یورپی یونین : نوجوانوں کا غیر مستحکم مستقبل

یورپی یونین کے رکن ممالک میں فی الوقت پچیس سال سے کم عمر والے 43 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔ باالفاظ دیگر یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ملکوں میں ہر  پانچواں نوجوان بیروز گار ہے ۔ یونان میں بیروزگار نوجوانوں کی شرح تناسب اڑتالیس عشاریہ نو فیصد ہے جب کہ ڈنمارک میں  ہر تیسرا نوجوان بے روزگاری کا شکار ہے۔

یورپی یونین کا یہ مؤقف کہ یونین کے ممالک میں آزادانہ نقل مکانی اور  ایک ملک سے کسی دوسرے ملک میں روزگار اختیار کرنے کا حق، بیروزگاری کے خاتمے اور نئی روزگاری جگہیں پیدا کرنے میں معاونت کر رہا ہے،  بیروزگاری کی موجودہ شرح تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے سراسر غلط ثابت ہو رہا ہے ۔  یونین کے رکن ممالک میں  بیروزگاری سے بیزار لوگوں کا بہتر مستقبل کے لیے اپنے ملک سے کسی دوسرے ملک جانا،  صنعتی سرمایہ داروں کے لیے تو بہتر ہو سکتا ہے لیکن اس سے یورپی یونین کے نوجوانوں اور دوسرے عام شہریوں کو  قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ۔ اور نہ ہی ان ممالک  کے صنعتی شعبوں میں  پیشہ وارانہ اہلیت رکھنے والے کارکنوں کی کمی کو پورا کرنے میں کوئی مدد مہیا کر رہا ہے ۔

دوسری جانب یونین کے رکن ملک سستی افرادی قوت کے لیے درپردہ صنعتکاروں کو  سستے کارکن مہیا کر رہے ہیں ۔  اس سلسلے میں یونین میں شامل مشرقی یورپ کے سابق کمیونسٹ ممالک کے کارکنوں کی مثال دی جا سکتی ہے جو یونین کے امیر ملکوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں مقامی کارکنوں کے مقابلے میں کم اجرتوں پر کام کرتے ہیں۔ 

یورپی یونین کے اپنے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ  یونین کے رکن ممالک میں بحیثیت مجموعی موجودہ نوجوان نسل اپنے والدین  اور ان سے پہلےکی نسل کے مقابلے میں بازار روزگار میں نہ صرف کم حقوق رکھتی ہے بلکہ اجرتوں کے معاملے میں بھی یہ نوجوان نسل بہت پیچھے ہے ۔  مثلاً سنہ 2007 سے  نوجوانوں کے لیے کم سے کم تنخواہوں میں ایک فیصد کمی ہو چکی ہے اور اس کے عمومی سطح پر بحال ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔

یورپی یونین میں وہ نسل جو اب نوجوان ہے یا جوان ہو رہی ہے وہ  اپنے آبا کے مقابلے میں کسی بھی لحاظ سے وہ قابلیت و اہلیت نہیں رکھتی جو فرد کو بازار روزگار میں  متحرک رکھنے اور روزگار سے جڑے رہنے کے لیے لازمی ہوتی ہے ۔ دوسری جانب یونین کے رکن ممالک کی حکومتیں یونین کی سطح پر صرف اجتماعی اقدامات کے لیے تو زور دیتی ہیں لیکن خود اپنے  ہاں نوجوانوں کے لیے پیشہ وارانہ تعلیمی و  تربیتی اقدامات کا کوئی بندوبست نہیں کرتیں یا بہت ہی کم کرتی ہیں ۔ اور یوں ان نوجوانوں میں مایوسی اور احساس کمتری مزید بڑھتا جا رہا ہے ۔ 

ڈنمارک سمیت یونین کے بیشتر ممالک میں  تعلیمی حلقوں میں کٹوتیاں اوراسی ضمن میں تعلیم، فارغ اوقات کی سرگرمیوں اور بازار روزگار کے حلقوں میں کی جانے والی سختیوں سے ان نوجوانوں میں مزید مایوسی پھیلتی جا رہی ہے ۔  یورپی روزگار کی منڈی اور اقتصادی ماہرین و تجزیہ کار اس پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ نوجوانوں کو بالخصوص اور عام شہریوں کو بالعموم صورت حال کی تبدیلی  کے لیے محض اپنے اپنے ملک کی حکومتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ حکومتیں جس طرح نت نئے اقدامات کے تحت مختلف پیداواری شعبوں اور تعلیمی و تربیتی حلقوں میں کٹوتیاں کر رہی ہیں اور سختیاں پیدا کر رہی ہیں اُن سب کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے خود جدوجہد کرنا ہوگی۔ 

تاریخ گواہ ہے کہ سرمایہ دارانہ حکمت عملی کے تحت اٹھائے گئے اقدامات  پائیدار  نہیں ہوتے اور انہیں استحکام حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ جلد یا بدیر  اپنا اثر کھو دیتے ہیں ۔ لازم ہے کہ یورپی یونین کے نوجوان اور خاص کر ڈینش نوجوان اپنے مستقبل کو تاریکی سے بچانے کے لیے اور خود کو مایوسیوں کے بھنور سے نکالنے کے لیے کمر بستہ ہوں۔ انہیں  باقاعدہ منظم ہو کر اپنی تنظیموں کے تحت تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔

(نصر ملک اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے ایڈیٹر ہیں)