لڑکھڑاتی جمہوریت اور آمریت کے امکانات!

سیاسی لیڈر ہمیشہ اپنے جمہوری ادوار میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ جمہوریت مضبوط ہے اور اس کو کوئی طاقت نہیں گراسکتی۔ لیکن ہم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھا کہ آمروں نے جب بھی چاہا، منتخب حکومت کی بساط لپیٹ دی۔

ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان کی جمہوری تاریخ کے سب سے مقبول منتخب رہنما ہوئے ہیں۔ اُن کو عوام میں جس قدر حمایت حاصل تھی، وہ کسی رہنما کو  نہ مل سکی۔  ان کی حکومت کے خلاف چار مرتبہ فوجی بغاوت کی کوششیں ہوئیں۔ انہوں نے 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 6 کے تحت فوجی بغاوت کا راستہ روکنے کے لیے انتظامات بھی کئے تھے۔ لیکن 5جولائی 1977ء کو اُن کی حکومت ختم کرنے کے بعد جنرل ضیاالحق نے 4اپریل 1979ء کو اُن کی جان بھی لے لی۔ ترکی کے سابق وزیراعظم جناب بلند ایجوت ایک تقریب میں شریک تھے جس میں پاکستان کے معروف سیاست دان بھی موجود تھے، بشمول ملک معراج خالد۔ دورانِ محفل  راؤ رشید مرحوم نے ترکی کے سابق وزیراعظم سے سوال کیا کہ ترکی میں تین بڑی فوجی آمریتیں قائم ہوئیں، آپ سمیت مختلف رہنماؤں نے ان کے خلاف جدوجہد بھی کی۔ ہم آپ کے تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں 1973ء کے آئین میں آرٹیکل 6 لایا گیا جس کے تحت فوجی آمریت کا راستہ روک دیا گیا۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ فوجی آمریت کا راستہ کیسے روکا جاسکتا ہے؟ جناب بلند ایجوت نے جواب دیا کہ ’’جب فوج آتی ہے تو کیا وہ آئین پڑھ کر آتی ہے؟‘‘

1988ء کے بعد یہ یقین کرلیا گیا کہ اب فوج اقتدار میں نہیں آئے گی لیکن 12اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد جس قدر توانا جمہوریتیں قائم ہوئیں، اس کا ہم سب اندازہ کرسکتے ہی۔، ہر لمحہ ایسے لگتا ہے، ’’اب وقت ہوا چاہتا ہے۔‘‘ 2008ء کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما جناب آصف علی زرداری خود صدر بن گئے اور انہوں نے دونوں مرتبہ نہایت تابعدار وزرائے اعظم نامزد کئے۔ اسمبلیاں برخاست کرنے اور حکومت توڑنے کا اختیار رکھنے والا صدارت کا عہدہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ’’جمہوریت کس قدر توانا‘‘ تھیں ۔ ریاست کے اندر طاقتور اختیارات رکھنے والے اداروں نے اپنا کھیل جاری رکھا۔  قطع نظر اس کے کہ زرداری کی سرپرستی میں حکومت کرپٹ اور نااہل لوگوں پر مشتمل تھی۔ اس دوران ایک ایسی سازش تیار ہوئی جس میں صدرِ مملکت کو ہسپتال روانہ کئے جانے کے انتظامات ہوئے ، جہاں سے اُن کے دماغی خلل کا سرٹیفکیٹ جاری ہونا تھا اور دوسری صبح عدالت عظمیٰ نے اس سرٹیفکیٹ کے سبب صدرِ مملکت کو نااہل قرار دے دینا تھا۔ اُن کے خاص رفقائے کار حسین حقانی، ان کی اہلیہ اور صدر آصف علی زرداری اس دوران اپنے اعلیٰ اتحادیوں کی مدد سے دبئی روانہ ہوگئے۔ اس Coup d'tat کی خبریں مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیانات اور تجزیوں میں اور عالمی میڈیا کے مستند ذرائع نے جاری کیں۔ آصف علی زرداری سیاست کے تضادات سے کھیلتے ہوئے دوبارہ وطن لوٹے اور اقتدار کی کمزور باگیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ انہی دنوں جناب نجم سیٹھی ہروقت چڑیا کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے تجزیے پیش کرنے میں مشہور ہوئے۔

2013ء کے بعد جمہوری قیادت جو ایک انتخابی ذریعے سے اقتدار میں آئی ، کرپٹ اور نااہل اپنی جگہ مگر اس کے اقتدار کو ہم ڈانواں ڈول ہی دیکھ رہے ہیں۔ دھرنا اور بنکاک ماڈل طرز پر حکومتی ایوانوں پر قبضے کی حکمت عملی پر پاکستان دو سیاسی دھڑوں میں بٹا ہ؎ا ہے۔ ایک منتخب حکومت کو غیرآئینی طریقے سے ہٹانے اور دوسرا ہر طریقے سے قائم رکھنے کے لئے سرگرم ہے۔ اس دوران ہمارے تجزیہ نگار اور میڈیا بھی تقسیم  نظر آتے ہیں۔ حکومت کو گھر بھیجنے اور حکومت کا دفاع کرنے میں۔ اس صورتِ حال سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ پاکستانی جمہوریت کی حقیقت کیا ہے۔ بقول غالب:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

لاہور میں گلشنِ اقبال میں دھماکوں کے بعد پنجاب میں آپریشن کا آغاز اور اب پانامہ لیکس پر پھر وہی صورتِ حال ہے جو 1988ء کے بعد قائم جمہوری ادوار میں سامنے آئیں، لڑکھڑاتی جمہوریت۔ میرے لاتعداد دوستوں نے پوچھا کہ کیا فوج اقتدار میں آ جائے گی؟ اپنے کمزور تجربے کی بنیاد پر عرض ہے کہ اس کمزور جمہوریت کو ٹریک سے اتارنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ پھر سے بس Screw Tighting کی جارہی ہے۔ اسی Screw Tighting میں جنرل پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی بھی شامل ہے اور اب پنجاب میں ملٹری آپریشن اور پانامہ لیکس میں شامل چند سیاسی لیڈروں کی بے نقابی۔ یہ سب اس لئے ہی ممکن ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جو بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعوے دار ہیں، وہ خود جمہوری اداروں کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں۔ خاندانی، موروثی نظام پر یہ سیاسی جماعتیں نااہلی اور مرکزیت پسند قیادت اور جذباتیت کی بنیاد پر جمہوریت کو کیسے مضبوط کرسکتی ہیں۔ خود اُن کو علم ہے کہ وہ جمہوریت کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ سب تو صرف عوام کو مرعوب کرنے کے لیے ہے۔ ’’جمہوریت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دیں گے‘‘ جیسے نعرے لگا کر لوگوں کو اپنا ہمدرد بنانے کی اچانک کوششیں۔ اس سارے منظرنامے میں اب بھی یہی ہوگا، فوج اقتدار میں براہِ راست نہیں آئے گی۔ اس کو اقتدار میں آنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ’’معاملات‘‘ Screw Tighting سے طے کرلئے جائیں گے۔  فیصلوں کا اختیار سول قیادت کی بجائے اُن اداروں کے پاس  منتقل ہوتا رہے گا۔  یاد رہے کہ اقتدار کی حقیقی طاقت اس کے پاس ہے جس نے پاکستان میں حکومتوں کو فارغ کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔ یعنی اقتدار کے لئے سول حکومتیں بھی انہی کے مرہون منت ہیں جو اقتدار سے سول قیادت کو نکال باہر یا Screw Tighting کرتی ہیں۔

اگر پاکستان میں حقیقی عوامی جمہوریت (Peoples' Democracy) استوار ہوجائے تو اقتدار کی کنجی عوام کے پاس منتقل ہوجائے گی اور موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت نہ تو Peoples' Democracy قائم کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی خواہاں ہیں۔ جو اہل علم و فکر اس جمہوریت سے عظیم تر تبدیلیوں اور معجزات کے منتظر ہیں، اُن کا حال ویسا ہی ہے جیسا ان اہل علم وفکر کا جو آمریتوں سے انقلاب ڈھونڈتے ہیں۔ یہ تصویر کے دو رخ نہیں بلکہ تصویر کے ایک ہی رخ کے کردار ہیں۔ یہ نظام 2018ء تک ایسے ہی چلے گا اور پھر بعد میں کیا ہوگا، اس کا ذکر پھر کبھی۔