پاناما پیپرز کا ہنگامہ
پاناما پیپرز کے منظر عام پر آتے ہی پوری دنیا کے سیاست دان ، بزنس مین اور مجرموں میں ایک زلزلہ سا آگیا ہے۔کہیں کوئی استعفیٰ دے رہا ہے تو کوئی اپنی صفائی تو کوئی منہ بند کئے بیٹھا ہے۔ سب سے زیادہ پریشانی سیاستدانوں کو ہو رہی ہے۔ وہ بھی چند ملکوں میں جہاں جمہوریت فعال ہے اور عوام کی آواز میں زور ہے۔تاہم پاناما پیپرز کے منظرِعام پر آنے سے جتنا ہنگامہ ہوا تھا وہ دھیرے دھیرے تھمتا بھی جا رہا ہے ۔
پچھلے ہفتے جب ایک ایڈووکیٹ فرم (Mossack Fonesca)موزیک فونیسکا کے آفس کے کمپیوٹر سے چند صحافیوں نے ہزاروں دستاویزات نکال کر دنیا کے سامنے پیش کیا تو پھر کیا تھا تو ایسا لگا جیسے دنیا کے تمام سیاستدان چور ہیں۔ اس فائل میں یہ شائع کیا گیا ہے کہ کس طرح سیاستدان، بزنس مین اور مجرم غیر قانونی طور پر پیسے کو چھپا رکھا ہے اس کے علاوہ ٹیکس دینے میں بھی دھاندلی کر رہے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ اب تک خفیہ پیپرز کے منظر عام پر لائے جانے کا سب سے بڑا واقع ہے۔ اس سے پہلے (Wikileaks)ویکی لیکس نے ایسا ہی قدم اٹھایا تھا جس میں دنیا کے کئی اہم ملکوں کے سیا ستدان اور خفیہ ایجنسیوں کے نام منظر عام پر لاآئے تھے۔ جس سے امریکہ سمیت کئی ملکوں کے لیڈروں کے ہوش اڑ گئے تھے۔کہا جارہا ہے کہ ویکی لیکس کے پیپرزکی تعداد سین فرانسیسکو کی آبادی کے برابر تھی جبکہ پاناما پیپرز کی تعداد شاید ہندوستان کی آبادی کے برابر ہے اور جسے پورے طور پر منظرِ عام آنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔
فی الحال پاناما پیپرز میں بارہ ایسے اہم لوگوں کا نام آیا ہے جن کا تعلق مختلف ممالک سے ہے، اس کے علاوہ ساٹھ سے زیادہ سیاستدانوں کے رشتہ داروں کا بھی نام بتا یا گیا ہے۔ ارجنٹائن کے صدر ماوریسو مارکی، سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ،یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو، آئس لینڈ کے وزیر اعظم سیگموندور گننا لاوفسن،متحدہ عرب امارات کے صدر خلیفہ بن زید، جارجییا کے سابق صدر بیدجینا یواننیشالی، عراق کے سابق صدر ایاد علّوی ،اردن کے سابق وزیر اعظم علی ابو ال راغیب، قطر کے سابق وزیر اعظم حماد بن جسیم، قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ، سوڈان کے سابق صدر احمد علی المرغانی اور یوکرین کے سابق وزیر اعظم پاولو لازارینکا کے نام اب تک منظر عام پر آئے ہیں۔اس کے علاوہ چین کے صدر زی زن پینگ، یوکرین کے صدر پیٹرو پوریشینکو ، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بچوں کا نام بھی شامل ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا نام بھی سرخیوں میں ہے جن کے بارے میں شک کہا جارہا ہے کہ انہوں نے دو ارب ڈالر کی رقم کو چھپا رکھا ہے۔تاہم روس کے صدر کے ترجمان نے کہا کہ پاناما پیپرز ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس میں روس کے صدر کو بدنام کیا جارہا ہے۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ یہ کام امریکی سی آئی اے کے کسی سابق ملازم کا ہے جو امریکہ کے اشارے پر یہ کام کررہا ہے۔ اس اسکینڈل میں فٹ بال کی ورلڈ گورننگ باڈی فیفاکے عہدیداران کا نام بھی شامل ہے۔ جن میں یوروگوئے کے وکیل اور فیفا باڈی کے ممبر جوان پیدرو دامینی ایک ایسے ممبر ہیں جنہوں نے اس کمپنی کے موکل کو قانونی مدد دی تھی۔ شک کیا جارہا ہے کہ وہ براہ راست یا با لواسطہ طور پر اس اسکینڈل میں ملوث ہیں۔
معروف ارجنٹینا فٹبالر لائنل میسی کا بھی نام پاناما پیپرسزمیں پایا گیا ہے جنہوں نے کروڑوں ڈالر کی رقم آف شور کمپنی میں چھپا رکھی ہے۔ اس کے علاوہ بارسولینا ، رائیل میڈریڈ اور مانچسٹر یونائٹیڈ فٹ بال کلب کے کئی فٹبالروں نے موزیک فونیسکا کمپنی کے ذریعے اپنی رقم کو ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لئے چھپا رکھا ہے۔
ایک جرمنی اخبار (Sueddeutsche Zeitung) دودیدے سائی زوئینگ نے موزیک فونیسکا کمپنی سے گیارہ میلین دستاویزات سب سے پہلے حاصل کیں ۔ ان دستاویزات میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سے موزیک فونیسکا کمپنی نے اپنے گاہکوں کے پیسے کو چھپانے اور ٹیکس بچانے میں مدد کی ہے۔ اس اخبار نے ان دستاویز ات کو انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹی گیٹنگ جرنلسٹس
(International Consortium of Investigative Journalists)کے حوالے کیا ہے اور ان کے ساتھ مل کر اس کی جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جس میں دنیا کے 76ملکوں کے 107 میڈیا آرگنائزیزیشنز مل کر اس کی جانچ پڑتال کریں گی۔ان میں برطانیہ کا معروف اور قدیم اخبار (The Guardian) دی گارڈئین بھی شامل ہے جو اس پورے پیپرز کا لگ بھگ ایک سال میں تجزیہ کرے گا۔ ایک ذریعے کے مطابق پاناما پیپرسزکا سائز 2,600GBگیگا بائٹ ہے جو کہ ایک بہت بڑی اورکثیر فائل ہے ۔
دی ٹائمز (The Times) جو کہ برطانیہ کا ایک معروف اخبار ہے اس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد ائین کیمرون (Blairmore Holdings)بلیمور ہولڈنگس کے ڈائریکٹر تھے اور جنہوں نے موزیک فونیسکا میں ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لئے غیر قانونی طور پر اس کمپنی کے ذریعے اپنی رقم کو چھپا رکھا تھا۔اس کے بعد کئی اخباروں نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے سیدھے سیدھے یہ سوال پوچھا کہ ’وزیر اعظم کیا آپ نے اپنے والد کی رقم کو چھپا رکھا ہے جس کی آپ وضا حت نہیں کر رہے ہیں‘؟
(The Daily Telegraph)دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے لئے یہ شرمناک بات اور بہت ہی مشکل گھڑی ہے کیونکہ اگلے مہینے وہ لندن میں (anti-corruption summit)اینٹی کرپشن سمٹ کی میزبانی کرینگے جس میں خیال ہے کہ وہ ٹیکس کی چوری کے خلاف تقریر کرینگے ۔ اور اس کو صاف و شفا ف کرنے کا بھی مشورہ دینگے۔ سوموار کو برطانوی پارلیمنٹ میں ڈیوڈ کیمرون نے پاناما پیپرز اسکینڈل پر اپنی وضاحت کے لئے ایک خاص اجلاس بلایا اور پارلیمنٹ کو بتا یا کہ بلا شبہ ان کے والد نے موزیک فونیسکا کمپنی میں اپنی رقم کو رکھا تھا۔ انہیں اس بات سے سخت تکلیف پہنچی ہے کہ ان کے والد کو بدنام کیا گیا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ان پیسوں پر جو ٹیکس ہوتا تھا اسے ادا کر دیا ہے۔ لیکن لیبر پارٹی کے ایک معمر ایم پی ڈینس اسکینر نے ڈیوڈ کیمرون کو ’دھوکے باز ڈیوڈ ‘کہہ کر سوال پوچھا جس پر اسپیکر نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ڈینس اسکینر سے اپنے جملے کو واپس لینے کو کہا۔ ڈینس اسکینر نے اپنے جملے کو واپس لینے سے انکار کر دیا جس پر اسپیکر نے انہیں پارلیمنٹ سے بحث میں مزید حصہّ لینے سے روک دیا اور انہیں پارلیمنٹ سے معطل کر دیا۔
پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ دستاویزات میں بتا یا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کے بیٹے حسن ، حسین اور بیٹی مریم نے پیسہ چھپا رکھا ہے۔حزب اختلاف کی پارٹیاں اس معاملے میں جانچ کی مانگ کر رہی ہیں اور معروف کر کٹر اور پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے لیڈر عمران خان نے میاں نواز شریف کو اخلاقی طور پر فوراً استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ میاں نواز شریف کو بتا نا پڑیگا کہ کس طرح سے ان کے بچوں نے کروڑوں ڈالر جمع کئے۔ اب تک پاناما پیپرز میں لگ بھگ دو سو پاکستانیوں کا نام ظاہر ہوا ہے جن میں بزنس مین، سیاستدان اور عدلیہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتا یا ہے کہ ہندوستان کے لگ بھگ پانچ سو لوگوں کے نام پاناما پیپرز میں شامل ہیں جن میں فی الحال معروف فلم اداکار امیتابھ بچن اور ایشوریا رائے کا نام قابل ذکر ہیں۔ امیتابھ بچن 1993سے لگ بھگ چار شپنگ کمپنی کے ڈائریکٹر مقرر کئے گئے ہیں۔ لیکن امیتابھ بچن نے اس معاملے میں کوئی جواب دینے یا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ایشوریا رائے نے ان باتوں کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اسے غلط بتا یا ہے۔دریں اثناء وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جسے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ پاناما پیپرز میں پائے جانے والوں لوگوں کی چھان بین کرے اور ان کا نام شائع کرے۔
اس معاملے میں موزیک فونیسکا کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی پچھلے چالیس برسوں سے کام کر رہی ہے اور کبھی بھی ان کی کمپنی پر مجرمانہ یا غلط کام کرنے کا الزام نہیں لگا ہے۔ موزیک فونیسکا کمپنی کے پیپر ز لیک ہونے سے آئس لینڈ اور یوکرین کے وزیر اعظم نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے اور درجنوں سیا ستدان ابھی تک اپنی غلطی تسمیم کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ یہ امکان نہیں ہے کہ پاناما پیپرز سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکلے گا ۔ بلکہ ایک شور ضرور بلند ہؤا ہے پھر یہ شور دھیرے دھیرے تھم جائے گا۔کیونکہ عام آدمی کو اپنے پیٹ کی فکر لگی ہے۔ وہ شاید پاناما پیپرز جیسے اسکینڈل سے اپنی بھوک کو کبھی نہ مٹا پائے گا۔