2018ء کے انتخابات کے بعد کا منظر
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 12 / اپریل / 2016
- 4790
( فرخ سہیل گوئندی نے قارئین کی سہولت کے لئے 2018ء کے انتخابات کے بعد کی صورتِ حال پر یہ کالم 2016 میں ہی لکھ دیا ہے۔ ایک تخیلاتی کالم ہے۔ کالم نگار اپنے تجربے اور مطالعے کی بنیاد پر اس Scenario کو دو سال قبل پیش کر رہا ہے۔)
قومی انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوریت اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔ ایک ایسی پارٹی (پاکستان تحریک انصاف) جو 2008ء کے انتخابات تک کسی سطح پر بھی اپنی انتخابی طاقت بنانے میں ناکام نظر آرہی تھی، آج وہ پارٹی پاکستانی سیاست میں پیش پیش ہے۔
گو 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی نتائج کے ذریعے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی، لیکن وہ قومی سطح پر حکومت بنانے کے لیے تو درکنار پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حیثیت سے بھی بیٹھنے سے قاصر رہی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ایک طرف پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت کے ذریعے اقتدار کی سیاست کے داؤ پیچ سیکھے تو دوسری طرف قومی سطح پر مسلم لیگ (ن) اور اس کی حکومت کے خلاف شدت کے ساتھ ایک اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی اس دوران اپنے ’’معاملات‘‘ سدھارنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو وقتاً فوقتاً لاحق خطرات میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے اقتدار کی گرتی دیوار کو سہارا دیتی رہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان کی سیاست کے تضادات سے کھیلنے کا فن جانتے ہیں، اسی لیے گزشتہ انتخابات سے پہلے انہوں نے اقتدار کے حقیقی مراکز کو اپنے پیغامات کے ذریعے ’’وفاداری‘‘ کا یقین دلانا شروع کر دیا۔ خصوصاً پنجاب میں آپریشن اور پاناما پیپرز کی اطلاعات کے بعد انہوں نے اقتدار کے مراکز کو یقین دلا دیا کہ ’’سرکار ہم حاضر ہیں۔‘‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نےبھی اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ہم جمہوری پاکستان کے لیے کسی کے ساتھ بھی اتحاد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار، پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی کے ساتھ حکومت سازی کے سوال پر رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف گو صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب سے ایک بڑی جماعت بننے میں کامیاب ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سب سے بڑی اتحادی پاکستان پیپلزپارٹی ہی نظر آرہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اسّی کے قریب اور پاکستان پیپلزپارٹی کی ساٹھ کے قریب سیٹوں کے بعد دونوں جماعتوں میں حکومت میں شراکت کے حصے طے ہونا باقی ہیں۔ مسلم لیگ (ق)، آزاد امیدوار، ایم کیو ایم، پاک سرزمین پارٹی، جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور اے این پی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کے عظیم تر مفاد اور جمہوریت کی بہتری کے لیے حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران، عمران خان یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ماضی کے گلے شکوے دہرانے کی بجائے پاکستان کے مستقبل کی طرف گامزن ہونا چاہتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پارٹی کے عہدیداروں کو سختی سے منع کیا ہے کہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں کے خلاف بیان بازی بند کر دیں۔ انہوں نے دو روز قبل بھرپور پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف لوٹ مار، کر پشن اور بیرون ملک دولت لے جانے کے خلاف مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ قانون وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سمیت کسی اعلیٰ شخصیت کو اپنی گرفت میں لے گا، پنجاب میں جاری آپریشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کے جن اعلیٰ لیڈروں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے، عبوری وزیراعظم ریٹائرڈ جنرل حاکم نواز جنجوعہ نے ان مقدمات کی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح میٹنگ بھی منعقد کی ہے۔
وفاقی حکومت کے قیام سے پہلے سیاسی منظر نامہ بالکل صاف نظر آرہا ہے کہ پنجاب میں، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ق)، آزاد اور مسلم لیگ (ن) سے نالاں اراکین اسمبلی مل کر اپنی حکومت بنائیں گے، جس میں وزارتِ اعلیٰ کی پگ جنوبی پنجاب کے حصے میں آئے گی۔ وفاق میں اقتدار کی تقسیم سے پہلے پنجاب میں اقتدار کی تقسیم حکومتی تشکیل کی واضح تصویر پیش کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہر طرح سے اس کوشش میں ہے کہ وزارتِ اعلیٰ کی پگ ان کے حصے آئے، جس کے لیے مخدوم احمد محمود اور میاں منظور احمد وٹو کے درمیان سخت کشمکش جاری ہے، جبکہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کے اشارے نہ ملنے پر مخدوم شاہ محمود قریشی پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے طاقتور امیدوارہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کو پاکستان کے اقتدار کے مراکز کے علاوہ واشنگٹن کے دوستوں نے بھی حمایت کا یقین دلایا ہے۔
پاکستان کے صدر مملکت جناب ممنون حسین جن کا عہدۂ صدارت اکتوبر 2019ء میں ختم ہو گا اور وہ اس نئی حکومت کے قیام کے پہلے سال صدر ہوں گے۔ انہوں نے اس دوران مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاق میں حکومت بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کو مواقع فراہم کیے ہیں۔ سپیکر کے لیے پاکستان تحریک انصاف سے شفقت محمود اور چودھری محمد سرور طاقتور امیدوار ہیں اور اب انتظار اس بات کا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے بعد وزارتِ عظمیٰ کی پگ کس کے سر بندھتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے اپنی مخصوص طرزِ سیاست کے تحت پتے کھیلنے شروع کر دیئے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن اور پاکستان کے اقتدار کے مراکز کو یقین دلایا ہے کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کچھ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے ’’غیر محسوس انداز‘‘ میں واشنگٹن اور پاکستان کی مسلح افواج کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ عمران خان چوں کہ شروع سے ہی طالبان اور شدت پسندوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، اس لیے ان کے وزیراعظم بننے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگا۔ آصف علی زرداری اس فارمولے پر کام کر رہے ہیں کہ اگر وزارتِ عظمیٰ پاکستان پیپلزپارٹی کو دے دی جائے اور وہ اس کے لیے اپنے آپ کو ایک ایسا سربراہ حکومت ثابت کر سکتے ہیں جو کہ شدت پسندی کے خلاف بھرپور اور کھل کر کردار ادا کریں گے۔ اس کے لیے انہوں نے اس منصوبے پر کام جاری کر دیا ہے کہ اگر صدر ممنون حسین کی جگہ صدارت پر پاکستان تحریک انصاف کے قائد جناب عمران خان آجائیں تو سیاست اور جمہوریت کا شاندار توازن قائم ہو جائے گا۔
پاکستان کی انہونی جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی کے قائد عابد حسن منٹو نے کہا ہے کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ پاکستان کی اشرافیہ ، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور نودولتی کلاس کا ایک ڈھونگ ہے۔ حقیقی جمہوریت پاکستان کے محنت کشوں اور درمیانے طبقات کی نمائندگی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے انتخابی نتائج میں بننے والی اسمبلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2002ء کے انتخابات سے آج تک منتخب ہونے والی اسمبلیوں میں وہی لوگ منتخب بار بار ہو کر آئے ہیں، فرق صرف ان کی جماعتیں بدلنے تک ہے۔