عوامی مسائل میں حصہ داری
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 11 / اپریل / 2016
- 5271
یہ عجب اتفاق ہے کہ ایک جانب ملک کی نو ریاستوں میں سوکھا پڑا ہے اور کسان حد درجہ متاثر ہے تو وہیں پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن ہو رہے ہیں۔عجب اتفاق ہم نے اس لیے کہا کہ انتخابی موسم ہی تو دراصل وعدوں اور جملوں کا موسم بہار ہوتا ہے۔لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ وہ کون سی بات ہے کہ جس کے نتیجہ میں گزشتہ کئے گئے وعدے پورے نہ کرتے ہوئے بھی مزید وعدوں اور جملوں کے بیان کرنے میں دقت نہیں ہوتی بلکہ حوصلہ بھی ملتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ دور جمہوریت اور جمہوری نظام کا دور کہلاتا ہے۔جہاں عوام اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے کہ عوام چونکہ اپنی پسند کا نمائندہ خود منتخب کرتے ہیں،لہذا اس کی پسند کے سابقہ و موجودہ نمائندے بتاتے ہیں کہ اگر وہ ان کو منتخب کر لیں گے تو وہ کیا کچھ ان کے لیے کریں گے ۔پھر یہی وجہ انتخاب انہیں یہ حوصلہ اور جرات بھی بخشتی ہے کہ وہ مزید وعدے اور جملے عوام کے درمیان عوامی جلسوں میں اداکریں۔ جمہوری نظام میں ہم سب اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ جہاں سیاسی لیڈر وعدے کرنے اور جملے بازی سے نہیں ہچکچاتے ، وہیں عوام بھی اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں۔غالباًیہی وجہ ہے کہ وہ بھی سیاسی جلسوں کو سیاسی جملے بازی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ یہ یقین بھی کر چکے ہیں کہ ان جلسوں میں کیے گئے وعدے حقیقتاًپورے نہیں ہوں گے۔اس کے باوجود چونکہ سیاست سے ہمارا براہ راست یا بلاواسطہ تعلق استوار ہوتا ہے لہذا خوشی یا ناپسندیدگی کے ساتھ ،ہمیں بھی اس مرحلے سے گزرناپڑتاہے۔دوسری جانب ووٹ حاصل کرنا اور ووٹوں کی گنتی کی بنیادیں بھی وہ نہیں ہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں۔
یہ پوری تصویر جو پیش کی گئی ہے ، یہ دلچسپ بھی ہے تو وہیں حد درجہ تشویشناک بھی ہے ۔ ہماری تشویش بھی بس یہی ہے کہ عوام کے پیش نظر ووٹ دینے اور نہ دینے ،حکومت کے انتخاب اور ردّکے جو پیمانے قائم ہوتے جا رہے ہیں ،مستقبل قریب میں وہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔حالات کے پیش نظر صاف ستھری زندگی گزارنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایک بار پھر اپنی فکر و نظریہ پر نظر ثانی فرمائیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر شخص سیاسی جماعت سے وابستہ ہو یہ لازم نہیں ہے۔اس کے باوجود ہر شخص سیاسی میدان میں جاری کھیل سے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی مرحلہ میں متاثر وملوث ہے۔ اس لئے اپنا کردار بخوبیادا کرنے کی کوشش ضروری ہے۔
گزشتہ دنوں امام کعبہ ہندوستان تشریف لائے۔ان کی آمد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے باعث خوشی ہے۔جس تپاک سے ہندوستانی مسلمانوں اور مختلف مسالک کے علماء کرام نے ان کا استقبال کیا ہے ، وہ قابل دید تھا ۔امام حرم سے محبت ،ان کی عزت اوران کا تقدس امت مسلمہ میں اگر پایا جاتا ہے تواس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بذات شخص مقدس ہیں بلکہ یہ تمام دلچسپیاں اور محبتیں جو چھلکتی ہیں تو صرف اس بنا پر کہ وہ اُس مقدس مقام سے وابستہ ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی دیگر عبادت گاہوں میں اعلیٰ ترین مرتبہ عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مقام حرم کو پرامن حرم بنایا ہے، ایک ایسی پر امن جائے قیام جہاں ہر طرح کے ثمرات عطا ہوتے ہیں۔یہی بات قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:کہ "کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے(القصص:۵۸-۵۷)۔لہذا اہل حرم،خادم حرمین و شریفین اور ائمہ حرمین،جو بارہا حکومت کی جانب سے طے شدہ مقاصد کے تحت مختلف ممالک کا دورہ کرتے ہیں،ان تمام کو اس آیت کی روشنی میں نہ صرف اپنی حقیقی حیثیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں قوت باطلہ کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہئے،جن کے شر سے آج پوری دنیا میں فسادبرپا ہے۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو جو محبت اور عزت امت مسلمہ سے آج انہیں حاصل ہے، وہ بھی نہیں رہے گی۔اگر انہوں نے قوت باطلہ کا آلہ کار بننا پسند کیا ،تو مجموعی طور پر امت مسلمہ بھی انہیں مسترد کرنے پر مجبور ہوگی۔اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:"شد رحال (بغرض ثواب رخت سفر باندھنا) صرف تین مسجدوں ہی کی طرف کیا جائے ۔مسجد حرام، میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)"(صحیح بخاری)۔اور یہ سب جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مسجد شعب یا مسجد جمیزہ کی طرف شد رحال کر کے جائے گا تو ہم کہیں گے کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شد رحال صرف تین مسجدوں ہی کی طرف کیا جائے۔ اگر حرم کی ہر مسجد کی طرف شد رحال جائز ہوتا تو پھر دسیوں بلکہ سینکڑوں مسجدوں کی طرف شد رحال جائز ہوتا۔پس یہ حدیث کافی ہے امت مسلمہ کے لیے اور آئمہ ولیڈران امت کے لیے بھی کہ وہ اپنی حیثیت اور حدودِ شرعی کا پاس و لحاظ رکھیں۔
آخری بات جو قابل تذکرہ اورقابل تعریف ہے،وہ بہار حکومت کا شراب نوشی پر مکمل پابندی کا اعلان اور پہلے مرحلہ میں مکمل عمل درآمد ہے۔اس کے باوجود ام الخبائث سے پاک ریاست کا تصور تب ہی ممکن ہے جب ریاست کے شہری بھی حکومت کے فیصلہ کوتعاون فراہم کریں۔واقعہ تو یہ ہے کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ساتھ ہی ان تمام نشہ آور اشیاء کو بھی جو انسان کو خیر و فلاح سے نکال کر شروفساد میں مبتلا کرنے والی ہیں۔اس کے باوجود حددرجہ افسوناک صورتحال یہ ہے کہ تمام ہی مقامات پر مسلمانوں کی نسل نو اس نشہ کی لت میں مبتلاہوتی جا رہی ہے ۔اور اگر عام شہریوں کی بات کی جائے تو ان کی اکثریت نہ اس کو برائی مانتی ہے،نہ اس کے سامنے حرام و حلال کا مسئلہ ہے اور نہ ہی معاشرتی سطح پر اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔اس کے برعکس ان کے یہاں شراب عام مشروب کی طرح استعمال کی جاتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ صحت کے نقطہ نظر اور خاندنی مسائل میں وہ اس کو مضر سمجھتے ہیں۔
جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ عوام کے لیے بھی سود مند ہو تو پھر عوام بھی بھرپور انداز میں تعاون کرتے ہیں۔ اس صورت میں ملک کی راجدھانی دہلی پر نظر ڈالی جائے تو یہاں بھی شراب پر پابندی نہیں ہے۔حالانکہ ملک کی راجدھانی ہ ہونے کی وجہ سے اسے مثالی ہونا چاہیے۔ لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ اس حوالے سے مسلمان کوششوں کا آغاز کرسکتے ہیں۔