حصار بند یورپ اور تارکین وطن

یورپ کو ’’قلعہ بند‘‘ کرنے کا خواب اب پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ مہاجرین کی مدد کرنے کی بجائے بیشتر یورپی ممالک اپنی سرحدوں پر خاردار تاروں کی باڑ لگانے اور اپنے ہاں مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے فصیلیں کھڑی کر رہے ہیں ۔

ڈنمارک سمیت امریکہ اوراُس کے اتحادی، افغانستان، عراق اور لیبیا مخالف جنگیں لڑ چکے ہیں اور ابھی تک اِن ممالک  میں کسی نہ کسی طور پر موجود ہیں  جب کہ شام میں یہ حکومت مخالف جنگجوؤں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور وہاں اب تک جنگ کررہے ہیں ۔  ’’ دہشتگردی کے خلاف جنگ‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی قیادت میں نیٹو کے اتحادی  بیشتر ملکوں میں چھوٹے بڑے مسلح تصادم اور جنگوں میں شامل ہیں اور بظاہر اِن کا مقصد ان ملکوں میں آمرانہ حکومتوں کو ختم کرنا، جمہوریت لانا اور لوگوں کو بینادی انسانی حقوق دلانا ہے۔  تاہم اِن جدید استعماری قوتوں کا  اصل مقصد اِن ممالک کے’’ قدرتی ذرائع پیداوار ‘‘ پر قبضہ جمانا اور نہ صرف تیل بلکہ  جغرافیائی مفادات پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ تاکہ روس اور چین دونوں کے اثر و رسوخ کو محدود  رکھا جا سکے ۔ 

جلد بازی میں ڈینش پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ  چار سو سے زیادہ خصوصی تربیت یافتہ  فوجی یونٹس، جنگی طیارے اور دیگر عسکری سازوسامان شام بھیجنے کے لیے تیار ہے جو وہاں نیٹو و امریکہ کے جنگی طیاروں کی بمباری میں حصہ لیں گے۔ ان سب کارروائیوں کی سربراہی امریکہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس جنگ میں اتحادیوں کی فضائی بمباری کے نتیجے میں، انسانی حقوق کی بحالی کے دعوے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات تو پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے البتہ اس بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، املاک کی تباہی وسیع پیمانے پر جاری ہے۔  یوں دیکھا جائے تو  شہری حقوق حقیقت میں تباہ ہو رہے ہیں ۔

افغانستان ، عراق اور لیبیا کی تباہی کے بعد اب شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا رہی ہے۔ افراتفری اور خانہ جنگی کو اپنے مفادات کے لئے بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔  نتیجتاً وہاں بمباری سے بچنے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہجرت کرنے اور مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور  ہیں ۔ دوردراز اجنبی ملکوں کا سفر کرنے والے یہ خانماں برباد  پُر خطر زمینی و سمندری راستوں سے یورپ کا رخ کرتے ہیں اور ان میں سے ہزاروں سمندری لہروں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس وقت تک بیشمار مہاجرین ترکی اور یونان کے درمیان اور یونان سے اٹلی کے درمیان سمندر میں ڈوب  چکے ہیں اور ایک پر امن زندگی کی تلاش میں ابھی تک سمندری لہروں کی نذر ہورہے ہیں ۔ جو لوگ ترکی سے سمندر عبور کرکے یورپی یونین کے رکن یونان پہنچتے ہیں اور وہاں سے اٹلی،  جرمنی، ڈنمارک یا یونین کے کسی دوسرے ملک میں جانا اور پناہ حاصل کرنا چاہتے تھے، ان کے لئے ایسا کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ’’ مہاجرین اور اقتصادی تارکین وطن  کی واپسی‘‘ کا جو معاہدے طے پایا ہے اس کے تحت اب یونان تک پہنچےہوئے  مہاجرین اور تارکین وطن کو پکڑ کر بحری جہازوں کے ذریعے ترکی واپس بھیجا جا رہا ہے جہاں انہیں ایسے کیمپوں میں رکھا  جا رہا ہے جو ایک طرح سے ’’ حراستی کیمپ ‘‘ ہیں اور جہاں انسانی زندگی کے لئے درکار کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں ۔ ترکی کو اپنے ہاں سے مہاجرین کو یورپ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے  اور یونان میں موجود مہاجرین کو واپس لینے کے لئے، یورپی یونین نے بائیس عشاریہ پانچ  بلین کرونا (ساڑھے تین ارب ڈالر) مہیا کئے ہیں ۔ اور ترکی سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ  وہ اپنے ہاں شام کی سرحدوں کے قریب، اُن مہاجرین کے لئے بطور خاص کیمپ قائم کرے جو شام سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہیں یونان یا کسی دوسرے یورپی ملک سے بدر کیا جائے گا ۔ ترکی ان مہاجرین کو ’’عارضی پناہ گاہیں ‘‘ مہیا کرنے کی آڑ میں اپنی کرد اقلیت سے سیاسی بدلہ لینا چاہتا ہے۔  ان شامی مہاجرین کو شام کی سرحدوں سے ملحقہ ’’کر د آبادی والے علاقوں میں ‘‘ کیمپوں میں رکھ رہا ہے اور یوں کردوں کے خلاف مسلح کارروائیوں کے لئے زمین ہموار کر رہا ہے ۔ فی الوقت کرد ان شامی مہاجرین کو اپنے علاقوں میں رکھے جانے کے حق میں نہیں ہیں ۔ اور انقرہ میں حکومت اِس بات کو جواز بناتے ہوئے کردوں کے خلاف اپریشن کر رہی ہے ۔ کردوں کے کئی بڑے بڑے شہر وں اور قصبوں میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہے اور وہاں کا  بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جا رہا ہے ۔ اور شام میں جہاں کرد اپنی بقا کے لئے اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں سے زمینی جنگ لڑ رہے ہیں‘ وہاں ترکی کے بمبار طیارے ان کردوں پر امریکی بم گرا رہے ہیں ۔

مہاجرین کی مدد کرنے اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کی سرکوبی کرنے والے کردوں کو شاباش دینے اور اُن کے حوصلے بڑھانے کی بجائے،  یورپ کو بس ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ کس طرح مہاجرین کو یورپی سرحدوں سے باہر رکھا جائے اور فی الوقت جو مہاجرین یونان سے یورپ جانے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، انہیں کس طرح جلد سے جلد ترکی واپس بھیجا جائے۔ ایسا کرنے کے لئے یورپی یونین اپنے آپ کو ’’ ایک ایسا حصار بند قلعہ‘‘ بنانا چاہتی ہے جس میں کوئی مہاجر داخل ہی نہ ہو سکے ۔ اسی کے ساتھ یورپی یونین کے بیشتر ملک  اپنے ہاں ایسی قانون سازی میں مصروف ہیں، جو ان ممالک میں داخل ہونے  کی کوشش کرنے والے مہاجرین کی راہیں بند کر دیں گے۔ جو لوگ کسی طرح سے داخل ہوجانے میں کامیاب ہو جائیں گے انہیں پناہ اور مستقل رہائش کی اجازت حاصل کرنے میں کم سے کم دو تین سال لگ جائیں گے۔  اس دوران انہیں اپنے شب روز صرف ’’ حراستی کیمپوں‘‘  یا نام نہاد ’’ مہاجر کیمپوں ‘‘ میں گزارنے ہوں گے۔  انہیں اپنے بیوی/ میاں بچوں کو اپنے پاس بلوانے کے لئے تین سال سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑے گا ۔  اس طرح کی  سخت ترین قانون سازی کا  مقصد یہی ہے کہ  جان بچا کر یورپ کا رخ کرنے والے ہر مہاجر اور بہتر زندگی کی تلاش میں سرگرداں ’’ اقتصادی تارک وطن ‘‘ کو  ٹھوس پیغام دیا جائے کہ ’’اسے یورپ میں کہیں بھی خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔‘‘

یورپی یونین میں انسانی ہمدردی کی بیشتر غیر سرکاری تنظیمیں، رضاکارانہ کام کاج کرنے والے ادارے، ایمنسٹی انٹرنیشنل،  سرحدوں سے مبرا ڈاکٹروں کی تنظیم اور اسی طرح کی انسانی ہمدردی کی دوسری تنظیمیں زور دے رہی ہیں کہ مہاجرین کو روکنے کے لئے اِن غیر انسانی اقدامات سے اجتناب کیا جائے۔  اِس پاگل پن کی بجائے در بدر ٹھوکریں کھانے اور  کھلے آسمان تلے بکھرے ہوئےمہاجرین کو  مدد اور اعانت مہیا کی جائے جو اس مصیبت کے وقت بحیثیت انسان مہیا کرنا لازم ہے ۔  ڈنمارک سمیت یورپی ملک ایسے انسانوں کی  مدد کرنے کی مالی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں پر  امریکی سربراہی میں نیٹو کے جنگی طیاروں کی بمباری سے تو کسی نہ کسی طرح بچ گئے ہیں لیکن اب وہ جس صورت حال میں مبتلا ہیں، اس میں وہ بے یار و مددگار ہوچکے ہیں۔  ۔ ترکی میں ان  بے خانماں مہاجرین کو ’’ حراستی کیمپوں ‘‘ میں تو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے لیکن اُن کی ضروریات کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ۔ فی الوقت اِن مہاجرین کو جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی شامل ہیں، ہر قسم کی ضروریات زندگی درکار ہیں ۔ انہیں خوراک، موسم کے لحاظ سے کپڑے، طبی امداد و ادویات  اور بہتر رہائش درکار ہے،  جہاں وہ اپنے بال بچوں کو بلوا کر اُن کے ساتھ رہ سکیں ۔

انسانی ہمدردی  کے تحت مہاجرین کی بہتری اور فلاح و بہبود کی بجائے ’’ نئی جنگوں ‘‘ کے لئے میدان ہموار کئے جا رہے ہیں ۔  نیٹو امریکہ کی شہ پر مشرقی یورپ میں  قدم جما رہا ہے جہاں سے وہ  روس کو مشتعل کرنے کے لئے اپنی طاقت کا اظہار کر رہا ہے۔  امریکہ لیبیا میں دوبارہ بمباری کر رہا ہے ۔ نیٹو کے جنگی بجٹ میں ، ضرورت کے مطابق، جہاں تک ممکن ہو اضافہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ڈنمارک نے اس پر ابھی ہی سے آمین کہہ دی ہے ۔ ڈنمارک اس مقصد کے لئے  غیر ممالک کی خاطر اپنی ترقیاتی امداد میں پہلے ہی کمی کر چکا ہے۔  اُس نے اس میں مزید کٹوتیوں کا اعلان  بھی کیا ہے۔  ڈنمارک اربوں کرونا کے جدید ٹینک اور دیگر بکتر بند گاڑیاں خرید چکا ہے۔  اب وہ  تیس ارب کرونا مالیت کے جنگی لڑاکا طیارے بھی خرید رہا ہے ۔

یہ پاگل پن یہیں ختم ہونا چاہیے ۔ اور  اسلحہ و گولہ بارود پر خرچ کئے جانے والے اِن اربوں، کھربوں کرونر کوسسکتی ہوئی انسانیت کے بچاؤ اور تحفظ کے لئے کے استعمال کیا جانا چاہیے ۔ نیٹو کے دوسرے ممالک سمیت ڈنمارک کو فوجی تخفیف اسلحہ کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے سماجی بہبود کو فروغ دینا اور انسانیت کی فلاح کے لئے آگے بڑھنا چاہیے ۔

(نصر ملک ڈنمارک سے شائع ہونے والے  urduhamasr.dk کے مدیر اعلیٰ ہیں اور کوپن ہیگن میں رہتے ہیں)