پاناما لیکس اور اعتزاز احسن کی سیاسی پھرتیاں
اکیسویں صدی کیا آئی وقت کی رفتار کو تو جیسے پر لگ گئے ہیں۔ ساری دنیا میں سیاسی اور غیر سیاسی معاملات اس تیزی سے اور یکے بعد دیگر ے وقوع پزیر ہو رہے ہیں کہ ان پر رائے زنی اور تبصرہ کرنا تو دور کی بات ان کا فالو اپ رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔دہشت گردی کے واقعات ، مڈل ایسٹ کے مختلف ممالک پر مغربی ممالک کے حملے، جنگیں، مختلف ممالک کی حکومتوں کی تبدیلیاں اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ۔اس کا ایک سبب شاید یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا میں عالمی سطح پر واحد قوت امریکہ ہے اور وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی فی الحال کوئی دوسرا ملک امریکہ کی برابری کی جرات کر سکتا ہے۔
پاناما لیکس کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اس فہرست میں چونکہ کسی امریکی شہری کا نام شامل نہیں اس لئے ممکن ہے یہ کام بھی امریکہ بہادر ہی کی کارستانی ہو ۔یہ جس کسی بھی کارستانی ہو، اس کی وجہ سے بہت سے ملکوں میں بھونچال ضرور آئے ہیں۔ ویسے بھی بحث اس بات پر نہیں کہ یہ کاغذات کس نے لیک کئے ہیں بلکہ اس بات پر ہونی چاہیئے کہ آیا یہ معلومات قابل ِ اعتبار ، معتبر اور صحیح ہیں۔
یہ بات کبھی بھی راز نہیں رہی کہ دولت مند پاکستانیوں کے پاکستان سے باہر بھی غیر قانونی بینک اکاؤنٹس ہیں ا ور ان میں خطیر رقوم جمع ہیں۔یہ بات پہلی مرتبہ اس وقت کی گئی جب ملک میں صرف بائیس سرمایہ دار خاندان تھے اور اب تو ان خاندانوں کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہو گی۔فوجی صدر ایوب خان، سیاسی وزیر ِ اعظم ذولفقار علی بھٹو اور حتیٰ کہ فوجی صدر ضیا الحق تک ، کسی حکمران کے بیرون ِ ملک اکاؤنٹس کے بارے میں کبھی کوئی خبر نہیں آئی، اور شاید ان کے اکاؤنٹس تھے بھی نہیں۔ پیپلز پارٹی کے تیسرے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور ِ حکومت میں پہلی مرتبہ یہ خبریں آئیں کہ حکمران پیسے بنانے میں مصروف ہیں اور بیرون ملک ان کے مختلف اثاثے اور اکاؤنٹس ہیں۔ دوسرے اور کتنے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس ہیں اور ان میں کتنی رقوم جمع ہیں اس بارے میں آئے دن متضاد خبریں آتی رہتی ہیں اور متعلقہ پاکستانیوں کی جانب سے اس کی تردید بھی ایک معمول ہے۔
پاکستان سے باہر کسی پاکستانی کا بنک اکاؤنٹ رکھنا اور اس میں ایک مناسب حد تک سرمایہ رکھنا کوئی جرم نہیں کہ خود ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ مشکل وہاں پیش آتی ہے جب ان اکاؤنٹس میں غیر معمولی رقوم ہو ں اور اس سرمائے کے ذرائع آمدنی نا معلوم ہو ں۔اس کام کے لئے آف شور کمپنیاں استعمال کی جاتی ہیں ۔ وہ آپ کی غیر قانونی رقوم کو چھپانے میں آپ کی مدد کرتی ہیں اور آپ کا نام بھی صیغہ راز میں رکھتی ہیں۔وہ کمپنیاں آپ کی رقوم کو اس طرح مختلف اکاؤنٹس میں استعمال کرتی ہیں کہ اس بات کا سراغ لگانا ناممکن نہیں تو از حد مشکل ضرور ہو جاتا ہے کہ وہ رقوم آئی کہاں سے ہیں۔؟
حالیہ پانا ما لیکس کے بعد پاکستان میں صورت ِ حال شاید اس لئے زیادہ خراب ہو ئی کیونکہ بہت سے بعض مشرقی اور مغربی ممالک اس کی لپیٹ میں آ ئے اور ان میں سے بعض ممالک نے فوری اقدام کئے ۔ ایک دو ممالک میں استعفیٰ دئے گئے تو بعض نے فوراً تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔پاکستان میں پانا ما لیکس کی تحقیق کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھا کیونکہ حکمرانوں کا ابھی تک خیال یہ ہے کہ عوام ابھی اتنے باشعور نہیں ہوئے کہ انھیں ہر بات کے بارے میں بتایا جائے۔ اس لئے ابھی تک ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔پہلے تو قوم سے خطاب میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے ایک عدالتی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا لیکن اپنے خطاب کے فوراً بعد انھیں احساس ہوا کہ انھیں عدالتی کمیشن نہیں بلکہ صرف ایک انکوئری کمیشن بنانا چایئے تاکہ اپنی پسند کے ممبران اس کمیشن کے لئے مقرر کئے جا سکیں۔
ابھی تک کوئی کمیشن تو قائم نہیں ہو سکا مگر طرّہ یہ کہ وزیر ِ اعظم پاکستان ایک پر اسرار طریقے سے، میڈیکل چیک اپ کے نام پر ، ملک سے باہر تشریف لے جا چکے ہیں۔ حالیہ چند مہینوں میں کبھی ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ وہ اپنے میڈیکل چیک اپ کے لئے لندن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حا لانکہ جب کبھی وہ مغرب کے لئے عازم ِ سفر ہوتے ہیں تو لندن کا پروگرام ساتھ ہی رکھ ہی لیتے ہیں کہ ان کے بچے یہاں کاروبار میں مصروف ہیں ، اس بہانے ان سے ملاقات ہو جاتی ہے۔یہ سارا معاملہ اس لئے بھی اور زیادہ پر اسرار ہو جاتا ہے کہ پہلے تو نواز شریف نے اپنے دونوں بیٹوں کو بیرون ملک سے پاکستان طلب کیا ۔اس کے بعد ایک بیٹے کو پہلے دوبئی اور پھر سعودی عرب کے سفر پر روانہ کیا اور خود لندن کے لئے عازمِ سفرہیں۔ اللہ کرے سب خیریت ہو !
پاناما لیکس کی پہلی قسط میں ابھی تک دو ڈھائی سو پاکستانیوں کے نام آئے ہیں اور عجیب اتفاق ہے کہ اس میں دوسرے لوگوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ، موجودہ اور سابقہ، دونوں حکمرانوں کے نام بھی اس کی زینت ہیں۔یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی پاناما لیکس کے اس حمام میں الف ننگے ہیں۔ یہ ابھی کہ پاناما لیکس کی پہلی قسط ہے اس لئے بہت سے لوگوں کو پتہ ہے کہ ا بھی صرف یہ کام شروع ہوا ہے اور بات بہت دور تک جائے گی۔ اس لئے تمام لوگ اپنی چالیں احتیاط سے چلیں گے۔پیپلز پارٹی کے چند ایک نام اس فہرست میں ہیں اور سب سے پہلا نام محترمہ بے نظیر بھٹو کا ہے، اس لئے پارٹی نے ابھی تک کھل کر کوئی لائن نہیں لی اور نہ ہی ، خاص طور پر نواز شریف ،کہ جن کا نام براہ ِ راست ہے بھی اور نہیں بھی ، کو نشانہ بنایا ہے ۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ وزیر ِ اعظم نواز شریف کو براہ ِ راست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما ، مثلاً سابق وزرائے اعظم ، گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ اور سنیٹ کے سابق چیئرمین نیر بخاری، فی الحال اس بارے میں یا تو خاموش ہیں یا کم بول رہے ہیں۔ اور اگر بول رہے ہیں تو صرف اعتزاز احسن ، بلکہ بڑھ چڑھ کر مسلم لیگ (ن) پر وار کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
اگلے روز پہلے قومی اسمبلی اور سنیٹ کے مشترکہ اجلاس میں اور پھر میڈیا پر بھی خوب بولے۔ اپنے تازہ ترین بیان میں تو اعتزازاحسن نے یہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف صرف پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین، آصف علی زرداری کے دربار میں حاضری دینے اور پیپلز پارٹی کی مدد حاصل کرنے کے لئے لندن جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ آصف زرداری ان دنوں بوجوہ ملک واپس نہیں آ رہے اور لندن میں مقیم ہیں اور شاید اسی لئے نواز شریف کو مدد کے حصول کے لئے خود سے لندن جانا پڑ ا ہے ۔ موجودہ حالات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی کے صرف اعتزاز احسن کے تیز اور تلخ بیانات کا کیا سبب ہو سکتا ہے۔؟ کیا وہ واقعی مسلم لیگ (ن) کو حکومت سے نکالنا چاہتے ہیں او ر پیپلز پارٹی کو پنجاب اور پورے پاکستا ن میں اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھی انتباہ کر دیا ہے کہ اس مرتبہ اگر نواز شریف کا ساتھ دیا گیا تو پیپلز پارٹی کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا یہ انتباہ ایک ایسا تیر ہے جو پیپلز پارٹی کے عام کارکن کے سینے پر تو جا کر لگ سکتا ہے لیکن شاید پارٹی کے رہنماؤں پر یہ تیر اثر انداز نہ ہو سکے۔
پیپلز پارٹی ایک مدت سے مصلحت کی سیاست پر کار بند ہے اور اسی مصلحت میں ، پارٹی نہیں ، اس کے رہنماؤں کی بقا ہے۔ پیپلز پارٹی کے تقریباً ہر بڑے رہنما ، بشمول اعتزاز احسن ، پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ ان میں سے بعض کے نام پاناما لیکس کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ اگر اس معاملے میں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی سے مدد مانگے تو وہ انکار کر دے۔ لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں کہ جب افواج ِ پاکستان دہشت گردی ، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور کرپشن کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں یہ خاصا مشکل کام ہو گا کہ دونوں پارٹیاں اپنے طور پر کوئی فیصلہ کر لیں۔ لیکن پھر بھی اگر پیپلز پارٹی کسی نہ کسی طرح مسلم لیگ (ن) کی مدد پر آمادہ ہو جاتی ہے تو مسلم لیگ (ن) کو اس مدد کی بہت زیادہ قیمت چکانی پڑے گی۔ اس صورت میں بیرسٹر اعتزاز ا حسن کا کیا بنے گا؟