہو گئی اور موصوف ہیرو بن گئے اور بتایا کہ میں واقعی ایجنٹ تھا اور ابراہیم کوڈ نیم تھا۔ وہ 62-66 تک انڈین آرمی کا حصہ بھی رہا۔ اور اس بات سے بھی انکار کیا کہ اس نے اسلام قبول کیا تھا۔
سربجیت سنگھ(یا منجیت سنگھ) کے اہل خانہ کا یہی مطالبہ رہا کہ وہ ایجنٹ نہیں تھا۔ لیکن ہندوستان ٹائمز کی ہی برقی اشاعت پر راجیش آہوجا کی ایک سٹوری فائل ہوئی جس میں یہ مانا گیا کہ سربجیت ایجنٹ تھا اور اس کیس کو انڈین انٹیلی جنس میں مانیٹر بھی کیا جا رہا تھا۔ یہ بھی جیل میں ہی بناء موت کی سزاء کے باہمی لڑائی میں مر گیا۔ ونے دیوناتھ سوشل میڈیا پر ایک تحریر دسمبر 2015 میں شائع کی جس کا ٹائٹل تھا " 06 رئیل انڈین سپائی سٹوریز دیٹ ول میک یو پراؤڈ " اس میں جن 6افراد کا ذکر ہے اس میں سب سے اوپر نام "اجیت دوول " کا نام ہے جو بھارت کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق موصوف 7سال تک پاکستان میں انڈر کور ایجنٹ رہے۔ اس فہرست میں رویندرہ کیوشک اور کشمیر سنگھ کے نام بھی شامل ہیں ۔
بھارت کے ہی ایک مشہور نشریاتی ادارے نے 26 ستمبر2013 کو انکیت تویجا کی ایک رپورٹ شائع کی ۔ جس کا عنوان تھا " 12ٹیلز" یعنی 12 کہانیاں، ان افراد کے بارے میں جو بھارت کی تاریخ کے کامیاب ایجنٹ رہے۔
پاکستان چاہے جتنا بھی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے لیکن بھارت سرکار دوستی کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نے کبھی پاکستان کا وجود تسلیم ہی نہیں کیا۔ لیکن کلبھوشن یادیو کے معاملے میں حالات مختلف ہیں ۔ بھارت اس کو نہ صرف اپنا شہری مان چکا ہے بلکہ نیوی ملازم بھی تسلیم کر رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں موجود اپنے سفارت خانوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کیس عالمی دنیا میں بہترین انداز میں پیش کرے۔ اسی طرح دشمن کو چالوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔